خدارا! اپنی بچیوں کو ثانیہ زہرا نہ بننے دیں


کچھ دن پہلے ایک خبر گردش کر رہی تھی کہ ثانیہ زہرا جس کی عمر 20 سال تھی وہ حمل سے تھی اس کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔ مقتولہ کا تعلق ملتان شہر سے بتایا جا رہا ہے۔

جب ہم اس واقعے کی تفصیلات میں جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ
ثانیہ زہرا کی شادی محض 16 سال کی عمر میں سید علی رضا نامی شخص سے کر دی جاتی ہے۔

مقتولہ کی شادی ارینج میرج ہے اور والدین کو قاتل کے خاندان کا رشتہ مانگنے کا انداز پسند آتا ہے اس لیے وہ اس کی شادی کر دیتے ہیں۔

20 سال کی عمر تک ثانیہ زہرا 2 بچوں کی ماں بن چکی ہوتی ہے اور تیسرا بچہ ابھی اس دنیا میں نہیں آیا ہوتا کہ اس لڑکی کو قتل کر دیا جاتا ہے۔

ثانیہ کالج پڑھنے بھی جاتی ہے اور بچوں کو بھی پالتی ہے۔

ثانیہ کا شوہر بہت زیادہ مار پیٹ کرتا ہے وہ ایک دفعہ گھر واپس آتی ہے معاملہ کسی طرح ختم کیا جاتا ہے اور وہ سسرال چلی جاتی ہے۔

ثانیہ کو گھر میکے نے دیا ہوتا ہے جبکہ اکثر و بیشتر اس کا شوہر اور دیگر سسرال والے اپنے فون سے ثانیہ کی بات اس کے میکہ والوں سے کراتے ہیں فون سپیکر پہ ہوتا ہے۔

ثانیہ کو والدین کے گھر جانے کی یا ان سے ملنے کی کوئی اجازت نہیں ہوتی۔

جب کوئی والدین یہ سب دیکھ رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کے ساتھ اس قدر ظلم ہو رہا ہے کہ اس کو زبردستی معاشرتی بائیکاٹ کرایا گیا ہے اس کے باوجود وہ چپ رہتے ہیں تو کیا والدین قصوروار نہیں ہیں؟ بچی خود کمانے کا قابل نہیں تھی کہ وہ اس غلیظ انسان کو چھوڑ کر اپنی الگ سے زندگی شروع کرتی تو کیا یہ والدین کا فرض نہیں تھا کہ پہلے اس کی تعلیم مکمل کراتے۔

ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں مرد حضرات عموماً اپنی عورت کی عزت نہیں کرتے اور جو عورتیں اس سب کو برداشت کرتی ہیں وہ اپنے پر خود ظلم کرتی ہیں۔

مرد اگر خیال رکھ رہا ہے کما رہا ہے تو وہ عزت کا حقدار ہے آپ اسے بھرپور مان دیں اسے خوش رکھیں لیکن وہ مرد اس بات کا حقدار نہیں کہ آپ کو ذہنی طور پہ ٹارچر کرے یا جسمانی تشدد کرے۔ عورت ہونا کوئی بری بات نہیں نہ کہ یہ کہ دوسری شادی نہیں ہوگی۔ جو عزت دار اور غیرت مند انسان ہے وہ ہر صورت اپنی عورت کی خود بھی عزت کرے گا اور معاشرے میں بھی عزت کروائے گا۔

کسی بھی گھسے پٹے، کمزور کردار اور کمزور ذہنیت کے مرد کے ساتھ زندگی گزارنے سے لاکھ درجے بہتر ہے لڑکی اکیلے رہ لے اور اچھے انسان دنیا میں کم ضرور ہیں ختم نہیں ہو گئے جو اس کے لیے بہترین ہو گا اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا فرما دیں گے۔

اپنی بیٹیوں کو بہادر بنائیں، معاشی لحاظ سے مستحکم اور خوددار۔
اس میں عورت کی بقا ہے اسی میں معاشرے کی بقا ہے۔

Facebook Comments HS