نثار، شاہد اور مہتاب کی ”سیاست“ پارٹ 1۔


ملکی سیاست میں چوہدری نثار علی خان، شاہد خاقان عباسی اور سردار مہتاب احمد خان کا بڑا نام ہے۔ تینوں نے مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم پر خوب سیاست کی تینوں کا سیاسی سفر کم و بیش ایک ساتھ ہی شروع ہوا اگرچہ چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ (ن) نے 6 سال قبل علیحدگی اختیار کر لی تھی لیکن شاہد خاقان عباسی اور سردار مہتاب احمد خان نے اکٹھے ہی نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔ ان تینوں قد آوروں کی نواز شریف سے رفاقت 3، 4 دہائیوں پر مشتمل تھی۔ اگرچہ ہمارے ان ”تین سیاست دانوں کی تین مختلف کہانیاں“ ہیں لیکن ان کا ہیرو ایک ہی ہے۔ تینوں نواز شریف کی ”کچن کیبنٹ“ کے رکن تھے۔

کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے قبل نواز شریف ان سے مشاورت ضرور کرتے تھے۔ صوبہ سرحد کا نام ”خیبر پختونخوا“ رکھنے کی حمایت سے قبل نواز شریف نے سردار مہتاب احمد خان کو اعتماد میں لیا۔ نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو اپنا سیاسی جانشین بنایا اور انہیں وزارت عظمیٰ کی دستار فضیلت عطا کی۔ چوہدری نثار علی خان کے پاس کبھی پارٹی کا کوئی عہدہ نہ رہا لیکن میاں صاحب ان سے مشاورت کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرتے تھے۔ وہ نواز شریف کی موجودگی میں ”ڈیفیکٹو پرائم منسٹر“ تھے جب کہ انہوں نے پورا صوبہ خیبر پختونخوا سردار مہتاب خان کے حوالے کر دیا تھا۔

آخر وہ کیا وجہ تھی کہ تینوں نے مختلف اوقات میں نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیا شاید تینوں نے مختلف وجوہات کی بنا ء پر مسلم لیگ (ن) کی کشتی سے چھلانگ لگائی ہو لیکن ان کے درمیان ایک قدر مشترک تھی۔ تینوں نے مریم نواز کی قیادت کو قبول نہیں کیا سردار مہتاب احمد خان کو کے پی کے کا گورنر و وزیر اعلیٰ بنایا لیکن انہوں نے امیر مقام اور مرتضیٰ جاوید عباسی سے تصادم کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) سے سیاسی راستے الگ کر لئے۔

مجھے یاد ہے جب 2017 ء میں نواز شریف زیر عتاب آ گئے تو چوہدری نثار علی خان بھی اکھڑے اکھڑے نظر آئے میں نے پنجاب ہاؤس میں چوہدری نثار علی خان سے کہا کہ ”چوہدری صاحب! نواز شریف اور آپ ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم ہیں۔ اگر آپ نے نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیا تو عوام آپ کے اس فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے۔ “ چوہدری نثار علی خان میرے حقیقت پسندانہ تجزیہ کو ہضم نہ کر پائے اور غصے میں اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور یہ کہہ کر نشست ختم کر دی ”آپ کا تجزیہ میری توہین کے مترادف ہے۔ “

چوہدری نثار علی خان کو اس بات کا زعم تھا کہ انہوں نے پچھلے 30، 35 سال کے دوران واہ، ٹیکسلا، وادی سواں کے عوام کی بے پناہ خدمت کی ہے۔ اس کے صلے میں حلقہ کے عوام انہیں پارٹی ٹکٹ کے بغیر بھی پارلیمان بھجوا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ چوہدری نثار علی خان نے اپنے حلقہ ہائے انتخاب میں اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی کام کرائے ہیں جو اس پسماندہ علاقے کے عوام کو ہمیشہ یاد رکھنے چاہیں لیکن انسانی فطرت ہے جب کوئی شخص کسی کو نفع یا نقصان دینے کی پوزیشن میں نہ ہو تو لوگ اسے بھلا دیتے ہیں اور پارٹی وابستگی کو ترجیح دیتے ہیں۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو لوگ چوہدری نثار علی خان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے۔ آج ان کو نیچا دکھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ جن دنوں چوہدری نثار علی خان کے ساتھ 30، 40 الیکٹیبل ساتھ دینے کے لئے تیار تھے۔ چوہدری نثار علی نے مسلم لیگ (ن) میں اپنے ہم خیال دوستوں کو ملاقات کے لئے وقت دیا اور نہ ہی عمران خان کی دعوت پر پی ٹی آئی جائن کی۔ وہ انہیں 2018 کے انتخابات میں پارٹی کے تمام ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار دینا چاہتے تھے لیکن چوہدری نثار علی خان نے یہ کہہ کر پی ٹی آئی جائن کرنے سے انکار کر دیا کہ ”نوز شریف کے ساتھ 35 سال گزار دیے ان کے ساتھ تو ایک دن بھی نہیں گزار سکتا۔ ”

انا اور عزت نفس نے چوہدری نثار علی خان کو مسلم لیگ (ن) میں واپس جانے سے روک دیا دوبارہ جاتی امرا کا رخ نہیں کیا۔ مسلم لیگ (ن) میں بیٹھے ہوئے مخالفین نے بھی ان کی واپسی کے دروازے بند کر دیے۔ چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی پر کھل کر کوئی بات کرتے ہیں اور نہ ہی نواز شریف مٹھی کھولنے کے لئے تیار ہیں۔ میں نے نواز شریف سے دو بار چوہدری نثار علی خان اور ان کے درمیان اختلافات کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کی نواز شریف وضعدار شخص ہیں۔ کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا۔

پہلی بار اڈیالہ جیل میں ان سے چوہدری نثار علی خان سے دوریوں بارے پوچھا تو انہوں نے کوئی جواب دینے کی بجائے یہ کہہ کر بات ختم کر دی ”اس موضوع پر پھر کبھی بات کروں گا“ دوسری بار جب جلاوطنی کے ایام میں ان کا لندن سے فون آیا تو انہوں نے اس معاملہ پر کوئی بات نہیں کی اور کہا کہ ”اللہ تعالی خیر کرے گا“ اب تو شاید ہی کوئی شخص نواز شریف سے چوہدری نثار بارے بات کرنے کی جرات کرتا ہو اور نہ ہی وہ کسی کی بات سننے کے لئے تیار ہیں۔

اس لڑائی سے دونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اگرچہ امام دین گجراتی نے یہ شعر کسی اور حوالے کہا تھا لیکن یہ شعر نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کی ناراضی کی عکاسی کرتا ہے۔ ؂ لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے روئے تسی وی او، روئے اسی وی آں۔ اگر چوہدری نثار علی خان رل گئے تو نواز شریف بھی کم خوار نہیں ہوئے۔ نواز شریف کا اقتدار تیسری بار چھین لیا گیا 6 سال تک جلاوطنی کی زندگی بسر کی چوہدری نثار علی خان دو الیکشن ہارنے کے بعد بھی مسلم لیگ (ن) میں واپس جانے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔

جب نواز شریف ناکردہ گناہوں کی سزا میں نا اہل قرار دے دیے گئے تو ان کی نظر انتخاب شاہد خاقان عباسی پر پڑی۔ چوہدری نثار علی خان جو نواز شریف کے بہت قریب تصور کیے جاتے تھے، نے برملا کہا کہ ”نواز شریف مجھے وزیر اعظم نہیں بنائیں گے۔“ سو ایسا ہی ہوا شاہد خاقان عباسی وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد چوہدری نثار علی خان کے پاس پنجاب ہاؤس گئے اور ان سے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے پر اصرار کیا لیکن چوہدری نثار علی خان نے یہ کہہ کر کہ ”میں عزت کے لئے سیاست کر رہا ہوں وزارت کے لئے سیاست میں نہیں آیا“ وزارت کا حلف لینے سے انکار کر دیا اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے ایک تاریخی جملہ کہا کہ ”چوہدری صاحب میرا اور آپ کا مسلم لیگ (ن) کے سوا کہیں گزارا نہیں ہم نے کہیں اور نہیں جانا“

چوہدری نثار علی خان نے وزارت کا حلف نہ اٹھایا اور دن بدن ان کے اور نواز شریف کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے ٹیکسلا میں انہوں نے مریم نواز کی قیادت میں کام نہ کرنے کا اعلان کر کے رہی سہی کسر نکال دی نواز شریف نے مریم نواز کو پارٹی کی قیادت دینے کے فیصلے پر عمل درآمد کچھ عرصہ کے لئے موخر کر دیا لیکن چوہدری نثار علی خان کو پارٹی ٹکٹ نہ دے کر ان کی کشتی کو تھپیڑوں کے حوالے کر دیا (جاری ہے۔ ) ۔

Facebook Comments HS