غریب عوام کا کیا ہو گا
ملک کے حالات دیکھ کر خوف آنے لگتا ہے کہ ملک کے 24 کروڑ عوام کا کیا ہو گا۔ اس 24 کروڑ لوگوں میں سے 80 فیصد لوگ یعنی 20 کروڑ لوگ مہینے میں مشکل سے 30 سے 40 ہزار کماتے ہیں۔ اب بجلی کے بلوں نے ان لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے اور آئے دن بجلی کو مہنگا کیا جا رہا ہے۔ 201 یونٹ والے گھر کا بل 10000 سے اوپر آتا ہے۔ اگر کسے گھر میں 2 سے زیادہ پنکھے چلتے ہیں اور گھر میں فرج اور موٹر ہے تو ایک گھرانا 200 سے زیادہ یونٹ استعمال کرتا ہے۔
اب اگر ایک چھوٹے گھر کا بل 10000 سے اوپر آئے گا تو اس کا گھر کیسے چلے گا۔ دنیا میں کوئی چیز جتنی زیادہ مقدار میں خریدی جاتی ہے اتنی سستی ہو جاتی ہے مگر بجلی کے معاملے میں یہ قانون تبدیل ہو جاتا ہے اگر آپ زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں آپ کا بل اور زیادہ آتا ہے۔ اس لیے جس گھر میں لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ ہوتی ہے ان کا بل بہت زیادہ آ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہے۔
سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے آئی پی پی ایس کا کچا چھٹا کھول کے رکھ دیا ہے، اس کا کہنا ہے کپیسٹی چارجز کی مد میں اربوں روپے آئی پی پی ایس کو دیے جا رہے ہے جو بجلی بھی نہیں بنا رہے۔ گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ 80 فیصد آئی پی پی ایس پاکستانی ہے اور جن کے ساتھ حکومت بجلی کے معاہدوں کو کینسل کر سکتی ہے مگر یہاں حکومت میں بیٹھے لوگوں کے مفادات ہیں وہ یہ کرنے نہیں دی رہے۔
گھر کا ایک بجلی کا خرچہ تو نہیں بجلی کے علاوہ جو گھر کے اخراجات ہیں وہ ایک غریب کیسے پورا کر سکتا ہے۔
اس ملک کے اشرافیہ اور مقتدرہ کی سوچ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ اس بجٹ میں 18 فیصد سیل ٹیکس کی وجہ سے مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے اس سے پورے ملک کے لوگ پریشان ہیں۔ پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر دودھ پیدا کرتا ہے مگر آج پاکستان میں دودھ فرانس سے بھی زیادہ مہنگا ہے۔ اور دودھ چھوٹے بچوں کی غذا ہوتی ہے اب غریب کا بچہ تو دودھ سے بھی محروم ہو گیا۔
کہنے کو تو ہم کہتے ہیں ہمارا ملک زرعی ملک ہیں لیکن ساری زرعی اجناس ہم باہر سے منگواتے ہیں۔ دالیں، چاول، چینی، پیاز اور ٹماٹر تک اب باہر سے امپورٹ ہو رہا ہے۔ جو چیز ہم اپنے ملک میں وافر مقدار میں پیدا کر سکتے ہیں وہ بھی نہیں کر رہے۔ اگر کوئی چیز ملک میں وافر مقدار میں پیدا ہو جاتی ہے تو حکومت ان کا ریٹ گرا دیتی ہے۔ اس سال تو غریبوں کو گندم کا ریٹ نہیں ملا اور ان کو لاکھوں کا نقصان ہوا۔ ہماری کسی حکومت کی زرعی پالیسی اچھی نہیں رہی۔ جو لوگ اسمبلی میں ہیں ان کی ہزاروں ایکڑ زمیں ہوتی ہے ان کو تو کوئی نقصان نہیں ہوتا مگر جھوٹے کاشتکاروں کو بہت نقصان ہوتا ہے۔
اس ملک میں دوائی اتنی مہنگی کر دی گئی ہے کہ اب غریب مر جائے گا لیکن علاج نہیں کرا سکتا۔ کل ایک میڈیکل اسٹور سے والدہ کے لیے آئی ڈراپ لینے گیا جو پہلے 150 کا ملتا تھا اب اس کی قیمت 250 ہو گئی ہے۔ میڈیکل اسٹور والے نے بتایا ہر دوائی مہنگی ہو گئی ہے اور ڈاکٹر جس مریض کو 6 گولی لکھ کے دیتا ہے اور مریض ایک گولی لیتے ہیں۔ اب اس سے مریض ٹھیک تو نہیں ہو سکتا اور زیادہ بیمار ہو سکتا ہے۔
اس ملک کا 80 فیصد غریب گوشت تو نہیں کھا سکتا کیوں کہ بکرے کا گوشت کا ریٹ 2000 کلو تک پہنچ گیا ہے اس لیے وہ سبزی کھاتے تھے مگر اب ہر سبزی کا ریت 200 کلو سے اوپر چلا گیا ہے اور غریب سے ان حکمرانوں نے سبزی بھی چھین لی۔
کھانے پینے کی چیزوں کے نرخوں میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے اور اب سمجھ نہیں آتی اس ملک کا غریب عوام کہاں جائے گا۔
ہمارے ملک سے پڑھے لکھے لوگ تو ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ جو لوگ لاکھوں میں کماتے ہیں وہ بھی ملک چھوڑ رہے ہیں اور نوجوان تو اب اس ملک میں رہنا نہیں چاہتا اور وہ بھی لاکھوں کی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن یہ تو ممکن نہیں کہ 24 کروڑ لوگ ملک چھوڑ جائیں۔ جو لوگ اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں ان کے لیے کوئی بھی نہیں سوچ رہا۔ سیاستدان آپس میں لڑ رہے ہیں، ادارے بھی ایک دوسرے کو ماننے کو تیار نہیں، دہشتگردی ملک میں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے اور اس دہشتگردی کا شکار بھی غریب ہو رہا ہے اور اس ملک میں غریبوں کے لیے اب زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے اور ایسے حالات میں غریب کا زندہ رہنا بھی بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔


