بک کارنر جہلم : معیار، اعتماد اور کامیابی کے پچاس سال


کتاب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔ کتاب بہترین دوست اور ساتھی ہے۔ یہ جملے اکثر ہم اپنی کتابوں میں بچپن میں پڑھا کرتے تھے۔ آج کی نسل شاید ان جملوں سے اتنی واقف نہ ہو کیوں کہ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل کمیونیکیشن کے میڈیمز نے نوجوان نسل کو پڑھنے سے زیادہ دیکھنے پر مائل کر دیا ہے۔

میں خود ڈیجیٹل میڈیا کا بندہ ہوں اور ڈیجیٹل میڈیا کے مثبت استعمال کو فروغ دیتا ہوں۔

لیکن یقین مانیے مجھے آج بھی سب سے زیادہ مزہ اور لطف کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے میں آتا ہے۔ کیونکہ میں آرٹیکل لکھتا ہوں اور مختلف سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر شیئر کرتا ہوں تو اکثر نوجوانوں کی طرف سے یہ مطالبہ رہتا ہے کہ اس آرٹیکل کو آڈیو یا ویڈیو کی صورت میں بھی پیش کریں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر میں جنوبی ایشیائی ممالک میں کتابوں کے متعلق ایک فہرست جاری کی گئی، جس میں پاکستان میں کتابیں پڑھنے کے رجحان کے حوالے سے کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔

آج کا یہ آرٹیکل کتابیں پڑھنے کے حوالے سے نہیں ہے، بلکہ پاکستان میں کتابیں شائع کرنے والے ایک معروف ادارے کے بارے میں ہے۔

یہ پبلشنگ ادارہ بک کارنر جہلم ہے۔ جس نے حال ہی میں معیار، اعتماد اور کامیابی کے پچاس سال مکمل کیے ہیں۔ پاکستان میں بُک کارنر جہلم اپنی نوعیت کی منفرد، مثبت اور کامیابی کی داستان ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے بک کارنر جہلم کا وزٹ کرنے، اس ادارے کی شائع کردہ کتابیں پڑھنے اور منتظم اعلیٰ گگن شاہد اور امر شاہد سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہے۔ میں بطور قاری اور ایک استاد کی حیثیت سے ان کی کتابوں کا مداح ہوں۔ میں بک کارنر کی مارکیٹنگ سٹریٹجی، بزنس فلاسفی اور کتابوں کی معیاری اشاعت کو ایک سکسیس سٹوری کے طور پر دیکھتا ہوں۔ بک کارنر کی شاندار خدمات اور اعلیٰ معیار کا کام اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں بھی معیاری اور شاندار کام کیا جا سکتا ہے۔

چونکہ میں انگریزی کی کافی کتابیں پڑھتا ہوں اور وہ کتابیں ہاتھ میں پکڑتے ہی خوبصورت لگتی ہیں۔ اسی طرح اردو اور مقامی کتابوں کا دیدہ زیب انداز بک کارنر کی منفرد پہچان بنا ہے۔ دوسری اہم بات بک کارنر نے جس طرح سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا ہے اور کتاب کو قارئین تک پہنچانے اور مصنف کو قارئین سے ملانے کی جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ قابل ذکر ہے۔

بک کارنر صرف کتابوں کو شائع کر کے الماریوں میں رکھ نہیں دیتے بلکہ مصنف کی برینڈنگ اور پذیرائی پر بھی خوب توجہ دیتے ہیں۔

بک کارنر کی کتابیں ترتیب، تہذیب، حواشی، فرہنگ، بہترین صفحات، نفیس کتابت، کریم پیپر، ڈیلکس طباعت اور اعلیٰ جلد بندی پر مبنی ہوتی ہیں۔

بک کارنر کا پیغام ہے ”اب ہر گھر میں ہو گا کتابوں کا ایک کونہ“ اور ”خود بھی پڑھیے اور بچوں کی بھی کتاب سے دوستی کروائیے۔ اپنے پیاروں کو کیک، بُکے کی بجائے بیسٹ بُک کا تحفہ دیجیے۔“

بُک کارنر دُنیا کا بہترین لٹریچر کوالٹی اور ڈسکاؤنٹ کے ساتھ اردو میں فراہم کر رہا ہے۔ یہ ادارہ معیار، نفاست اور باریک بینی کی عملی مثال ہے جس نے کتابوں کا ذوق رکھنے والوں کو بہترین اور معیاری کتابیں نہایت ارزاں داموں فراہم کی ہیں۔

بک کارنر جہلم کی کتابیں خوب صورت سرورق اور بہترین جلد بندی کی وجہ سے معروف ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بک کارنر نے پاکستانی پبلشنگ انڈسٹری میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ ان کا معیار ہی ان کی پہچان ہے اور یہ پہچان دو نسلوں اور پچاس سال کی مسلسل جدوجہد اور بہتر سے بہتر کی تلاش کا نتیجہ ہے۔ گگن شاہد اور امر شاہد اپنی ٹیم کے ساتھ پاکستان میں پبلشنگ کے شعبے میں منفرد شناخت کے لیے ہمہ تن سرگرم ہیں۔ جس طرح یہ مصنف کو عزت و احترام دیتے ہیں، مصنف اور قاری کے درمیان روابط کا شاندار اور خصوصی اہتمام کرتے ہیں جسے ہمارے ہاں شادی بیاہ کی تقریبات ہوتی ہیں۔ ان کی کتابوں کی تزئین و آرائش، پروف ریڈنگ، خطاطی، پرنٹنگ، بائنڈنگ اور جلد بندی کمال پروفشنلزم کی علامت ہیں۔ شان دار سرورق (ٹائٹل) اور کتابوں پر بہترین ڈسکاؤنٹ بھی دلچسپ ہیں۔ یہ بھی ایک زبردست کیس سٹڈی ہے کہ عام طور پر پاکستان میں چھوٹے پیمانے سے قومی سطح پر شہرت پانے والے ادارے وقت کے ساتھ اپنے معیار اور وقار پر کمپرومائز کر جاتے ہیں، لیکن بک کارنر نے ابھی تک اپنے معیار اور سروس ڈلیوری کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

جہلم رقبے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے چھوٹے شہروں میں شمار ہوتا ہے لیکن بُک کارنر نے پورے پاکستان میں جہلم کو کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے مشہور کر دیا اور آج یہ اپنے شہر کا لینڈ مارک ہے۔ آج دنیا بھر میں اُردو لکھنے پڑھنے والے جہلم شہر کو بُک کارنر کے حوالے سے جانتے ہیں۔ بلاشبہ بک کارنر نے پاکستان میں اشاعت کے معیار کو نئی بلندیاں عطا کی ہیں اور کامیابی کی نئی داستان رقم کی ہے۔

اُمید ہے کہ یہ ادارہ علم و ادب کے فروغ اور مصنفین اور قارئین کے رشتہ کو مضبوط بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے گا۔
میری دُعا ہے کہ یہ کامیابی کی نئی منزلوں کو حاصل کرے اور معیار، اعتماد اور کامیابی کے کئی سال مکمل کرے۔

Facebook Comments HS