اقربا پروری باعث تنزل و تباہی

کسی بھی فرد یا گروپ کو بنا اہلیت اور حق، ذاتی پسند و نا پسند کے معیار پر اہمیت دینا اور بلا استحقاق نوازے جانے کا عمل اقربا پروری کے زمرہ میں آتا ہے۔
اقربا پروری کا اثر براہ راست معاشرے کے سماجی، معاشی، سیاسی اور دیگر حالات پر پڑتا ہے۔ جو باوجود یہ کہ بعض مخصوص حالات اور ضروریات کے تحت مجبوری بن جاتی ہے۔ مگر اس میں بھی بنیادی کردار نیک نیتی کا ہونا لازمی ہے۔ مگر ایسے حالات اور ضرورت بھی واضح دکھائی دینے اور محسوس ہونے سے مشروط ہونا چاہیے۔
عام حالات میں یہ اجتماعی طور پر ملک و قوم کے لیے ناسور ہی ہے۔ جو برابری کے خلاف اور منفی امتیازی سلوک کی بناء پر بنیادی شہری اور آئینی حقوق کی پامالی کا باعث بنتی ہے۔ اور معاشرے میں عدم مساوات اور بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ ساتھ ساتھ یہ معاشی ابتری بلکہ تباہی کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر کسی بھی مالیاتی یا دیگر ادارے میں مالی امور سے متعلق ذمہ دار پوسٹ پر اہلیت، تجربے اور قابل بندے کی بجائے ناتجربہ کار اور غیر اہل بندے کو اپنی ذاتی پسندیدگی کی وجہ سے ترجیح دی جائے اور تعیناتی کردی جائے تو یہ لامحالہ اس ادارے کے تباہی پر ہی متنج ہوتی ہے۔
اسی طرح جب پسند اور نا پسند کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ تو میرٹ اور استحقاق کی دھجیاں اڑتی ہیں اور ایسے لوگ جن کے اعلیٰ ’حلقوں کے ساتھ مراسم نہیں ہوتے ان کو نہ تو اچھی تعلیم نہ ہی مطلوبہ موزوں ملازمت اور عہدے اور مواقع ملتے ہیں اور نہ ہی وہ معاشرے میں اپنا بھر پور ادا کر سکتے ہیں۔
ایسے ہی سیاسی فورمز بھی اس وبا سے محفوظ نہیں رہ سکے ہیں۔ چونکہ سیاست ہمہ جہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اس سے مستقبل کی لیڈر شپ ابھرتی ہے جو ملک و قوم کی تقدیر کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ ملک کو بہتر نظام اور دانائی پر مبنی پروگرام کے ذمہ دار ہوتے ہیں اس لیے تمام کی تمام سیاسی جماعتوں کے ہر ایک کارکن کی نظریاتی، تعلیمی، تنظیمی اور قائدانہ تربیت لازم ہوتی ہے جو کے بلا امتیاز سب کا حق ہے۔ دوسری طرف سیاست نہ تو منفعت بخش عمل ہے نہ ہی کسی معاشی آمدن کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اور ایسے لوگ جو ملک و قوم کی بھلائی کا پیغمبرانہ راستہ اختیار کرتے ہیں، خالصتاً رضاکارانہ طور پر اس راہ کی کٹھن مشکلات برداشت کرتے ہیں اور مسلسل انتھک جد و جہد کرتے ہیں۔ اپنی مثبت سوچ کے ساتھ ملک و قوم کے روشن مستقبل کی طرف گامزن رہتے ہیں۔ ایسے مخلص کارکنان اور چھوٹے درجے کی لیڈر شپ کو اہلیت، محنت، جدوجہد، وفاداری، مثبت اور بارآور کارکردگی کے اعتراف کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مساوی اور بہتر مواقع فراہم کرنا ان کا حق بنتا ہے۔ مگر جب اعلیٰ ’قیادت ان زرین خصوصیات کے حامل افراد اور ان کی کی جدوجہد کو نظر انداز کر کے ان پر ایسے افراد کو ترجیح دینے لگتے ہیں جو محض خوشامدی ہوتے ہیں، ان کے ہی آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں اور محض نمبر بنانے کی حد تک ایکٹیو ہوتے ہیں۔ تو مخلص اور حقیقی کارکنان احساس محرومی کا شکار ہو کر خود کو بے کار سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے میں ان کا جذبہ ماند پڑھ جاتا اور تمام صلاحیتوں کو زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ یا تو کنارہ کشی اختیار کر کے کونوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ یا پھر پھر بعض افراد اپنی اصل ذمہ داری کو چھوڑ کے دوسرے منظور نظر افراد کی روش پر چلنے لگتے ہیں۔ اور خوشامد اور چاپلوسی کا مقابلہ شروع ہو کر گروپ بندی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس طرح پارٹیوں کی مثبت عملیات ختم ہو کر محلاتی سازشیں پروان چڑھتی ہیں۔ جس کا نتیجہ پارٹیوں کی تباہی جو کہ بالواسطہ ملک و قوم کی تباہی ہی ہوتی ہے کا باعث بن جاتی ہے۔ اس طرح جمہوریت کی بڑی بڑی علمدار جماعتیں اور قیادت عوامی حمایت کھو کر غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتوں کے دروازوں پر ماتھے ٹیکنے لگتی ہیں اور یہ سیاسی اور جمہوری عدم استحکام کی بنیاد بن جاتی ہے۔
اقربا پروری مردم شناسی اور موقع شناسی کی دشمن ہوتی ہے۔ اس لیے ہر ایک کو ہر کہیں حقیقی اہلیت اور استحقاق کو ترجیح دینا چاہیے۔ اس رویے اور طریقے ہی سے اقربا پروری کا ناسور جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ جو معاشرے کی درست سمت اور بہترین طریقے سے چلنے اور چلانے کا واحد اور نا گزیر راستہ ہے۔

