دسترخوان اور پاکستان
میز کے اردگرد گھر کے چار لوگ بیٹھے، خاموشی سے کھانا کھا رہے ہیں۔ چھوٹے دونوں نے اپنے آگے رکھے پانی کے گلاس یا کسی اور برتن کے سہارے موبائل فون ٹکا رکھا ہے جس پہ کوئی فلم یا لکچر چل رہا ہے، کانوں میں وائرلیس ائر فونز ہیں جن کی وجہ سے دونوں کی مکمل توجہ اپنے سامنے رکھے موبائل کی سکرینوں پہ مرکوز ہے، اور وہ گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی کوئی گفتگو کر نے یا کسی کی بات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ ایسی صورت میں کھانا بمشکل کھایا جاتا ہے۔ ان سے کوئی بھی بات کہو یا کچھ پوچھ لو تو وہ جواب نہیں دے پاتے کیوں کہ آپ کی آواز ان کے کانوں تک پہنچ ہی نہیں پا رہی۔ ماں باپ کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔
کیا یہ یا اس سے ملتا جلتا منظر آپ کے گھر میں بھی ہے؟ آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی افراط نے گھر کے اندر ایک سماجی بُعد پیدا کر دیا ہے۔ اب آپس میں صرف ضرورتا ”ہی گفتگو ہوتی ہے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ اب ٹیکسٹنگ (texting) ہی سوشلائزنگ سمجھی جاتی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ کھانے کے وقت سب لوگ گھر میں اکٹھے ہو جاتے تھے، شاید کھانے کی اتنی فراوانی نہیں ہوتی تھی جیسی آج کل نظر آتی ہے۔ لیکن سب لوگ مل جل کر اتفاق و یگانگت اور رغبت سے کھانا کھاتے تھے۔ کھانا میز پہ لگا ہو یا زمین پہ دسترخوان میں چُنا ہو، یا پھر باورچی خانے میں چولہے کے آس پاس پیڑھیوں اور چوکیوں پہ بیٹھ کر کھایا جاتا۔ یہ اہتمام کیا جاتا کہ گھر کے سب افراد ایک ہی وقت میں اکٹھے ہو کر کھانا کھائیں۔ تمام ضروری باتیں بھی کھانے کے ساتھ ساتھ یا کھانے کے بعد کر لی جاتی تھیں۔
ایک ان کہا قسم کا ہفتہ وار مینو ہوتا تھا۔ پیر کے دن گوشت کی کوئی ڈش، منگل اور بدھ کو سبزی یا کوئی دال چاول کے ساتھ، عموماً شام کے وقت چاول ختم ہو جاتے تھے تو دال روٹی۔ دو دن ناغے کے بعد جمعرات کو کوئی نا کوئی گوشت کی ڈش اور پھر باقی ہفتے کے دن بھی گوشت، دالیں اور سبزیوں کے ساتھ ایک متوازن سلسلہ چلتا تھا۔ ہم سات بہن بھائی تھے۔ ناشتے کے لئے سب کے دن مقرر تھے جس دن اس کی ملائی کی باری ہوتی تھی۔ ملائی کا پیالہ اور سادہ روٹی کا ناشتہ، چائے کے ساتھ۔ کسی کسی اتوار کو پراٹھا یا آٹے کی پوریاں بھی بنتی تھیں۔
سبزیوں میں بھی کیا کیا تنوع ہوتا تھا۔ مسالے بھری بھنڈیاں، نو رتنی سبزی، کریلے، قیمہ بھرے کریلے، بینگن کا بھرتہ (کبھی سادہ، کبھی ہمسائے کے گھر اپلوں میں جلایا ہوا) ، آلو بینگن، ساگ، اروی یا اروی کے پتے، وغیرہ وغیرہ۔ ہاں ٹینڈے، لوکی اور شلجم وغیرہ بھی پکتے تھے لیکن مجھے ان سے کوئی زیادہ رغبت نا تھی۔ کبھی کبھی دودھ والا لسی دے جاتا تھا تو اس سے کڑھی بنتی تھی۔ چکن اور بریانی کی بدعت تو کہیں اسی کی دہائی میں شروع ہوئی۔ اس سے پہلے تو مہینے میں ایک آدھ دفعہ پلاؤ اور قورمہ ہی ہوتا تھا۔
میری امی ارہر کی دال تھوڑی سی کھٹائی (املی یا کچے آم) کے ساتھ پکاتی تھیں، لہسن کے بگھار اور ساتھ میں ابلے چاول۔ ہر ہفتہ میں ایک دفعہ منگل یا بدھ کے دن۔ کبھی کبھی شامی کباب یا تلی ہوئی مسالہ بھری ہری مرچیں یا صرف کچومر سلاد! اف، اب تو کئی سال گزر گئے۔
خیر میں بھی کیا بات کرتے کرتے، کہاں سے کہاں بھٹک گیا۔ میں بات کر رہا تھا بدلتے سماجی رویوں کی! اکٹھا بیٹھ کے کھانے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ اس دوران کھانا کھانے کے آداب کی تر بیت بھی ہو جاتی تھی۔ میز پہ یا دستر خوان کے گرد کیسے بیٹھنا ہے، کیسے کھانا اپنی پلیٹ میں نکالنا ہے اور کیسے کھانا ہے؟ یہ سبھی باتیں اسی دوران سیکھنے کو مل جاتی تھیں۔
رفتہ رفتہ اب تو وہ وقت آ گیا ہے کہ کھانے کے وقت کوئی بھی نہیں ہوتا۔ جس کو جب بھوک لگی فرج میں سے اپنا کھانا نکالا، مائیکرو ویو اوون میں گرم کیا اور کھا لیا۔ فرج میں کچھ نہ ملا یا گھر میں جو پکا ہے وہ پسند نہیں آیا تو فون پہ یا آن لائن آرڈر کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں آپ کا من پسند کھانا ڈلیوری بوائے آپ کے گھر تک پہنچا دے گا۔ رات گئے ڈلیوری بوائے کو خصوصی ہدایت ہوتی ہے کہ بیل نہ بجائے مبادا گھر میں موجود سوئے ہوئے بزرگ جاگ جائیں یا دوسرے بہن بھائیوں کو بھی پتہ لگ جائے اور ان کو بھی اپنے کھانے میں سے حصہ دینا پڑے۔
دیکھئے! کیا آپ کے ہاں بھی ایسا ہو رہا ہے؟ ذرا کینوس کو اپنے گھر سے نکال کر وسیع پس منظر میں دیکھئے۔ کم سے کم پاکستان میں یہی ہو رہا ہے۔ ریاست اور حکومت کچھ بھی کہنے سننے سے قاصر ہیں۔ ادارے ان کی سنتے ہی نہیں۔ جس کو جب بھی ضرورت ہوئی، بھوک لگی اور وہیں اس نے کھانا شروع کر دیا۔ ساٹھ ستر سال میں ایک حصہ کھا چکے ہیں اور اب باقی آدھے بچے ملک کے درپے ہیں۔ مقتدرہ ہو، عدلیہ ہو یا بابو شاہی۔ ہر کوئی ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے۔


