سیاسی جماعتوں پر پابندی کیوں؟


قدیم یونان میں ریاستی فیصلے کرنے کا اختیار ہر شہری کے پاس تھا لیکن سقراط نے اس کے خلاف جاکر یہ دلیل دی کہ چونکہ ہر شہری کے پاس عقل و شعور کا وہ لیول نہیں ہو سکتا جو ریاستی فیصلوں کے لئے درکار ہوتا ہے اس لئے تمام شہریوں میں ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جائے جو سب سے زیادہ ہمت و حوصلے اور شعور والے ہوں۔ جب افلاطون نے اپنی آئیڈیل ریاست کا تصور دیا تو اس نے بھی یہ کہا کہ ریاست کے پاورز ان فلاسفر کنگز کے پاس ہونے چاہئیں جن کے پاس باقیوں سے زیادہ علم و شعور ہو۔

ایسے لوگوں کا انتخاب پراپر قانون سازی سے کیا جائے گا۔ اگر میں افلاطونی ریاست کو سوچتے ہوئے پاکستانی ریاست کا تصور ذہن میں لاؤں تو سوچتا ہوں کیا واقعی جو ملک کے چلانے والے ہیں وہ سب سے زیادہ عقل مند اور شعور والے ہیں؟ اگر یہ لوگ شعور رکھتے ہیں تو کیوں یہ ملک کے آئین کو اپنے ہاتھوں سے ہی پامال کرتے ہیں؟ یہ کیسے علم والے لوگ ہیں جو اپنی عوام کے بجائے اپنی حکومت کو بچانے پر یقین رکھتے ہیں اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہوتے۔

حال ہی میں حکومت پاکستان نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس کی شروعات تو انہوں نے کی ہے لیکن اب یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ قابل مذمت اس لئے ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت ملک کی سب سے مقبول جماعت ہے۔ سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت کو صرف اس لئے ختم کرنا کہ کسی طرح اپنی اتحادی حکومت کو چلایا جا سکے یہ کہاں کی عقل مندی ہے؟ جب حکومت نے دیکھا کہ پی ٹی آئی پر کیسز ختم ہو رہے ہیں اس کی آہستہ آہستہ ملکی سیاست میں واپسی ہو رہی ہے، عدالتوں سے سزائیں ریورس ہونا شروع ہو گئی ہیں تب حکومت نے اپنی حکومت بچانے کے لئے پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ کر لیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پابندی سے حکومت پی ٹی آئی کو شکست دے سکے گی؟

کچھ وقت سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی پر کیسز کی بوچھاڑ کی گئی، اس کی لیڈرشپ کو جیل میں ڈالا گیا، جبر و فسطائیت کا وہ عالم تھا کہ الیکشن کیمپین تک نہیں چلانے دی گئی لیکن اس سب کے باوجود جب الیکشن کا رزلٹ آیا تو پی ٹی آئی پاکستان کی واحد مقبول جماعت بن کر ابھری۔ الیکشن سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو غیر جمہوری اور غیر آئینی ہتھکنڈوں سے ہرایا نہیں جاسکتا ہے۔ جب حکومت کے باقی تمام حربے ناکام ہو گئے تو اس نے اب پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

کیا اس غیر جمہوری پابندی سے جمہوریت کمزور ہوگی یا مضبوط؟ کیا حکومت پابندی سے واقعی ایک سیاسی جماعت کی مقبولیت کم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ حکومت کی پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی بہت سے قانون دان کے مطابق قانونی حیثیت کچھ نہیں ہے لیکن اس کے سیاسی نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں، اگر یہ سلسلہ چل نکلا اور ہر پارٹی اپنی مخالف پارٹی پر پابندی کا ریفرنس لے کر سپریم کورٹ چلی جائے تو پیچھے صرف آمریت ہی رہ جائے گی۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی معیشت مسلسل مشکلات کا شکار ہے، ملک کی عوام شدید مہنگائی سے لڑ رہی ہے، جہاں ملک کے بجٹ کی آدھی سے زائد رقم قرضوں کی ادائیگی میں جاتی ہو، جہاں حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے بجٹ میں ملکی اشرافیہ کو تو ٹیکسز کی چھوٹ دی گئی، مراعات دی گئی لیکن غریب عوام پر اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا گیا، جہاں ہر آئے دن بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی خبر آتی ہے، جہاں عوام کو شدید مہنگائی کی دلدل میں جھونک دیا گیا ہو، جہاں ملک میں سیکیورٹی کے مسائل الگ سے سر اٹھا رہے ہوں وہاں حکومت کا صرف اس بات پر فوکس ہونا کہ کیسے وہ ایک جماعت کو شکست سے دوچار کرسکے، عمران کو کیسے مسلسل جیل میں رکھنا ہے، پی ٹی آئی کے کارکنوں کو کیسے مزید مقدمات میں الجھا کر رکھنا ہے شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ ایک طرف حکومت خود کہتی ہے کہ ملکی معیشت کی ترقی کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے دوسری طرف وہ اس طرح کے غیر جمہوری اقدامات کر کے سیاسی عدم استحکام کی وجہ بھی خود بنتی ہے۔

دیکھا جائے تو ان پولیٹیکل موٹیویٹڈ کیسز کی وجہ سے عدالتوں پر بھی پریشر بنتا ہے، اور ان بے تکے کیسوں میں عدالتی وقت برباد ہوتا ہے۔ جب عمران خان کی حکومت تھی تب بھی اپوزیشن پر بے جا مقدمے کیے گئے اور جب وقت تبدیل ہوا، اپوزیشن کے لوگ حکومت میں آئے تو ان پر سب کیسز ختم ہو گئے، جو فیصلے کچھ مہینے پہلے ان کے خلاف آئے تھے وہ اب ان کے حق میں آنے لگ گئے۔ آج کی اس اتحادی حکومت میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ عمران خان اور اپوزیشن پر بے جا اور بے تکے کیسز کر کے عدالتوں کا وقت الگ سے برباد کیا جا رہا ہے، پہلے سے خالی خزانے کا بچا کچھا پیسا بھی فضول کیسز پر لگایا جا رہا ہے، حکومتی مشینری کو اتحادی جماعتیں اپنی ذاتی مفادات کے لئے استعمال کر رہی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا کیسز کی تعداد میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ بڑھ کر تقریباً 22 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت بجائے اس کے کہ جوڈیشری کی مدد کرے کہ ان کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جا سکے لیکن وہ خود عدالتوں کو سیاسی موٹیویٹڈ کیسز میں الجھا کر رکھتی ہے۔ دوسری بڑی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے جس کہ وجہ سے پاکستان کا انصاف کا نظام 142 ممالک میں سے 130 وین نمبر پر سٹینڈ کرتا ہے۔

میری رائے میں اگر حکومت نے پی ٹی آئی کی سیاست کو ختم کرنا بھی تھا تو اس کو سیاست کی کھلی چھوٹ دیتی، بے جا مقدمات اور گرفتاریوں سے پی ٹی آئی کو موقع دیا گیا کہ وہ عوام سے ہمدردی بٹورے ساتھ میں حکومت نے اپنا مذاق الگ سے بنوایا اور اپنی ساخت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ جمہوریت کو بھی کمزور کیا۔

Facebook Comments HS