فیملی کیسز، نابالغان کی کسٹڈی اور ہمارا نظام عدل


معاشرہ میں مجموعی طور پر عدم برداشت کا سب سے زیادہ اثر فیملی لائف پر پڑ رہا ہے، میاں بیوی میں علیحدگی اور طلاق سے اگر کوئی فریق متاثر ہو رہا ہے تو وہ صرف اور صرف ان کے بچے ہیں، والدین تو علیحدگی کے بعد دونوں ہی اپنے اہداف میں مگن ہو جاتے ہیں مگر نابالغان پستے رہتے ہیں، اپنی انا کی تسکین اور دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے بچے عدالتوں میں والدین کے درمیان فٹ بال بنے ہوتے ہیں، فیملی اور گارڈین قانون نے سب سے زیادہ ”نابالغ کی فلاح“ پر فوکس کیا ہے مگر والدین، عدالتیں اور معاشرہ نابالغ اور اس کی فلاح کو ہمیشہ پس پشت رکھتے ہیں، سب سے زیادہ ظلم کسٹوڈیل گارڈین کرتا ہے، اس کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ نان کسٹوڈیل گارڈین سے نابالغ کی ملاقات یا تو کروائے نہ یا ملاقات میں رخنہ ضرور ڈالے۔

وہ والد جو کسٹوڈیل گارڈین ہونے پر نابالغ پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اور اولاد پر اپنا سب کچھ لٹا دینے کو ترجیح دیتا ہے وہ ہی والد نان کسٹوڈیل گارڈین ہونے پر سکول فیس دینے سے بھی کتراتا ہے، نابالغ کی کسٹڈی کا ایک کیس جس میں، میں خود وکیل ہوں، والدہ اپنے خرچہ پر بارہ سالہ نابالغ کو عمرہ پر لے جانا چاہتی ہے مگر والد خود مسلمان ہونے کے باوجود ہر ممکن و غیر ممکن رکاوٹ کھڑی کرنا ثواب سمجھ رہا ہے۔

کیا ہماری انا ہمیں اپنے بچوں کی ویلفیئر سے بھی زیادہ عزیز ہے، اگر بچوں کی تربیت کو ہم اپنی اولین ترجیح نہیں بنا سکتے تو پھر بول فلم کا وہ ڈائیلاگ سچ لگتا کہ ”جب پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو“ کسٹڈی کا فیصلہ کرتے ہوئے نابالغ کی ترجیح کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے مگر کسٹوڈین گارڈین نان کسٹوڈین کے خلاف نابالغ کے ذہن میں اس قدر آلودگی پیدا کر دیتا ہے کہ باقی ساری زندگی نابالغ اپنے اس نان کسٹوڈیل باپ یا ماں سے نفرت کرتا رہتا ہے تاہم عدالت کو نابالغ کی ترجیحات پر انحصار کرتے وقت دو چیزیں مد نظر رکھنی چاہیے ایک نابالغ کی عمر و پختگی اور دوسرا آیا جس شخص کے نابالغ زیر تربیت ہے اس نے سکھایا پڑھایا تو نہیں۔

بعض اوقات والدین بچوں کی فلاح کو سامنے رکھنے کی بجائے اپنی آسانی کی خاطر نابالغ کی بابت معاہدہ کر لیتے ہیں جبکہ کوئی بھی ایسا معاہدہ/اقرار نامہ جس سے نابالغ کی حضانت والدین میں سے کسی ایک کو دی جائے تو ایسا معاہدہ/ اقرار نامہ غیر قانونی ہو گا اور دوسرا فریق جس کے پاس نابالغ کی کسٹڈی نہیں ہوگی کسی بھی وقت عدالت میں نابالغ کی حضانت کے لئے کیس کر سکتا ہے۔ ویسے بھی اس سے بڑھ کر کیا بیہودگی ہو گی کہ آپ اپنا بچہ کسی دوسرے کے سپرد کر کے خود آزاد ہو جائے۔

ہونا تو یہ چاہیں کہ کسٹوڈیل گارڈین نابالغ کے دل و دماغ میں فریق ثانی کی محبت پیدا کرے اور اگر بچے ماں کے پاس ہوں تو بھی والد ایسے خرچہ نان و نفقہ ادا کرے جیسے اگر اس کے اپنے پاس ہوتے تو خرچ کرتا۔ ایسا نابالغ جس سے ابتدائی زندگی میں اپنے حقیقی والدین کو آپس میں وکیلوں اور عدالتوں کے سامنے لڑتے، گالی گلوچ کرتے اور برملا نفرت کا اظہار کرتے دیکھا ہو وہ کیسے دنیا میں محبت میں کو فروغ دے گا۔ میں نے لوگوں کو سامان جہیز، خرچہ نان و نفقہ اور نابالغان کی حضانت کے لیے دس دس سال عدالتوں میں خود کو اور بچوں کو ذلیل کرتے دیکھا ہے۔

پاکستان میں عائلی قوانین اور گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ کو سپیشل قوانین کا درجہ حاصل ہے اور قانون ڈیمانڈ کرتا ہے کہ اس نوعیت کے دعویٰ جات کو چھ ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کیسز کے فیصلوں سے قبل عورت عدت گزار کر دوسری شادی سے بچے پیدا کر کے انہیں جوان کر چکی ہوتی ہے۔ میں کتنے کیسز دیکھ چکا ہوں کہ نابالغ کی کسٹڈی کا فیصلہ ہونے سے قبل وہ بالغ ہو جاتا اور پٹیشن غیر موثر ہو کر داخل دفتر ہو جاتی اور تاقیامت انصاف کا منہ چڑھاتی رہتی ہے۔

شریک جرم تو ہم خود بھی ہیں مگر ضمیر کہتا ہے کہ اے صاحبان منصب آئے عہد کرتے ہیں کہ کم از کم عائلی مقدمات میں فوری فیصلے کرتے ہیں بچوں کی ویلفیئر کو ہی بنیادی نقطہ دلیل رکھتے ہیں، شیڈول ملاقات بناتے ہوئے اس امر کا خیال رکھتے ہیں کہ نابالغ کو کم از کم عدالت میں آنا پڑے اور والد صرف اے۔ ٹی۔ ایم کارڈ نہیں فطری گارڈین ہے اور کسٹڈی سے قبل اس بات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے کہ ماں کی گود سے بڑھ کر کوئی آسائش نہیں، فیصلوں سے قبل والدین کو پابند کرتے ہیں کہ نابالغ کی جسمانی، ذہنی و روحانی صحت اور دین و دنیا کی بہترین تعلیم، اچھا سماجی تعلق، نان کسٹوڈیل گارڈین کی عزت و فرمانبرداری، دونوں فریقین مع گرینڈ پیرینٹس و فیملیز کی ہر وقت نابالغ تک رسائی کو یقینی بنائے اور کوئی فریق نابالغ کے ذہن کو آلودہ نہ کر سکے۔

اور اگر کوئی فریق کوئی بھی ایسا کام کرے جو نابالغ کی ویلفیئر پر منفی اثر رکھتا ہو تو اس فریق پر بھاری جرمانہ عائد کرے اور وہ رقم نابالغ کے نام پر منافع بخش سکیم میں اس شرط پر خرچ کر دی جائے کہ وہ صرف نابالغ بعد از بلوغت حاصل کر سکے۔ ایک اور اہم نقطہ جس پر قانون سازی کی بھی ضرورت ہے وہ ہے ایسے بالغ کا خرچہ جو ابھی ابھی عمر بلوغت کو پہنچا ہے اور ابھی زیر تعلیم ہے۔ موجودہ قانون تو کہتا ہے کوئی شخص بالغ بیٹے کو خرچہ دینے کا پابند نہیں مگر کیا ایک کسٹوڈیل باپ اپنے بالغ بچے کی تعلیم مکمل ہونے تک خرچہ نہیں دیتا، ہر کسٹوڈیل والد تعلیم مکمل کرواتا اور تب تک خرچہ دیتا ہے جب تک بچہ کمانے کے قابل نہ ہو جائے۔

تو پھر ایک ایسا شخص / نابالغ جس کا اپنے والدین کی علیحدگی میں کوئی ہاتھ نہیں اور یقیناً نہیں ہو سکتا وہ اس حق سے کیوں محروم ہو جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نابالغ جس کے والدین الگ ہو چکے ہیں اور وہ نابالغ والدین کا فرماں بردار بھی ہے اسے محض بلوغت کی وجہ سے خرچہ کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہیں اس کی تعلیم مکمل کروا کر خود مختار بنانا والد کی ہی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا والد کو چاہیے کہ وہ اس کو اٹھارہ سال کا ہونے کے باوجود خرچہ دے اور ڈگری وغیرہ مکمل کروائے۔

Facebook Comments HS