حجامت: اراؤنڈ دی گلوب
”یہ میرے پاس آپ کی آخری حجامت ہوگی!“ حجام پر اعتماد لہجے میں بولا۔ وہ قدرے جھک کر میرے بال کاٹ رہا تھا۔ ”کیوں، کیا ہوا؟“ میں نے تعجب کا اظہار کیا۔ مجھے حجام کی تبدیلی ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی۔ ”بس، میں مسقط جا رہا ہوں۔ اب وہیں پر کام کروں گا۔ میرے بہنوئی نے ہر چیز کا بندوبست کر دیا ہے۔“ اب اس کے اعتماد میں پھرتی بھی شامل ہو گئی۔ گویا اس حجامت کے بعد وہ سیدھا گھر جائے گا۔ جہاں اس کا سامان ائرپورٹ جانے کے لیے تیار ہو گا۔
مجھے کرسی پر بیٹھے ہوئے بے چینی محسوس ہونے لگی۔ اس لیے نہیں کہ میرا پرانا حجام چھوٹ رہا تھا۔ اس اچانک اعلان نے میرے ذہن میں بہت سے سوالوں کو جنم دیا۔ میں نے انہیں ضبط کرتے ہوئے حجام کو نیک تمناؤں کے ساتھ خدا حافظ کہا۔ آخر یوں اگر کسی غریب کا بھلا ہو رہا تھا تو اس میں کیا برائی تھی! میں نے خود کو مطمئن کر لیا۔
اگلے ہفتے میں نئے حجام کی تلاش میں گھر سے نکلا۔ میں نے ڈرتے ہوئے اس سڑک پر گاڑی ڈال دی جہاں پرانے حجام کی دکان واقع تھی۔ کچھ دور جا کر مجھے وہ دکان کھلی ہوئی نظر آئی۔ کیا میں خواب دیکھ رہا تھا؟ حجام تبدیل نہ ہونے کی خواہش مجھے یہ منظر دکھا رہی تھی، یا میرے لاشعور سے نکلی دعا میں اتنی طاقت تھی کہ اس نے ہونی کو ٹال دیا؟ دکان سچ مچ کھلی ہوئی تھی۔ میں اندر داخل ہوا۔
”آپ گئے نہیں؟“ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے میں نے پوچھا۔ ”بھائی جان، میں نے ایک چیز سیکھی ہے۔ رشتہ داروں سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیے!“ وہ پچھلے ہفتے کی طرح ہی قدرے جھک کر میرے بال کاٹ رہا تھا۔ لیکن آج اعتماد اور پھرتی کی جگہ مایوسی اور اضمحلال نے لے لی تھی۔ اور اس کا وجود گویا یہ دہائی دے رہا تھا کہ میرے نصیب میں تو یہی جگہ لکھی تھی۔ ”کیوں، کیا ہوا؟“ مجھے اپنا سوال قطعی غیر ضروری لگا۔ لیکن حجام نے بلا توقف شکایتوں کے انبار لگا دیے۔ میں جب اپنے کپڑے جھاڑ کر جانے لگا تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے رنجیدگی سے بولا: ”سچ تو یہ ہے غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا!“
میں اگلی دفعہ حجامت کے لیے آیا تو پچھلی باتیں میرے ذہن سے نکل چکی تھیں۔ مگر حجام نے پھر وہی موضوع چھیڑ دیا: ”بس، میری ایک دوست سے بات ہو گئی ہے۔ اس کے ایک کزن کا دوست ملائشیا میں رہتا ہے۔ وہ مجھے اپنے پاس وہاں بلائے گا۔ رشتہ داروں کی ایسی کی تیسی۔ میں ان سب کو باہر جا کر دکھاؤں گا!“
اس روز مجھ سے ایک غلطی ہو گئی۔ میں حجام کے آگے یہ بول بیٹھا کہ میں نے فلاں ملک میں بڑے بڑے سیلونز میں چاق و چوبند لڑکے لڑکیوں کو کٹنگ کرتے دیکھا تھا۔ میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ میری نظر شیشے میں حجام پر پڑی۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ اپنا کام چھوڑ کر ہمہ تن گوش میری بات سن رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور لبوں پر مسکراہٹ۔ گویا اس کا تخیل کسی اور ملک میں پرواز کر چکا تھا۔
اگلی دفعہ میں حجام کے پاس آیا تو وہ پولو شرٹ میں ملبوس ایک شخص کی حجامت بنا رہا تھا۔ میں اپنی باری کے انتظار میں وہاں بیٹھ گیا۔ حجامت سے زیادہ وہ راز و نیاز کی گفتگو لگ رہی تھی۔ وہ حجامت کرتے کرتے ایک دم ٹھہر جاتا۔ اور شیشے سے چمکدار آنکھوں اور زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ اس شخص کی طرف دیکھنے لگتا۔ میں ان کی گفتگو میں تکرار سے بولے کچھ الفاظ ہی سمجھ سکا: ”اٹلی،“ ”فرانس“ اور ”سوئٹزرلینڈ۔“ میں نے سوچا کہ پھر اس بھلے آدمی کو کوئی سبز خواب دکھا رہا تھا۔
اب اس حجام کے پاس جانا میرے لیے ایک امتحان بن گیا۔ حجامت کم تھی شامت زیادہ۔ جیسے ہی میں کرسی پر بیٹھتا میرا انٹرویو شروع ہو جاتا۔ ”اچھا تو آپ اور کس کس ملک گئے ہوئے ہیں؟“ ”آپ کسی اور ملک شفٹ کیوں نہیں ہو جاتے؟ اس ملک میں کیا رکھا ہے!“ جب اس کو لگتا کہ میں اس کے سوالوں میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا تو وہ موضوع تبدیل کر دیتا: ”لے، مجھے آج پتہ چلا کہ ترکی اور یونان کی سرحدیں ملتی ہیں۔“ یا ”درست تلفظ کناڈا ہے، کینیڈا نہیں۔“
اگلی بار میرے ذہن میں ایک ترکیب سوجھی۔ اس سے پہلے کہ حجام مجھ سے کوئی ایسی ویسی بات کرے۔ میں نے اپنے جغرافیہ کے محدود علم کی روشنی میں اسے کسی نہ کسی ملک کی ورچوئل سیر کرانے کا سوچا۔ ”آپ کو پتہ ہے کہ قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات ساتھ ساتھ واقع ہیں!“ اس روز میں حجام کو گلف کا محل وقوع سمجھا رہا تھا۔ ”اور آذربائیجان؟“ اس نے بچوں کی سی معصومیت سے پوچھا۔ ”ہاں، ہاں وہ بھی ساتھ ہی ہے،“ میں نے جواب دیا۔
اب میرا یہ معمول بن گیا کہ انٹرنیٹ سے کسی نہ کسی ملک کے بارے میں پڑھ کر جاتا۔ تاکہ حجام کی سیٹ پر تیس چالیس منٹ سکون سے گزار سکوں۔ بالکل امتحان کی تیاری کر کے جانے والے طالب علم کی طرح۔ ”یہ سری لنکا کیسا ملک ہے؟“ ایک روز میں سیٹ پر آ کر بیٹھا ہی تھا کہ حجام نے یہ سوال داغ دیا۔ ”س۔“ میری زبان لڑکھڑائی۔ جیسے سوال نصاب کے باہر سے آ گیا تھا۔ پھر اس نے خود ہی موضوع تبدیل کر دیا۔ گویا اسے جواب مل گیا تھا کہ سری لنکا رہنے کے لیے کوئی اتنی مناسب جگہ نہیں۔
ایک روز وہ میری حجامت بناتے ہوئے کچھ چپ چپ سا تھا۔ میں نے سوچا کہ اس سے وجہ پوچھوں۔ لیکن میں خاموش رہا۔ بہتر تھا کہ ہم اپنے اپنے آپ میں رہیں۔ ”بھائی، اس ملک کا کیا بنے گا؟“ اس نے میرے بالوں میں قینچی چلاتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔ پھر کئی بار اسی سوال کو دہرایا۔ میں نے اس تبدیلی پر سکھ کا سانس لیا۔ مجھے کم از کم اب ملکوں ملکوں کی معلومات اکٹھی نہیں کرنی پڑیں گی۔ گویا حجام کے سر سے باہر جانے کا بھوت اتر چکا تھا۔ اس کی مثال ایک ایسے شخص کی سی تھی جو کئی روز کے بعد اپنے گھر پہنچا تھا۔ اور بے توجہی سے گھر کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔ لیکن دیر آید درست آید۔ میرا بھی یہی ماننا تھا کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے اس پر صبر شکر کرے۔
اگلی بار جب میں حجامت بنوانے آیا تو حجام کی دکان بند پڑی تھی۔ کسی اور ملک پرواز تو نہیں کر گیا؟ میں نے سوچا اور گاڑی روک کر ساتھ والی دکان سے حجام کے بارے میں پوچھا۔ مجھے یہ جواب ملا: ”ارے، جانا کہاں تھا! کئی ماہ سے دکان کا کرایہ نہیں دیا تھا۔ مالک نے دکان خالی کرا لی۔“


