پرانی خبر، نئی خبر
ایشیا کی سب سے امیر کاروباری شخصیت مکیش امبانی نے اپنے بیٹے کی شادی میں ایک خبر کے مطابق چار ہزار کروڑ بھارتی روپوں سے لے کر پانچ ہزار کروڑ روپے خرچ کر دیے۔ عام طور پر شادی کی تقریبات دو تین دن یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ تک جاری رہتی ہیں لیکن امبانی کے بیٹے کی شادی کی ابتدائی تقریبات پچھلے سال دسمبر سے شروع ہوئیں، پھر اس سال مارچ سے باقاعدہ شادی سے پہلے کی تقریبات شروع ہوئیں جن میں دنیا بھر سے مشہور و معروف لوگوں جیسے کہ مارک زکربرگ، بل گیٹس، جسٹن بیبر، جان سینا، شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان، ثانیہ مرزا سمیت خدا جانے کن کن لوگوں کو بلایا گیا۔ پھر جولائی کے مہینے میں شادی ہوئی اور اب لندن میں شادی کے بعد کی تقریبات جاری ہیں، جسے ایک پشتو محاورے کے مطابق ”وعدہ بعد سندرے“ یعنی شادی کے بعد گانے بجانے کی محفل منعقد کرنا بھی کہا جا سکتا ہے۔ اور اِس شادی کی لمحہ بہ لمحہ ذرائع ابلاغ میں خبریں آتی رہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
لیکن یہ تو پرانی خبر ہو گئی کہ دوسرے لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہیں، امبانی نے اگر دوسروں سے کچھ زیادہ رقم خرچ کر ڈالی ہے تو یہ کون سی چونکا دینے والی خبر ہو گئی۔ ظاہر سی بات ہے، جو جتنا امیر ہو گا، وہ اتنا ہی خرچہ کرے گا۔ چونکا دینے والی خبر تو یہ ہوتی کہ اتنا امیر ہونے کے باوجود اس نے نہایت سادگی سے بیٹے کی شادی کی۔ اور ہمارے سامنے اس کی ایک مثال بھی موجود ہے کہ فیس بل کے بانی مارک زُکربرگ نے اپنی ویتنامی نژاد امریکی ”سہیلی“ سے نہایت سادگی سے عدالت میں جا کر شادی کر لی تھی۔
ٹھیک ہے کہ اس دوران یہ خبر بھی آئی کہ امبانی نے بیس مستحق اور غریب جوڑوں کی شادی کروائی۔ لیکن یہ تو آٹے میں نمک کے برابر خیرات بھی نہیں تھی۔ پتہ نہیں کیوں لوگوں نے فرض کر لیا ہے کہ کسی غریب کی مدد کر نے کا یہ طریقہ ہے کہ ان کی شادی کروا دی جائے مگر جیسے فیض نے کہا تھا کہ
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں، وصل کی راحت کے سوا
اسی لیے یہ تو محاورے کے مطابق غریب کو روزانہ مچھلی پکڑ کر دینے والی بات ہو گئی کہ شادی تو ہو گئی لیکن اب ان غریبوں کے دیگر بنیادی اخراجات جیسے کہ رہائش، بیماری کی صورت میں علاج معالجہ، بچوں کی تعلیم کے اخراجات تو امبانی ادا نہیں کرے گا۔ تو اِن غریبوں کے، جن کے پاس کھانے کے پیسے نہیں، کی شادی کروا کر ان کے مصائب میں اضافہ کر دیا گیا ہے، کہ اب انہیں بیوی بچوں کی اخراجات کی فکر بھی پڑ جائے گی۔
غریب کی مدد کرنے کا مستحسن طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ اُسے کوئی کاروبار کروا دیا جائے یا گھر دے دیا جائے، خواہ وہ جھونپڑی جیسا ہی کیوں نہ ہو لیکن اپنا ذاتی گھر انسان کو بہت ساری مشکلات سے بچا لیتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، ممبئی، دلی اور کلکتہ جیسے بڑے شہروں میں کتنے افراد دن بھر کی محنت مزدوری کے بعد پیٹ بھرنے کے لیے تو رقم کما لیتے ہیں مگر سر چھپانے کے لیے کسی جگہ کا کرایہ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور نتیجتاً سڑکوں پر رات گزارتے ہیں۔ کبھی اِن نام نہاد امیر و مخیر افراد نے تصور کیا کہ یہ لوگ سردی گرمی، دھوپ بارش سے خود کو کیسے بچاتے ہوں گے۔ کئی دفعہ فٹ پاتھ پر سوئے افراد پر گاڑیاں چڑھ جاتی ہیں، جیسے سلمان خان سے ہوا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے کراچی میں گرمی کی سخت لہر آئی تو وہاں کے ہر اہم علاقے کی سڑکوں سے بے گھر افراد کی گرمی کی وجہ سے انتقال کر جانے سے لاشیں ملیں۔ غریبوں کے بچوں کو تعلیم دلوانے کے لیے خصوصی طور پر رقم مختص کی جا سکتی ہے تاکہ وہ اچھی تعلیم حاصل کر کے معاشرے کے بہترین شہری بن سکیں اور اُن کی بعد کی زندگیاں سکون سے گزر سکیں۔
یہ لوگ بھی کچھ ایسا ہی کر رہے ہیں۔ اور شادی تو ایک ایسا رشتہ ہے جس کے چلنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ شادی کے لیے تو چین کی بنی اشیاء کے حوالے سے مشہور یہ فقرہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کہ” چلے تو چاند تک ورنہ آدھا گھنٹہ بھی نہیں”۔ چند دن پہلے یہ خبر پڑھی کہ اترپردیش میں دولہا کے ساتھ آئے باراتیوں نے ائر کنڈیشنر کے سامنے بیٹھنے پر اصرار کرتے ہوئے دلہن کے خاندان والوں کی پٹائی کر دی تو دلہن نے شادی کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ کچھ دن پہلے پاکستانی اداکارہ نادیہ خان نے اپنی پہلی شادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں پہلے ہی گھنٹے پتا چل گیا تھا کہ غلط شخص سے شادی کر لی پھر بھی اس رشتے کو بچانے کی کو شش کی، لیکن جب نباہ نہ ہو پایا تو طلاق لے لی۔ دوسری طرف کئی لوگوں کی شادیاں بہت عرصہ خوش اسلوبی سے چل گئیں جیسے کہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی روزلین سے شادی ستر سال سے زائد عرصے تک چلی۔ ابھی پچھلے سال کے آخر میں روزلین کا انتقال ہوا۔ شادی کے چلنے یا نہ چلنے کا امارت اور غربت سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ بل گیٹس اور جیف بیزوس جیسے دنیا کے امیر ترین افراد کی شادیاں بھی ناکام ہو گئیں۔ تو اتنے ناپائیدار رشتے کو قائم کرنے پر اتنے بڑے پیمانے پر دولت لُٹا دینا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔
بجائے اس کے کہ امبانی اور اس جیسے دیگر امیر افراد معاشرے کو سدھارنے کے لیے یہ رقم خرچ کرتے، انہوں نے دوسروں کو بھی شادی کے موقع پر فضول رسموں پر بے تحاشا رقم لٹانے کی ترغیب دی ہے۔ بلکہ طویل عرصے تک شادی کی تقریبات جاری رکھنے کے حوالے سے ایک نئی بدت شروع کی ہے۔


