دائرہ توڑنے کی ممکنہ کوشش کا نتیجہ


سیاست میں جماعت، نظریہ، عقیدہ، برادری اور علاقائی تعصبات کے نتیجے میں غلط اور درست کے معیارات بدلتے رہتے ہیں۔ یہ تعصبات انسانی ذہن کو جکڑے رکھتے ہیں اور سیاسی وابستگی کو متزلزل نہیں ہونے دیتے ہیں۔ کبھی کبھی حکومت کا کوئی غیر مقبول فیصلہ جزوقتی ذہنی تبدیلی کا باعث بنتا ہے مگر بہت جلد ذہن گزشتہ وابستگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ موجودہ مہنگائی کی وجوہات سے قطع نظر عوام میں مہنگائی کے خلاف ممکنہ ردعمل دکھائی نہیں دیتا ہے۔

ہر دور میں حکومت کا یہ حربہ ہمیشہ کار گر ثابت ہوا ہے کہ عوام کی مشکلات میں اضافہ انھیں حکومتی معاملات میں ردعمل سے روکتا ہے۔ مشکلات سے نکلنے کی تگ و دو انھیں حکومت کے خلاف جدوجہد سے دور رکھتی ہے۔ ہر نئی حکومت گزشتہ حکومت کے اقدامات کو عوام دشمن قرار دیتی ہے اور مہنگائی میں ناگزیر اضافے کے جواز پیش کرتی ہے۔ فوج، بیوروکریسی اور اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ دیا جاتا ہے اور اس کی قیمت عوام سے وصول کی جاتی ہے۔

اشیاء کی قیمتیں کبھی پہلے والی سطح پر نہیں آتی ہے۔ آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرض لیا جاتا ہے۔ اس قرضے کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس قرضے سے اشرافیہ کو قرض بھی دیا جاتا ہے جسے کئی بار مخصوص انداز میں معاف کر دیا گیا ہے۔ دنیا میں قرض معاف کروانے کی ایسی مثالیں موجود نہیں ہیں۔ ایسا صرف اس ملک میں ممکن ہے جہاں ادارے کمزور اور اشرافیہ طاقت ور ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اداروں کو ذاتی مفادات کے لیے کمزور رکھا گیا ہے۔

عوام کی نفسیات عجیب ہے۔ وہ بار بار آزمائے ہوئے لوگوں کو آزماتے ہیں جو مختلف جماعتیں بدل بدل کر آتے ہیں۔ انسان اپنے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ اس فیصلے میں مزاج، سوچ اور ترجیح کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ تینوں پہلو تعلیم، تربیت اور ماحول کی بنا پر تشکیل پاتے ہیں۔ کرپٹ سیاست دانوں کی بار بار جیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عوام خود کو ایسا ہی دولت مند اور طاقت ور دیکھنے کے تمنائی ہیں۔ غریب کی ترجیح دولت اور کمزور کی ترجیح طاقت ہوتی ہے۔ جمہوریت سے بہترین انتقام لیا گیا ہے اور ووٹ کو بار بار ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عوام خاندانی جماعتوں سے باہر نکل کر دیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ سچ یہی ہے کہ دولت اور طاقت سے مرعوب ہونے کے بجائے دیانت دار امیدواروں کا انتخاب ہی ملکی سلامتی و خوشحالی کا ضامن ہے۔

عوامی نفسیات ہمیشہ تھوڑے، جز وقتی اور عارضی فائدے کے تابع رہتی ہے۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دور اندیش، باریک بین اور مستقل مزاج واقع ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کی آواز کوئی نہیں سنتا ہے اور تھک ہار کر یہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ ان کے خدشات درست ثابت ہوتے ہیں اور عام آدمی انھیں سمجھنے کی سعی نہیں کرتا ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ جمہوریت سو فیصد پڑھے لکھے معاشرے میں قابلِ عمل نظام ہے۔ جہالت اور غربت کے زیرِ اثر جمہوریت کے ثمرات حاصل نہیں ہو سکتے ہیں۔

کوئی شک نہیں کہ اشرافیہ نے ملک کے عوام کو غریب اور جاہل رکھنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ انھیں خوب علم ہے کہ اگر عام آدمی تعلیمی اور معاشی طور پر مستحکم ہو گیا تو ان کا دائمی اقتدار خطرے سے دو چار ہو جائے گا۔ اس دائمی اقتدار کا تحفظ کرنے کے لیے جہالت اور غربت سے نکلنے کی ہر عوامی کوشش کے سامنے دیوار کھڑی کی جاتی ہے۔ گزشتہ دہائیوں کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر اگلے دور اقتدار میں عوام مزید مشکلات سے ہم کنار ہوتے ہیں اور گزشتہ حکمران اچھا دکھائی دینے لگتا ہے۔

عوام کا کمزور حافظہ نئی غلطی کی بنیاد بن کر آئندہ حکومت کی راہ ہموار کرنے میں معاون بنتا ہے۔ ہم مسلسل دائرے میں سفر کر رہے ہیں۔ دائرہ توڑنے کی ہر ممکنہ کوشش کا نتیجہ ایک اور دائرہ نکلتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس خطے کے تمام ممالک ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں تو پاکستان میں لوگوں کی زندگی کو جہنم کیوں بنا دیا گیا ہے؟ حالیہ سروے کے مطابق ملک کے نوے فی صد سے زائد لوگوں نے پاکستان چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ گزشتہ سیاسی و معاشی عوامل کے نتیجے میں عوام ملک کے نظام سے مایوس ہو چکے ہیں۔

 

Facebook Comments HS