مصنوعی اخلاقیات سے ڈیجیٹل اخلاقیات تک
احمد جاوید فرماتے ہیں کہ ”اخلاق“ بھی اکثر المناک بن جاتے ہیں۔ خوش اخلاقی بھی آپ کے لیے بوجھ بن جاتی ہے اگر اس کا مقصد، نظریہ اور محور درست نہ ہو۔ ” مصنوعی اخلاقیات کی بات کی جائے تو ہمیشہ سے یہ ٹول اپنے کام نکلوانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس دور میں جہاں ہر چیز اپنے آپ کو ”اپگریڈ“ کرنے میں جتی ہوئی ہے وہیں ادب، سلیقہ، اخلاق، شائستگی، تہذیب، تمیز، مذاق، حفظ مراتب،
Read more
