اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ۔ ایک ممکنہ حل
عام انتحابات کو ہوئے پانچ مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں (تحریک انصاف اور جے یو آئی) نے بھی اسمبلیاں جائن کر لی ہیں۔ مگر انتحابات کے غیر شفاف ہونے کے اپنے بیانیے پر نہ صرف قائم ہیں بلکہ ان کو کالعدم قرار دے کر نئے الیکشن کرانے کے مطالبے پر مصر ہیں اور اس سلسلے میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کی کوشش میں ہیں۔ انتحابات کے بعد اگرچہ تحریک انصاف کی قیادت نے کارکنوں کو سڑکوں پر آنے کے لیے متعدد کالز دیں جو تاحال کامیاب اور موثر ثابت نہیں ہوئے دوسرے کئی عوامل کے ساتھ اس حوالے سے ناکامی کی بڑی وجہ تحریک انصاف میں عمران خان کے بعد ایسی معتبر اور جاندار قیادت کا فقدان ہے جس کی رہنمائی اور نگرانی میں اس کے کارکن متحرک ہو جائیں۔
البتہ اگر عمران خان کو مقدمات سے ریلیف مل جائے تو پھر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔ اگرچہ حکومت کی کوشش یہ ہے کہ عمران خان کو پابند سلاسل رکھا جائے۔ جس کے لیے حکومت کو عدلیہ کا تعاون درکار ہے مگر عدلیہ کی طرف سے مختلف مقدمات میں عمران خان کو اور حالیہ مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے میں تحریک انصاف کو جو ریلیف ملا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ عدلیہ کی سوچ کچھ مختلف ہے یوں حکومت کی خواہش اور کوشش کے باوجود عمران خان کو لمبے عرصے تک زیر عتاب رکھنا شاید آسان نہ ہو۔
پھر بالفرض عمران خان کو کسی طریقے سے زیر حراست رکھا بھی گیا لیکن اگر تحریک انصاف کا جے یو آئی کے ساتھ متفقہ لائحہ عمل طے ہو گیا (جس کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں ) تو پھر مولانا فضل الرحمان کی زیر قیادت ایسی صورت حال برپا ہونے کا زیادہ امکان ہے جو حکومت کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ حکومت کے خلاف کوئی مشترک مجاز تشکیل پا سکتا ہے یا نہیں تاہم یہ بات قدرے یقینی ہے کہ اپوزیشن ( مولنا فضل الرحمان اور بالخصوص تحریک انصاف) والے اسمبلیوں کو جائن کرنے باوجود انتحابات میں اپنے مینڈیٹ کے مبینہ چوری کیے جانے کے بیانیے اور نئے انتحابات کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بلکہ اس سلسلے میں مختلف حوالوں سے سرگرمی دکھاتے رہیں گے۔ جس کے نتیجے میں پہلے سے مختلف جہت مسائل سے دوچار حکومت مزید دباؤ کا شکار رہی گی۔ مسلم لیگ نون کی حکومت اتحادی جماعتوں کی حمایت پر قائم ہے، اور کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اپنی پانچ سالہ مدت صحیح سلامت گزار سکی گی۔ اس کے سر پر تناؤ اور غیر یقینی کی فضا میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام کی تلوار لٹکتی رہے گی جس کے اثرات نہ ملک اور قوم کے لیے اور نہ نون لیگ کے لیے اچھے ہوں گے۔
اس لیے اس کی قیادت کو جلد یا بدیر اپوزیشن کے نئے انتحابات کرانے کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرنا پڑے گا۔ اگرچہ اس ضمن میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں فوری نئے الیکشن کا انعقاد نہ تو بوجوہ آسان ہے اور نہ معقول اور مفید ہو سکتا ہے۔ ایسے میں بہتر صورت یہ ہو گی کہ کوئی ایسا درمیانی راستہ تلاش کیا جائے۔ جس پر سب کا اتفاق کرنا ممکن ہو۔ اس سلسلے میں ایک ممکنہ حل یوں ہو سکتا ہے کہ اگر فریقین وسیع تر قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا کریں تو ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی بنیاد پر کوئی معقول سمجھوتہ طے کر لے جس کے تحت حکومت عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف مقدمات ختم کرائے۔
دو سال کے اندر شفاف انداز میں نئے انتحابات کے انعقاد کی ضمانت دی جائے۔ اور اس کے بدلے قومی معیشت کے استحکام کے لیے مولانا فضل الرحمان اور تحریک انصاف حکومت کے خلاف ممکنہ احتجاجی تحریک کا ارادہ ترک کرے۔ اس کے علاوہ زیادہ خوش آئند یہ ہو گا اگر نئے الیکشن تک کے عرصے میں حکومت کی تشکیل اس طرح کی جائے جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہو تاکہ دوسرے اہم قومی معاملات سے نمٹنے کے ساتھ شفاف الیکشن کے لیے ضروری آئینی اور قانونی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم اگر اپوزیشن اور حکومت اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کے بجائے اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور جارحانہ رویے پر قائم رہے تو خدا ناخواستہ حالات کا ایسا رخ اختیار کرنے کا شدید خدشہ ہو سکتا ہے۔ جو نہ ملک و قوم نہ جمہوریت اور نہ سیاسی فریقین میں کسی کے لیے نیک شگون ہو گا بلکہ اس کے زیادہ ذمہ دار ان سیاسی فریقین کو ٹھہرایا جائے گا۔


