ایک آسیبی شہر کی کتھا
میں ملتان میں پیدا ہوا، چناب کے ساتھ چہلیں کیں، راوی میں غوطے لگائے، مگر کچھ ہی فاصلے پر موجود ستلج میرے لیے اجنبی رہا۔ اِسی ستلج پر ایک عظیم الشان پُل بنا ہوا ہے، جس کے ایک جانب ملتان ہے اور دوسری جانب بہاول پور، درمیان میں محض تین سو میٹر کا فاصلہ ہے، لیکن مجھے اِس تین سو میٹر کے فاصلے کو پاٹنے میں تیس برس لگ گئے کیونکہ میں نئی جگہوں اور نئے لوگوں سے خوفزدہ تھا۔
مجھے کسی نے بتایا تھا بہاول پور میں داخل ہونے کے اکاون راستے ہیں، اور باہر نکلنے کا ایک بھی نہیں۔ میں یہ بات سن کر ہنس دیا تھا کیونکہ تب میں یہ نہیں جانتا تھا کہ شہر بھی انسانوں کی طرح چپچپے اور مقناطیسی ہو سکتے ہیں۔ لیکن آج جب مجھے یہاں آئے ہوئے بارہ برس ہو چکے ہیں، اور میں گردن تک اِس کی دلدلی زمین میں دھنس چکا ہوں، تو میرا جی چاہتا ہے میں اُس غزالیٔ دوراں کو تلاش کروں، اور اس کے ہاتھ پر بیعت کر لوں کہ ممکن ہے وہی مجھے یہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ دِکھا سکے۔
کئی بار میں نے اِس شہر سے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن جونہی میں نے سرکلر روڈ کراس کیا اور چوک فوارہ پر نصب محمد خالد اختر کے نقرئی مجسمے کو اپنی جانب گھورتے پایا تو میرے حوصلے جواب دے گئے۔ اگر کبھی میں اِس سے نظر بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو بھی جاؤں تو سرائیکی چوک پر ظہور نظر کا قدِ آدم پورٹریٹ مجھے روک لیتا ہے یا ویلکم چوک پر لگی استاد توکل حسین کی مورتی۔ ایک بار تو یوں بھی ہوا کہ مجھے آغا صدف مہدی کے ایک ڈرامے نے روک لیا۔
میں نے راستہ بدل کر دیکھا، لیکن سرکلر روڈ کی دوسری جانب بھی یہی صورتحال تھی۔ لائبریری چوک پر اظہر فراغ اور ذی شان اطہر کا قبضہ تھا تو فرید گیٹ پر خود خواجہ غلام فرید موجود تھے، میں جاتا بھی تو کہاں جاتا؟ ایک مرتبہ میں اِن سب کو چکمہ دے کر ستلج کنارے جا پہنچا، لیکن جونہی میں پُل کے اس پار جانے لگا، استاد ملنگ حسین کی شہنائی میرے بدن سے ٹکرائی اور میں زمین پر یوں ڈھے گیا جیسے کسی نے میری روح قبض کر لی ہو۔
ٹھیک اُسی لمحے ایک مہربان ہاتھ نے میری جلتی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور میں نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول دیں۔ وہ ایک ادھیڑ عمر عورت تھی، جسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، لیکن اِس کے باوجود اُس میں ایک عجیب سی اپنائیت تھی۔
”کون ہو تم؟“
میں نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
”تمہاری امید!“
وہ ہولے سے مسکائی۔
”میرے لیے کیا کر سکتی ہو؟“
اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن چمکی۔
”سب کچھ! بس تمہیں اِس قید سے رہائی نہیں دلا سکتی!“
اس نے بے چارگی سے سر جھٹکا۔
”مگر کیوں؟“
”کیوں کہ اندر سے تم خود یہی چاہتے ہو، مگر اِسے زبان پر نہیں لا پاتے!“
اُس نے میرے بالوں میں انگلی پھیری اور ہوا میں تحلیل ہو گئی۔
”اُسے میں کیسے بچاؤں جو ڈوبنا چاہے!“
گلبہار بانو کی دکھ بھری آواز میرے کانوں سے ہوتی ہوئی میری روح کے کسی اداس گوشے سے ٹکرائی اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے! ۔ میں اِتنا رویا کہ میرا چہرہ زرد اور آنکھیں لال ہو گئیں! ۔ پھر اِس کے بعد میں نے کبھی بہاول پور سے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔



روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچی مٹی تو مہکے گی۔ ہے مٹی کی مجبوری