عورت جنسی آسودگی کا سامان نہیں کہ مرد کا بستر گرم کرے


جب سے دنیا بھر میں عورتوں کی صنفی بیداری کی تحریکیں شروع ہوئی ہیں، تب سے عورتیں مسلسل شعور و آ گئی کے سفر میں دن بہ دن آگے کی جانب رواں دواں ہیں۔

دنیا بھر میں آزادی نسواں کی تحریکیں اس بات کی کوشش کر رہی ہیں کہ زندگی کے ان شعبوں میں بھی عورتوں کو آگے آنا چاہیے جہاں زمانہ قدیم سے مردوں کی اجارہ داری ہے۔

عورتوں کے مسلسل آگے بڑھتے رہنے سے دنیا بھر میں ان کا ایک مقام بنا ہے۔ یہ مقام انہوں نے خود انتھک محنت سے حاصل کیا ہے۔ تیر جب ایک بار کمان سے نکل جائے پھر واپس نہیں آتا۔ عورتوں نے بھی اپنے حقوق کی بات سے پیچھے نہیں ہٹنا۔ چاہے دنیا بھر کی پدرسری قوتیں ان کا راستہ روکیں۔

پاکستان میں بدقسمتی سے عورتیں باقی دنیا کے مقابلے میں اپنے حقوق کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں عورتوں میں تعلیم عام نہ ہونے کی وجہ سے اپنے حقوق کا شعور نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ پاکستان کا قبائلی مسلمان معاشرہ مصنوعی ذہانت کے سمارٹ دور میں بھی ازمنہ وسطی میں جی رہا ہے۔ جہاں مرد کی حاکمیت کا طوطی سر چڑھ کر بولتا تھا۔ اور عورتوں کو اتنے ہی حقوق حاصل تھے کہ وہ مرد کے لئے جنسی آسودگی کا سامان فراہم کرے، اس کا بستر گرم کرے، اس کا وارث پیدا کرے اور اس کو پال کر بڑا کرے۔ جبکہ خود وہ اپنی زندگی کے تینوں ادوار بچپن، جوانی اور بڑھاپے میں مرد کی تحویل میں رہتی تھی۔

نرگسیت کے مارے ہوئے سماج کے سامنے ایسے مطالبات رکھے جائیں۔ جو بے شک جائز ہوں، لیکن اگر ترجیحات میں شامل نہ ہوں تو پس ماندہ سماج کو آگ لگ جاتی ہے۔ پھر صدیوں پرانی فرسودہ سماجی روایات کی بقا خطرے میں نظر آنے لگتی ہے۔ ایسا بیمار سماج ان کے تقدس کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے تن من دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اور یہی پس ماندہ اقوام کا سب سے بڑا مرض ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستانی مرد آج بھی عورت کو لے کر زمانہ قدیم کے نظریات کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ جب عورت کو چھپانے کی چیز سمجھا جاتا تھا۔ خود لفظ عورت کا معنی بھی ستر یا چھپانا ہے۔

آج بھی پاکستان کے عام سماجی منظر نامے سے عورت تقریباً غائب ہے۔ قبائلی سماج میں آپ کو عورت عام محضر میں بہت کم ملے گی۔ جس کی بنیادی وجہ سماج کا وہ قدیم رویہ ہے جو عورتوں کے حقوق اور اس کی تعلیم کا مخالف ہے۔

یہ قدامت پرست سماج نہیں چاہتا کہ عورت اس کی شانہ بہ شانہ ایستادہ ہو کر کام کرے۔ کیونکہ اس سے اس کی قدیم قبائلی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا سماج صورتحال میں تبدیلی کا خواہشمند نہیں ہوتا۔ اور سٹیٹس کو برقرار رکھنے کا حامی ہوتا ہے۔

پاکستان کے قدیم عرصے سے برقرار دیہی اور قبائلی مردانہ نظام میں عورت کے جدید کردار کے لیے تا حال کوئی جگہ نہیں ہے۔

یہاں ایسا بھی افسوسناک رویہ دیکھنے کو ملتا ہے، کہ جب ایک لڑکی پڑھ لکھ کر تعلیم یافتہ ہو گئی، تو شادی کے بعد اس کی تعلیم کا سلسلہ چھڑا دیا گیا۔ اور اس کی نوکری کرنے کی خواہش کو رد کیا گیا۔ حتی کہ بعض ملازمت پیشہ لڑکیوں کی نوکری بھی شادی کے بعد چھڑائی گئی۔ اور عذر یہ پیش کیا گیا کہ ہمارے خاندان میں عورت کی کمائی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ یا یہ کہ ہمارے خاندان میں عورت جاب نہیں کرتی اور سب بڑھ کر یہ کہ ہماری غیرت برداشت نہیں کرتی۔ وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ جس وقت بہن جائیداد میں حصہ مانگتی ہے اور بھائی حصہ نہیں دیتے تو اس وقت ان کی غیرت کہاں سو جاتی ہے۔

پاکستان کے شہری اور پوش علاقوں کو چھوڑ کر باقی تمام پاکستان میں عورت کی تعلیم اور نوکری کرنے کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔

قبائلی اور دیہی علاقوں کے عام لوگ یہ نہیں سوچ پاتے کہ یہاں خواص بھی تو ہیں۔ وہ کیوں اپنے بچوں کو بلا صنفی امتیاز تعلیم دلاتے ہیں۔

تعلیم اور نوکری کرنے کی حد تک خواص اپنی عورتوں کو سہولت دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ مگر جب بات معاشی مفادات کی ہوتی ہے۔ تو وہاں عورت کو مرد کے برابر نہیں سمجھا جاتا۔ قدامت پسند خواص کی انا اور غیرت زیادہ حساس ہوتی ہے۔

سندھ اور پنجاب کی وڈیرہ کلاس میں عورتوں کے ساتھ صنفی امتیاز کا حامل رویہ اختیار کر کے جو کچھ کیا جاتا ہے۔ وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کو زیر بحث لانے کی ضرورت ہے اور اس پر تنقید و تحقیق کی ضرورت ہے۔ تا کہ ان رویوں کی کوکھ سے جنم لیتی بدبختی اور جبر مسلسل کو بے نقاب کیا جا سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ٹھہرے ہوئے سماج میں صدیوں پرانے رویے، اور اس کی بنیاد پر قائم جبر اور سماجی اقدار آج بھی اپنے آب و تاب اور بڑے فخر کے ساتھ زندہ ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عورتوں کے شعور و اگہی کے آگے بند باندھنے کو غیرت قرار دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اور عورت کے سوال کا جواب تحمل سے دینے کی بجائے جابر اور مسلط سماجی اقدار کا سہارا لینا بند کیا جائے۔ ہمارے مردانگی پرست غیرت مند دانشور عورتوں کے سوالوں پر اسے جاہل کا خطاب نہ کریں اور نام نہاد علمیت جھاڑنے کی کوشش نہ کریں۔

ہمارے معاشرے میں جب سے عورتوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لے کر اپنے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے۔ تب سے انہوں نے اس ٹھہرے ہوئے جوہڑ میں جسے ہم سماج کہتے ہیں پتھر اچھال کر اس میں ہلچل پیدا کی ہے۔ اس ہلچل کو ہماری مردانگی نے چیلنج کے طور پر لیا۔ اور پھر عورتوں کی مساوات کے مطالبے پر آوازے کسے گئے۔ اسے سماجی اقدار سے ننگی بغاوت قرار دے کر در پردہ مغربی طاقتوں کا آلہ کار ثابت کرنے کا بے ہودہ و خود ساختہ انکشاف کیا گیا۔

عورتوں کے اس نعرے ”میرا جسم میری مرضی“ کو لے کر جس قدر ٹرولنگ کی گئی، اس کی مثال دنیا کے پس ماندہ ترین سماجوں میں بھی نہیں ملتی ہوگی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ آگ بگولا ہوئے بغیر ٹھنڈے دل و دماغ سے عورتوں کے مطالبات پر غور کیا جائے۔ اس بارے میں اکیڈمک تحقیق کی راہ ہموار کی جائے۔ تحقیق کی روشنی میں سفارشات مرتب کی جائیں۔ اور بالآخر مشکلات مطالبات اور شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

Facebook Comments HS