افغان کتھا : قسط 02

پاکستان کی جانب طورخم باڈر پہنچنے کے بعد لگ بھگ تین منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد آپ ایک ایسی گلی میں داخل ہوتے ہیں جہاں دونوں اطراف کانٹے دار تاروں سے آپ کا سواگت کیا جاتا ہے۔ باڈر کے اندرونی حصے میں داخل ہونے کے بعد آپ کے پاسپورٹ اور ابتدائی طور پر آپ کے سامان کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اس مختصر جانچ پڑتال کے بعد اگر آپ افغانی ہیں تو آپ سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی اور اگر نہیں ہیں، جس کی نشاندہی آپ کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کر دیتا ہے تو وہ آپ سے وجہ سفر پوچھنے لگتے ہیں جس کا نہ چاہتے ہوئے بھی جواب دینا پڑتا ہے
وہاں پہ تعینات عسکری فرد میرے وطن یعنی چترال سے تعلق رکھتا تھا۔ پاسپورٹ پہ وطن کا نام یعنی گلگت درج دیکھ کہ انہوں نے تشویش ناک نظروں سے دوبارہ ہماری طرف دیکھا جس پہ ہمیں خود پہ شبہ بھی ہوا کہ کہیں ہم کسی اور سیارے سے تو نہیں ہیں یا کسی اور سیارے جا رہے ہیں جو اس طرح دیکھا جا رہا ہے؟ خیر اسی کے ساتھ ہی انہوں نے ہم سے ہمارے ضلع کا نام پوچھا اور دوبارہ وجہ سفر پوچھی تو انہیں اپنے ضلع سے روشناس کراتے ہوئے ہم نے بھی دوسرے سوال کے جواب میں پہلے کی طرح انہیں وہی جواب دیا جو وہ سن چکے تھے۔ اس تمام قانونی کارروائی کے بعد سفر کی نیک خواہشات دیں جس پہ ہم نے تشکر ادا کیا اور اپنا رخت سفر لے کے ہم نکل پڑھے اپنی منزل کی جانب۔
جہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باشندوں نے خدا حافظ کہا وہی اسلامی جمہوریہ افغانستان کے باشندوں نے ہمیں خوش آمدید بھی کہا۔ ان ریاستی باشندوں کو دیکھنے کے بعد ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے ہم ترک ڈرامے ارطغرل کے کرداروں کو دیکھ رہے ہیں۔ خیر ہم فوراً سکتے سے نکلے اور علیک سلیک کی جس پہ انہوں نے بھی وجہ سفر پوچھی۔ یاد رہے یہ وہ دور تھا جب آئی ایف آر پی کے حکم نامے کے مطابق افغان باشندوں جن کی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانونی حیثیت واضح نہ تھی انہیں نکالا جا رہا تھا۔
اس صورت حال میں ہم سے وجہ سفر پوچھنا ایک معمول سی بات تھی۔ ہم نے ارطغرل ڈرامے کے اس کردار کو وجہ سفر بتائی جس پہ انہوں نے خوش آمدید کہا اور ہمیں باڈر پار کا راستہ دکھلایا۔ یاد رہے اس راستے سے نکلتے ہوئے آپ کو وحشت و کرب کی ہر وہ سیڑھی پار کرنی پڑتی ہے جس کا آپ نے گمان تک نہ کیا ہو۔ اس سفر میں جہاں آپ کے دائیں بائیں کانٹے دار تاروں اور جالی کی ایک لمبی باڑ ہوتی ہے وہی جالی کے اس پار آپ کو مہاجرین کیمپ نظر آتے ہیں جن کی تکالیف کو صرف دور سے دیکھا جا سکتا اور درد محسوس کیا جا سکتا ہے یہ درد آپ صرف اس وقت محسوس کر سکتے ہیں اگر آپ بھی کبھی مہاجر رہے ہوں۔ دس منٹ کے اس راستے پہ چلتے ہوئے آپ کو قدرتی طور پر ایک ایسے کرب کا احساس ہوتا ہے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، بیان نہیں!
اس مختصر مگر طویل سفر کے بعد آپ باڈر کے اس پار ہوتے ہیں جہاں سے آپ کو صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صرف پہاڑی سلسلے نظر آتے ہیں۔ جی ایم ٹی کے اوقات کار کے مطابق افغانستان کا وقت پاکستان سے آدھا گھنٹہ پیچھے ہے۔ باڈر کے اس پار پہنچتے ہی پہلے پہل آپ کو پیر ودھائی اڈے میں موجود ہونے کا احساس ملتا ہے جہاں ایک طرف ورکشاپ، میوہ جات کے ٹھیلے اور دکانیں نظر آتی ہیں تو وہیں دوسری طرف ٹیکسی ڈرائیور حضرات مختلف صوبوں کا نام پکار پکار کے سواریوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہوتے ہیں اور جہاں انہوں نے کسی سواری کی نگاہوں کو دیکھ لیا کہ نگاہیں کسی کی تلاش میں ہیں تو وہ اس کے ارد گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اس تمام تر صورت حال میں گھٹن کا احساس بجا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا مختلف صوبوں کا نام اور قیمت بتلا کر سواری بنانے کی کوشش کی گئی چونکہ جانے سے قبل ہم اپنا ہوم ورک کر کے گئے تھے تو انہیں جواب میں بتلا دیا کہ ہمارا پائلٹ یعنی ڈرائیور آیا ہوا ہے تو ان کے ساتھ جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ انہیں ایک دفعہ بتلانے پہ ان میں سے ایک فرد علانیہ طور پر اعلان کر دیتا ہے کہ پرائیویٹ گاڑی والا ہے تو اس کے بعد کوئی بھی شخص آپ سے دوسرا سوال نہیں پوچھتا کہ کہاں جانا ہے؟
جواب سننے کے بعد میرے سامنے سے انسانوں کا یہ جھنڈ یک دم غائب ہو گیا جیسے مسٹر انڈیا میں انیل کپور غائب ہو جاتا ہے اور غائب و موجود کے اس احساس میں آپ کو آگے کا راستہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ باڈر کے اس پار ایک سو میٹر تک پاکستانی نیٹ ورک کی چند سمز کام کرتی ہیں جو کہ ہمارے لیے ایک اچنبھے کی بات تھی اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنے پائلٹ بھائی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔
چند ہی منٹ بعد ہمارے پائلٹ ہمارے پاس آن پہنچے اور علیک سلیک کے بعد ہم نے اپنا رخت سفر اپنی سواری کے حوالے کیا اور اپنی منزل یعنی کابل کا رخ کیا جو کہ ہماری موجودہ جگہ سے سات گھنٹے کی مسافت پہ تھا اور اگلے سات گھنٹوں میں ہم اسلامی جمہوریہ افغانستان کے دارالخلافہ یعنی کابل پہنچ گئے تھے۔ اس کے بعد صوبہ کابل کی کہانی اور وہاں کا طرز زندگی اگلی قسط میں۔


بہت خوب! آپ کے سفرنامے کی پہلی قسط سے بہت محظوظ ہوے۔ قسط دوم کا انتظار رہیگا۔