سیاستدان چور ہیں
1947 سے لے کر آج تک کے اخبارات کے آرکائیوز اگر دیکھے جائیں تو جو جملہ سب سے زیادہ تواتر کے ساتھ اخبارات کی زینت بنا ہو گا وہ ہے کہ ”سیاستدان چور ہیں“ ایسا ہے کہ نہیں مگر یہ فیصلہ کرنا میرا کام نہیں یا تو صحافتی ادارے کو بہتر خبر ہوگی یا عدالت فیصلہ کرے گی کرتی بھی رہی ہے کہ کون چور ہے کون چور نہیں ہے۔ مجھے تو ان لوگوں کے متعلق کچھ رائے قائم کرنی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سیاستدان چور ہیں۔
صبح صبح اپنی دکان کی تھڑی پہ پانی کا چھڑکاؤ کر کے دن بھر اپنی دکان چلانے والا سوداگر جو پچاس کی چیز ستر کی، سو کی چیز دو سو کی، سوجی گھٹے مٹی والی، سرخ مرچ کو برادے سے مزین کر کے بیچنے والا، کم تولنے والا دکاندار کہتا ہے کہ سیاستدان چور ہیں۔
جب بھی بات ہوتی ہے ہم کہتے ہیں مہنگائی نے عام ٹھیلے والوں اور ریڑھی بانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ ہاں جی۔ بہترین موٹا تازہ لال پیلا پھل ریڑھی کی پہلی صف میں ترتیب وار سجا کے، گاہک کو ریڑھی کے پچھلے حصے سے چھوٹا موٹا، کچھ کچا پکا پھل چستی و چالاکی سے شاپنگ بیگ میں بھر کے فاتحانہ مسکراہٹ سجانے والا ریڑھی بان کہتا ہے سیاستدان چور ہیں۔
ایم فِل استاد جس نے منتوں سماجتوں دعاؤں سے نوکری حاصل کی کلاس میں پینتیس منٹ کے پیریڈ میں مسلسل موبائل میں گھُسا ہوا استاد، بچوں کو پڑھائے بغیر باہر آ کے کہتا ہے۔ یار، یہ سیاستدان چور ہیں۔
عزت و احترام سے ملنے والی آرام دہ کرسی پر بیٹھا افسر بابو، سفید چمک دار شرٹ پہنے خوشبو و نیک ٹائی لگائے دن بھر سائلین کو ذلیل و رسوا کرتا ہے اور رات کو اپنے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کے تجزیہ کرتا ہے کہ سیاستدان چور ہیں سب۔
یونیورسٹی میں خوبصورت لڑکی کی اسائنمنٹ سے زیادہ اس کے جسم کی بناوٹ اور سجاوٹ کو ذہن نشین کرنے والا پروفیسر کالم نگاری کرتا ہے کہ سیاستدان چور ہیں۔
اَمر با المعروف و نہی عن المنکر کے منشور سے کوسوں دور سِکوں کی جھنکار اور پیسوں و دنیوی جاہ و حشم کا تعاقب کرتا واعظ نہایت حقارت اور طنز و طعن کے ساتھ کہتا ہے۔ سیاستدان چور ہیں۔
نظریاتی و اندرونی سرحدات کی حفاظت پر مامور نگہبان اپنی حلفیاتی ڈیوٹی سے متغافل ہو کے کہتا ہے سیاستدان چور ہیں۔
الغرض ہمارے معاشرے کا ایک ایک فرد کہ جن کے وجود و کردار سے مضبوط اور مستحکم معاشرے نے قائم ہونا ہے۔ اپنے اپنے کام کو نا صرف دیانتداری سے نبھا نہیں رہے ہیں بلکہ ملکی معاشی بحران میں برابر کے حصے دار ہیں۔
اگر میں یا آپ کسی بھی کردار کو نبھا رہے ہیں مالی، خاکروب، نائب قاصد، استاد، جج، وکیل، پولیس مین، ڈاکیا، کمشنر، دودھ والا، سبزی والا، ریڑھی بان، کوچ بان، استاد، یا چوکیدار، ہمیں کسی اور کو چور کہنے کی بجائے ایک دفعہ ضرور اپنے اعمال کا احتساب کر لینا چاہیے۔ اگر آپ نے یہ مضمون کسی بھی اچھی وجہ سے یہاں تک پڑھ لیا ہے تو ارادہ ضرور کر لیں کہ اس ملک میں رہتے ہوئے جو کام ہمارے کرنے کا ہے ہم بطریق احسن پوری دیانت داری اور ذمہ داری سے کریں گے۔


