پی ٹی آئی پر پابندی اور اس کے مضمرات


جب کوئی بھی سیاسی حکومت یا غیر سیاسی قوتیں کمزور بنیادوں پر کھڑی ہوں یا ان پر سیاسی ماحول کا خوف ہو تو ان کے فیصلوں میں بھی سیاسی سطح پر سیاسی حکمت عملی کا فقدان غالب ہوتا ہے۔ اس وقت کا سیاسی نظام ایک بڑے سیاسی بندوبست اور اسٹیبلیشمنٹ کی بنیاد پر کھڑا نظام ہے جو کئی محاذوں پر اپنی ساکھ کے حوالے سے بھی کئی سوالیہ نشان رکھتا ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی طرف سے پی ٹی آئی پر بطور جماعت سیاسی پابندی اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ، سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری پر آئین شکنی پر آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان سوائے سیاسی بوکھلاہٹ سمیت پہلے سے موجود کمزور سیاسی اور جمہوری نظام کو کمزور کرنا اور اس نظام کو پیچھے کی طرف دھکیلنا ہے۔

ایسے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ میں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے اور ان کی جماعت کی سیاسی و پارلیمانی حیثیت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ حکومت اور ان کے اتحادیوں سمیت غیر سیاسی قوتوں کے لیے بھی سیاسی دھچکہ ہے۔ یہ جو ہمیں حکومتی سطح پر سخت گیر اور غیر سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر ردعمل یا فیصلے دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی عزائم کو عدلیہ نے اپنے فیصلے کے تحت بڑا دھچکا دیا ہے ، جو قابل قبول نہیں۔

سیاسی جماعت پر پابندی کا فیصلہ ہو یا پارٹی کی مخصوص قیادت پر غداری کا مقدمہ چلانا ہو یہ خود ہماری سیاست ، جمہوریت ، آئین ، قانون اور حکومت کے خلاف ہوگا۔ ایسے لگتا ہے کہ حکومت نے آئین و قانون کی اپنی تشریح کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے مگر کیا یہ فیصلہ آئینی و قانونی محاذ پر یا عدلیہ میں قبولیت حاصل کرسکے گا ، امکان کمزور نظر آتا ہے۔ کیونکہ عدلیہ نے پہلے ہی 8فروری کے انتخابات اور انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی تلافی کی ہے اور اب اس پر یہ بوجھ ڈالا جائے گا کہ وہ خود پی ٹی آئی پر پابندی کے حکومتی فیصلے کی توثیق کرے جو خود عدلیہ کی بھی سیاسی عمل میں براہ راست مداخلت کے مترادف ہوگا۔

پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملیوں پر لاکھ تنقید کریں اور تنقید کا جواز بھی ہوگا مگر ایک ایسی جماعت جو اس وقت قومی اسمبلی اور سینٹ میں اکثریتی جماعت ہو، جس کا ووٹ بینک 8فروری کے انتخابی نتائج کی روشنی میں سب سے زیادہ ہو اور جس جماعت یا ان کے قائد کی مقبولیت بھی سب سے زیادہ ہو تو ایسے میں اس جماعت پر پابندی کا مقصد ہم کو سوائے ایک بڑی سیاسی تقسیم اور سیاسی انتشار کی صورت میں ہی دیکھنے کو ملے گا۔حالانکہ مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادیوں کی پہلے ہی سے اقتدار کی گرفت کمزور ہے اور ایسے میں سیاسی حکمت عملی یا بڑی سیاسی قوت کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کی بجائے آئین و قانون ، عدلیہ یا طاقت کی بنیاد پر ختم کرنا یا اسے دیوار سے لگانے کی حکمت عملی سوائے ناکامی کے کچھ نہیں دے سکے گی۔

ایسے لگتا ہے کہ مجموعی طور پر ہم بطور ریاست یا حکومت سیاسی و جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور اسے پیچھے کی طرف دھکیلنے کے کھیل کا حصہ بن کر خود ہی ملک کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب حکومتیں عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر اس کی مخالفت میں سیاسی لنگوٹ کس لیں اور عدلیہ کی سطح پر ایک عدلیہ مخالف مہم کا حصہ بن جائے تو ریاستی اداروں اور سیاسی اداروں کے درمیان ٹکراو کا یہ منظر نامہ کیسے ہمیں سیاسی ،جمہوری یا معاشی بنیادوں پر مستحکم کرسکے گا۔

قومی سیاست میں غداری کے سرٹیفکیٹ، بغاوت، قومی سلامتی یا سیکیورٹی رسک یا ملک دشمنی کے الزامات کا سیاسی چورن پرانا ہوگیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ یعنی پی ٹی آئی پر پابندی اور غداری کے مقدمہ پر عملدرآمد ہو یا نہ ہو مگر حکومت کے سیاسی عزائم واضح ہیں جو اپنے سیاسی مخالفین سے سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم نظر آتی ہے۔ مسلم لیگ ن کا ایک مقابلہ پی ٹی آئی سے ہے تو دوسری طرف عدالت کی بنیاد پر نیا محاذ کھولا جا رہا ہے۔

وہ اس فیصلے میں سیاسی طور پر تنہا بھی کھڑی ہے ،کیونکہ براہ راست اس فیصلے کی حمایت میں اس کے اتحادی بھی پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں اور کچھ مسلم لیگ ن میں بھی ایسے لوگ ہیں جو حکومت یا اپنی جماعت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ سیاسی جماعت پر پابندی یا عدلیہ مخالف مہم سے خود کو علیحدہ رکھا جائے وگرنہ پارٹی کی سیاسی ساکھ کو اور زیادہ سیاسی سطح پر نقصان اٹھانا پڑے گا۔

اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی سے پی ٹی آئی ختم ہو جائے گی یا اس کی مقبولیت کا خاتمہ اور عمران خان بھی غیر اہم ہونگے تو یہ ان کی خوش فہمی ہوگی۔ کیونکہ 8فروری کے انتخابات کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی پر پابندی ہی لگائی گئی تھی ، انتخابی نشان اور جماعت سے محروم کیا گیا ، انتخابی مہم اور جلسے جلوس کی اجازت نہ ملی ، پارٹی کے لوگوں کو دیگر جماعتوں میں شمولیت اور پی ٹی آئی سے علیحدگی پر مجبور کیا گیا ، میڈیا پر پی ٹی آئی کی تشہیر پر پابندی لگائی گئی مگر اس کے باوجود لوگوں نے ووٹ ان ہی کو دیے تھے۔

اس طرح کی پابندیوں کے نتیجے میں پارٹیاں نیا متبادل راستہ اختیار کر کے نئے نام کے ساتھ سیاست کرتی ہیں۔ اس طرز کے فیصلے سے پوری دنیا میں پاکستان کہاں کھڑا ہوگا کیونکہ پہلے ہی عالمی دنیا میں یہ تاثر عام ہے کہ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پی ٹی آئی کو سیاسی دربدر کرنا یا ان کو ختم کرنے میں ریاست اور حکومت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے پی ٹی آئی پر پابندی کی داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر قبولیت نہیں ہوگی اور اس کا ایک بڑا نتیجہ قومی سیاست میں سیاسی انتہا پسندی کی صورت میں ہوگا اور لوگوں کا ریاستی نظام پر اعتماد بھی کمزور ہو گا۔پہلے ہی ریاست اور اسٹیبلیشمنٹ کو مختلف محاذوں پر شدید تنقید کا سامنا ہے اور اب بھی یہ تاثر عام ہے کہ اس کھیل میں بھی حکمران طبقہ کو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ یہ سوچ یقینی طور پر اسٹیبلیشمنٹ کے لیے بھی نئے مسائل کو پیدا کرے گی جس سے گریز کیا جانا چاہیے۔

مسلم لیگ ن میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ عطا تارڑ کی پریس کانفرنس یا پی ٹی آئی پر پابندی یا غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کب ، کہاں اور کس نے کیا کیونکہ مسلم لیگ ن کی بیشتر قیادت پریس کانفرنس سے قبل اس فیصلے سے لاعلم تھی۔ اسی طرح اتنا بڑا فیصلہ حکومتی سطح پر ہوا مگر حکومتی سطح پر کسی بھی اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جو مزید حکومت کو سیاسی محاذ پر تنہا کرے گا۔اسی طرح اس طرح کے فیصلے کی ٹائمنگ بھی دیکھنی ہوگی کہ ایک طرف حکومت کی مخالفت میں عدالتی فیصلہ اور دوسری طرف اس کے رد عمل میں حکومت کی عدلیہ اور پی ٹی آئی کے خلاف نئی مہم جوئی ظاہر کرتی ہے کہ حالات میں بگاڑ پیدا کرنا یا مہم جوئی کرنا کسی کا ایجنڈا بھی ہے۔

پی ٹی آئی کے خلاف یہ فیصلہ قانونی کم اور سیاسی زیادہ ہے اور سیاست کی بنیاد پر یا سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ کر کے کسی کو نشانہ بنانے کا کھیل سیاست میں مزید الجھاؤ پیدا کرے گا۔سیاسی اختلافات کا ہونا اپنی جگہ مگر ہمیں سیاسی اختلافات کو اس نہج پر نہیں لے جانا چاہیے کہ ہم کسی کے لیے اور وہ بھی مقبول جماعت کے لیے ہی سیاسی راستوں کو بند کرنا چاہتے ہیں ، کوئی حمایت نہیں کرے گا۔ اگر سیاسی جماعتیں اس پابندی اور غداری کے معاملات میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر حکومت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں تو ان تمام سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہوگی اور ان ہی کے فیصلوں یا حمایت کی بنیاد پر سیاسی اور جمہوری نظام کو کمزور بھی کیا جائے گا اور اسے پس پشت بھی ڈالا جائے گا۔

جمہوریت کی جو بچی کچی ساکھ ہے وہ بھی متاثر ہوگی اور اس کے نتیجے میں سیاسی قوتوں کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔ ایک ایسا ملک جسے سیاسی ، معاشی اور سیکورٹی استحکام درکار ہے اور جو علاقائی ، عالمی اور داخلی سیاست میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو وہاں سیاسی مخالفین کے خلاف اس طرز کی مہم جوئی یا سیاسی تماشہ کا کھیل کیسے ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ دے سکے گا اور کیوں دنیا اس کھیل میں محض تماشائی کا کردار ادا کرے گی۔ یہ ایک نئی دنیا ہے جہاں پرانے خیالات اور پرانے فرسودہ روایات یا سیاسی حکمت عملیاں کمزور ہو رہی ہیں۔ لوگ سوالات اٹھا رہے ہیں اور اس طرح کی منفی مہم جوئی کو کسی بھی سطح پر قبول نہیں کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS