ہمارا عدالتی نظام، اصلاحات کی ضرورت
دوسری جنگ عظیم میں جرمن جہازوں کے حملوں سے برطانیہ کا بہت سا جانی نقصان بھی ہو رہا تھا اور ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے تھے ان سخت حالات میں ایک شخص نے ملکی حالات پر پریشانی کا اظہار کیا تو چرچل نے پوچھا، ”کیا ہماری عدالتیں کام کر رہی ہیں“ ۔ اسے بتایا گیا کہ عدالتوں میں ججز موجود ہیں اور انصاف فراہم کر رہے ہیں۔ چرچل نے کہا کہ جب تک عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں ہمیں کچھ نہیں ہو سکتا۔ انصاف کی اہمیت پر یہ وہ عظیم حقیقت ہے جسے دنیا حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور اپنی قومی زندگی میں قانون کی حکمرانی کو پہلی ترجیع گردانتے ہیں۔
مگر بدقسمتی سے ہماری حکومت اور عدلیہ نے انصاف کو ہمیشہ بوجھ سمجھا اور اسی لئے قانون کو پس پشت رکھ کر اکثر ذاتی خواہشات اور مفاد کو ملحوظ خاطر رکھ کر انصاف کرنے کی بجائے صرف فیصلے کرنے کو ترجیح دی جاتی ہیں۔ سمجھنے کے لئے ہم مقدمات کو دو حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں ایک جس میں ”ریاست“ یا ”حکومت“ براہ راست ملوث ہوتی اور دوسرا جس میں ریاست، حکومت یا طاقتور عناصر شامل نہیں ہوتے عدالت کے سامنے صرف عام شہری ہوتے ہیں۔
عوام الناس سمجھتے ہیں کہ شاید انصاف کا قتل پہلی قسم کے مقدمات میں ہوتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اب ہمارا ادارہ انصاف مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ہم صرف مقدمات کے فیصلے کرتے ہیں وہ بھی وقت اور ضرورت گزر جانے کے بعد ۔ حشر یہ ہے کہ ہر معزز جج قانونی نکات کی تشریع معاشرتی ضرورت یا لیجسلیٹو انٹینشن کی بجائے وقتی مفاد یا موڈ کے مطابق کرتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ عدالتی فیصلوں میں یکجائی نہیں ہوتی اور ہر موضوع پر متضاد فیصلے موجود ہیں۔
حقیقت پر مبنی مثال ملاحظہ فرمائے کہ ہمارا فیملی لاء عورت کو ایک ہی دعویٰ میں خلع، حق مہر، خرچہ نان و نفقہ، سامان جہیز اور بچوں کی کسٹڈی و ملاقات کا حق دیتا ہے۔ یہ الگ بات کہ ہمارے دوست اپنی فیس کے لیے الگ الگ دعوہ جات پریفر کرتے ہیں۔ میں نے بطور وکیل ایک خاتون کی طرف سے متذکرہ تمام کلیم ایک ہی دعویٰ میں استدعا کر دیے مگر فاضل فیملی جج لاہور نے دعویٰ ڈگری فرماتے ہوئے گارڈین سرٹیفکیٹ کی بابت کوئی حکم صادر نہ فرمایا جس پر ہم نے ایک متفرق درخواست دائر کی کہ ججمنٹ و ڈگری میں درستگی فرمائی جائے مگر فاضل جج نے اپنی غلطی ماننے کے باوجود درستی کرنے سے انکار کر دیا اور ہمیں اپیل کا مفت مشورہ عنایت فرمایا۔
ہم نے اپیل دائر کی جو فاضل ڈسٹرکٹ کورٹ نے منظور فرمائی اور اسی عدالت کو گارڈین سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم صادر فرمایا جو بعد ازاں جاری ہو گیا مگر اس سے بھی افسوس کی بات یہ کہ دوبارہ ایک دیگر موکل کا میرا ہی دعویٰ بالکل پہلے دعویٰ جیسا اسی فاضل عدالت میں سماعت ہوا اور وہی غلطی اسی عدالت نے دوبارہ کی مگر اس بار فاضل ڈسٹرکٹ کورٹ کے ایک دیگر جج صاحب نے بھی غلطی درست کرنے کی بجائے ہمیں گارڈین کی حد تک نیا کیس کرنے کا حکم صادر فرمایا۔
یقیناً یہ بدنیتی تو نہی مگر انتہائی نا اہلی ضرور ہے۔ یہ ایک مثال ہے مگر ہر دوسرے کیس میں جج صاحبان کا یہ ہی حشر ہے۔ آپ عدالت عظمیٰ کی براہ راست نشریات ملاحظہ فرمائے تو آپ بھی یقین کر جائیں گے کہ اس ملک میں انصاف نہیں ہو رہا کیونکہ انصاف کی بنیادی شرط ہے کہ ”انصاف ہوتا نظر آتا ہے“ میری صاحبان اقتدار سے التجا ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں کو ایک خوشگوار زندگی اور اپنے آپ کو پرسکون آخرت کے خواہشمند ہیں تو اس ملک میں صرف ”نفاذ انصاف“ کا فیصلہ کر جائے۔ اور انصاف صرف وہ ہے جو کتاب کے مطابق ہے۔ اور اگر آپ نے اس ملک کو اسی طرح انصاف سے بے فیض رکھا تو پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہو گا


