اظہار الحق: نئی زمینیں اور نئے آسماں
مجھے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اظہار الحق میرے گنتی کے محبوب شاعروں میں سے ایک ہیں اور اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں انہیں ان کے ہم عمر ہم عصروں ہی میں نہیں اردو غزل کی مجموعی روایت میں ایک ایسے منظر نامے اور ایسی فضا کو ایزاد کرتے دیکھتا ہوں جو بڑی حد تک انہی سے منسوب ہے۔ ہر دس پندرہ برس بعد غزل کو نیا کرنے والے دو قسم کے لوگ نمایاں رہے ہیں ؛ ایک وہ جو اس کی شاندار روایت سے کٹ کر اسے نئے زمانے کا آہنگ عطا کرنا چاہتے ہیں ؛ وہ اس کی زبان میں اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہیں۔
اس کی ہیئت سے چھڑ چھاڑ کرتے ہیں یا پھر عام زبانوں پر نئے نئے چڑھے الفاظ اور تراکیب مصرعوں میں ٹھونس ٹھانس کر یا چونکانے کو چلتر مضامین کا تڑکا لگا کر اک عجب، عوامیت، یا نیا پن پیدا کر لیتے ہیں ؛ جی نیا پن مگر تخلیقیت اور تازگی سے عاری۔ دوسرے وہ ہیں جو اس صنف کو اس شجر خیر کی طرح سمجھتے ہیں جس کی جڑیں روایت، تہذیب اور تاریخی آثار کی زمین میں دور تک پیوست ہیں اور شاخیں عصر رواں کے آفاق کو چھوتی ہیں۔ اگر پہلی قسم کے شاعروں کے ہاں نئے نئے ہیلوں سے چونکانا وصف ہوتا ہے تو دوسرے لمحہ لمحہ نئے مناظر کی حیرت کو قدیم اور دبیز تخلیقی اور تہذیبی آئینوں کے مقابل کرتے ملیں گے۔
میری نظر میں اظہار الحق کا شمار اس دوسری قسم کے شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ عالی فکر ہیں اور زبان اور فن کی باریکیاں جانتے ہیں۔ نئے تخلیقی رویوں کے عقب میں موجود ایک مستحکم روایت کو تسلسل میں دیکھتے ہیں۔ وہ عربی زبان کے سند یافتہ فاضل ہیں اور فارسی سے بھی نابلد نہیں ہیں کہ اپنے نامور دادا مولانا غلام محمد کی تلمیذ میں رہے جو اپنے وقت میں سعدی ثانی کہلائے۔ لہٰذا خیال اور احساس ہر دو کو تہذیبی اور تاریخی تناظر میں رکھ کر فن کی لطیف سطح پر برتتے ہوئے وہ مختلف ہو جاتے ہیں۔ اس مختلف ہونے کا خود انہیں بھی احساس ہے، اسی لیے تو وہ کہتے ملیں گے :
یہی نہیں کہ زمینیں مری اچھوتی ہیں
میں آسماں بھی اپنے نئے بناتا ہوں
یہ مختلف اور نیا ہونا تو ظفر اقبال کے لفظوں میں گویا یوں ہے کہ ’ان کے ہاں پہنچ کر اردو غزل کا موسم یکسر بدل جاتا ہے۔ ‘ انہوں نے اساطیری، داستانوی، تاریخی اور تہذیبی علاقوں سے، اکا دکا الفاظ نہیں لیے بلکہ مخصوص لفظیات کے قبیلے کو اپنی غزل کی لغت میں آباد کیا ہے اور مروجہ بحور کو اپنی خاص لغت سے ردیفیں عطا کر کے اور الگ سے قوافی کے اہتمام کے ساتھ نیا بنالیا ہے۔ وہ غزل کی روایت اور اس صنف کے فنی تقاضوں سے آگاہ ہیں۔
تاریخ اور تہذیبی مظاہر کو بہت پیچھے جاکر دیکھنے کا ان میں حوصلہ ہے۔ ایک جدید قصہ گو کی طرح وہ قدیم اساطیر اور داستانوی ماحول میں نئے معنیاتی امکانات کا سلسلہ رکھ لینے کا قرینہ جانتے ہیں۔ یوں ان کے یہاں ایک لسانی منطق ظہور میں آتی ہے اور خیال کی رفعت اور جمالیاتی لپک کا جادو بہم ہو کر ساتھ ساتھ لیے چلتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہاں لفظوں کے جس قبیلے کی بات ہو رہی ہے وہ اردو غزل کی محدود لغت میں اجنبی ہو کر بھی اظہار الحق کی غزل میں اجنبی نہیں رہتا۔
یہاں کسی روش سے سیڑھیاں پانی میں جا رہی ہوں، یا لہو سے مشک اور اعضا سے شعاعیں اُٹھ رہی ہوں۔ دریدہ شال اوڑھے خاک بسر قرطبہ ہو یا صدیوں پر پھیلی ہوئی رات کے سچے خواب میں الحمرا، سمندر میں پھینکی گئی وہ مشعلیں ہوں جن سے اندھیری کشتیوں کے بادبان روشن ہو گئے ہیں یا ہزاروں برس پر محیط ہو جانے والی ستر برس کی بخارا کی مٹی سے جدائی جو بہت رلاتی تھی۔ سمرقند گنج گراں مایہ کی ہوائیں، اثمار اور نہریں ہوں یا شاعر کے اپنے بلخ اور ہرات کے کوزہ گر، زین اور ساز؛یہ سب اور بہت کچھ جو اظہار الحق کی شاعری کو نیا اور مختلف بنا رہا ہے اس تاریخی اور تہذیبی ورثے کی عطا ہے جو اس شاعر سے پہلے غزل کی فضا سے باہر الگ تھلگ پڑا تھا۔
چاہ طلسمات، اڑن کھٹولا، سرخ طائر، ابد کی مہین چادر، مرمریں سیڑھیاں، بہشت کا میوہ ہو جانے والی اولاد، عرش قدموں کی مقدس آہٹیں، گنبد گردوں، زرپوش امت، اسم طلسم، غیب کا ہاتھ، بہشتی ٹہنیاں، محرابی دریچے، زیتون کا باغ، منقش چھتیں، زرتار پردے، سنہری طشت، توانا چھاتیاں پیٹنے والی عورتیں۔ نگوں سر قطب اور ابدال، ظل الہٰی کا طنطنہ، طبریز سے آیا ہوا پھولوں بھرا قالین، اشراف کے نوکر ہو جانے والے اہل تسبیح؛ یہ سب مل کر اظہار کی غزل کی وہ فضا بناتے ہیں جو انہی سے خاص ہے۔
ستارہ گھوڑے کی آنکھ اور چاند نعل ہو گا
سفر میں چاندی کی دھول سونے کی زین ہوگی
۔
اندھیرے کی لہروں پہ میں ہوں مری کشتیاں آ رہی ہیں
کنارے پہ تو چل رہی ہے تری روشنی اڑ رہی ہے۔
۔
فرشتوں نے جھاڑے تھے پر اس فضا میں کئی سال پہلے
سروں پر مگر ایک شے اب بھی خاکستری اڑ رہی ہے
اور اب میرا بیٹا اسے ڈھونڈنے گھر سے نکلا ہوا ہے
کہانی میں اظہار ابھی تک اڑن طشتری اڑ رہی ہے
۔
غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پہ ٹوٹنے والا ہے آسماں جیسے
۔
یہ مانا جسم مٹی کے جہانوں میں بنے ہیں
مگر رخسار و لب کن کارخانوں میں بنے ہیں
زمیں نے جب مجھے چھوڑا تھا مشت استخواں تھا
یہ بال و پر مرے اونچی اڑانوں سے بنے ہیں
۔
کئی موسم مجھ پر گزرے ہیں احرام کے ان دو کپڑوں میں
کبھی پتھر چوم نہیں سکتا، کبھی اذن طواف نہیں ہوتا
وہ لغت جو غزل میں اظہار الحق کو محبوب رہی ہے ان کی نظم میں بھی ان پر مہرباں رہی ہے۔ غزل میں وہ کہیں کہیں کسی خیال کو برتنے کی بجائے محض جمالیاتی لپک کو کام میں لاکر قاری کی حسیات کا رُخ متعین کرتے رہے ہیں مگر ہر نظم میں خیال پوری طرح تجسیم ہوتا ایک مربوط کہانی میں ڈھلتا اور معنی متعین کرتا ہوا ملتا ہے۔ غزل کی جس فضا کا میں نے اوپر زائچہ بنایا اس میں سے وہ دیہاتی اور قصباتی فضا نادانستہ خطا ہو گئی ہے جو ان کی غزل اور نظم دونوں کا لائق توجہ حصہ ہے۔
اظہار الحق کے ہاں پابند نظمیں ملیں گی، معریٰ، آزاد اور نثمیں یعنی نثری نظمیں بھی۔ کہانی بنتی ان نظموں میں کہانیاں سنانے والے دق کے مرض کی وجہ سے نہیں بلکہ مسلسل پڑھنے اور بولنے کی وجہ سے کھانستے ملیں گے۔ یہاں بچے چیتھڑوں سے کھدو بناتے ہیں۔ حجروں میں کبوتر پھڑپھڑاتے ہیں۔ اور وہ عورتیں بھی ہیں جن کی سوکھی چھاتیوں کا دودھ سڑ گیا ہے۔ ان نظموں میں ایسی سوغاتوں کا ذکر ہے جن کی کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ یہاں سبزے کی موٹی تہیں ہیں، ہری جھاڑیاں ہیں، گھنے پیڑ، شاخوں سے جھڑتا بور۔
ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا نشیبی چٹانوں میں بہتا ٹھنڈے میٹھے جھرنے کا پانی اور ایک دوسرے کی پیاس بجھاتے لب ہیں۔ گاؤں کی پگڈنڈی، اس پر لاٹھی ٹیک کر چلتا چرواہا۔ اور اپنی دھن میں چلتا ریوڑ یہ سب کچھ ہے مگر ایک خواب کی صورت اور جب خواب ٹوٹتا ہے تو شاعر کے لیے وہی اذیتوں بھرا شہر ہے اور یہ سوال کہ آج آفس نہیں جائیں گے۔
اظہار کی نظم، اس نئی نظم سے مختلف ہو جاتی ہے جو اپنے قلب میں ایک قبلہ نہیں رکھتی یا جو اپنے معنوی بکھراؤ کے سبب مبہم ہو جاتی ہے۔ اظہار کی نظم کی لغت نئی سہی مگر یہ مبہم نہیں ہے ؛اس میں ایک تہذیب، تاریخ اور سماجی سیاسی شعور جھلک دے جاتا ہے جب کوئی سمور کی آستین پہنتا ہے، ایالیں کاٹ لیتا ہے۔ خورجینیں شہتوت کے رس اور انجیر سے بھرتا ہے۔ یا گنبدوں میں کبوتر پھڑپھڑاتے ہیں، عمامے اور کڑھے ہوئے چوغے پہننے والے نظم کہانی میں کردار ہو کر آتے ہیں، سر کنڈے کو چیر کر بنائی گئی چارکانی کا کھیل کھیلا جاتا ہے، قبرستان کی پھلاہیوں کایا کسی بڑھیا کی کٹیا میں دیے گئے جھاڑو کا ذکر ہوتا ہے تو ہر بار ایک کہانی مکمل ہوتی ہے۔
جنت کے پھولوں کا رس ہو جانے والا ماتھے کا بوسہ ہو یا دیمک زدہ عصا کے سہارے کھڑا شخص یا پھر دل کی ناپاک زمین پر بچھائی گئی مکے سے آئی جائے نماز سب نظم کی کہانی میں آ کر ایک معنوی ربط بناتے ہیں۔ اظہار کی شاعری کو ایک کل میں دیکھیں تو یہی معنوی ربط مسلم تہذیب سے جڑا ہوا محسوس ہو گا۔ اس کی امی جمی سے اور اس کی اکھاڑ پچھاڑ سے بھی، اس کی کامرانیوں اور اس کے زوال سے بھی۔ اور یہیں کی جو دھول، دھواں اور دُھند ہے اس کی دبیز چادر سے سمر قند و بخارا جھلک دے جاتے ہیں۔
یہیں قرطبہ دیکھا جاسکتا ہے۔ لشکریوں کے پرے کے پرے آگے بڑھتے دیکھے جا سکتے ہیں، یہاں بہشی نہر کا پانی ہے، بادشاہ، وزیر اور غلام گرشیں ہیں اور یہی وہ غار ہے جس میں اصحاب کہف کی طرح ایک زمانہ بِتانے کے بعد شاعر نکلتا ہے کچھ اس ادا سے کہ اس کے ہاتھ میں قدیم زمانے کا وہ سکہ ہے جو نیا زمانے میں کچھ زیادہ گراں قدر ہو گیا ہے۔
بہت سے راستوں میں، تونے، جو رستہ چنا تھا
فرشتے آج تک حیرت میں ہیں کیسا چنا تھا
ایک دو باتیں محمد اظہار الحق کی نثر کے باب میں۔ نثر کی اِقلیم میں وہ کالم نگاری کے دروازے سے داخل ہوئے ہیں۔ وہ ملٹری اکاؤٹنٹ جنرل پاکستان تک کے عہدے پر پہنچ کر ملازمت سے سبکدوش ہوئے، کئی حکمرانوں کو قریب سے آتے جاتے دیکھا، ملکوں ملکوں گھومے، ہر قبیل کے لوگوں کو دیکھا پرکھا، اداروں کے انہدام اور افسر شاہی کی حرام کاریوں کی دستاویزات کا مطالعہ کیا۔ سماجی رشتوں میں بندھے اور رشتہ داریوں کو نبھایا۔ زندگی بھر کے ان تجربات کا ان کے کالموں کا حصہ ہوجانا ایسا ہے جو ان کے قارئین کے لیے لائق توجہ ہوتا رہا ہے۔
ان کالموں کے قارئین شاید ہی کچھ وہ ہوں جن کے دلوں پر ان کی شاعری کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے کہ شاعری اور ادب، اخباری کالم پڑھنے والوں کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ ادیب کالم نگار کسی بڑے شاعر سے زیادہ مقبول ہو سکتے ہیں مگر مقبول کالم نگاروں سے آگے نہیں نکل سکتے۔ خیر، آپ اظہار کی غزل پڑھیں یا نظم اور یہ کالم بھی؛ آپ کو لگے گا ان کے اندر ایک داستان گو بیٹھا ہوا ہے۔ شاید یہی سبب ہو گا کہ ان کا کالم اخبار کے پرانا ہونے پر بھی تازہ رہتا ہے۔
کہانی بنا کر کالم لکھنا انہیں اچھا لگتا تاہم مجھے ہمیشہ ان کے وہ کالم لطف دیتے رہے ہیں جو کہانی بن کر مکمل ہوتے ہیں۔ ”میری وفات“ کا عنوان پانے والا کالم ایک کہانی ہی تو ہے۔ اس کتاب کا یہ نثر پارہ میں نے سب سے آخر میں پڑھا۔ شاید اسے میں پڑھنا ہی نہیں چاہتا تھا کہ میں نے اپنوں کے ایسے جنازے دیکھے تھے کہ موت میرے افسانوں میں ایک مدت تک دھرنا دیے بیٹھی رہی۔ میں اس کیفیت سے بہت جتنوں سے نکلا تھا لہذا ایک سہم میرے اندر تھا۔
میں نے سب کالم پڑھے، حتی کہ بیٹی کی رخصتی پر لکھا گیا وہ بھی جس کا نام افتخار عارف کے شعر سے مستعار لیا گیا ہے : ”اور کوئی دوسرا اِس خواب کو دیکھے تو ۔“ میں نے جب ایک ایک کر کے چار بیٹیاں رخصت کی تھیں تو چھاتی سے اٹھتی دھمک حلقوم تک ضرور آتی تھیں مگر اس خیال سے کہ بروقت فرض کی ادائی ہوئی اور خدا کا شکر واجب ہے، ضبط کر جاتا رہا۔ اظہار الحق کا یہ کالم پڑھا تو ضبط کا بندھن ٹوٹا اور میں جی بھر کر رویا تھا ؛ بیٹی کی رخصتی پر پدری محبت کا ایسا اظہار شاید ہی کسی کے ہاں ہوا ہو۔
خیر، بات کالم ”میری وفات“ کی ہو رہی تھی جسے میں پڑھنا نہیں چاہتا تھا مگر کہانی کہنے کا اسلوب ایسا تھا کہ اس کی ابتدائی سطور پر نظر پڑھتے ہی گرفتار ہو گیا تھا اور آخر تک پڑھتا چلا گیا۔ ایسا ہی ان کی ایک اور کتاب ”عاشق مست جلالی“ کے کالم پڑھ کر ہوا تھا۔ اظہار الحق کے کالموں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے قاری کی توجہ کھینچ کر رکھتے ہیں۔
ان کالموں میں ہماری ملاقات ایسے شخص سے ہوتی ہے جو اپنی مذہبی اقدار، تہذیبی مظاہر، اپنے گاؤں اور اپنے رشتوں سے اخلاص کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور بدلتی ہوئی زندگی کی ترجیحات کو بھی سمجھتا ہے۔ تاریخی کرداروں، تہذیبی حوالوں اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہوئے ان کی تحریر کی اثر انگیزی بڑھ جاتی ہے۔ تاہم وہ چیز جس نے ان کے کالموں کے ان دونوں مجموعوں میں متاثر کیا وہ ان کی نثر اور بات کہنے کا اسلوب ہے۔ آپ ان کے نظریات اور سیاسی فکر سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ان کی نثر اور بات کہنے کا اسلوب گرفتار رکھے گا۔ ایسا شخص اگر اردو فکشن کو مل گیا ہوتا تو مجھے یقین ہے شاعر اظہار الحق کی طرح فکشن نگار اظہار الحق بھی ایک ہی ہوتا۔
۔
(معروف شاعر اور کالم نگار محمد اظہار الحق کے ساتھ منائی جانے والی شام کے لیے لکھی گئی سطور)


