بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
گوالا علی الصبح دودھ لے کر آیا تو ہم نے اسے روک لیا اور صحت و صفائی کی اہمیت پر وسیع و عریض لیکچر دے ڈالا۔ وہ نگاہیں نیچی کر کے سنتا رہا۔ مگر جب ہمارے لیکچر نے ایمانداری اور رزق حلال کہ اہمیت کی طرف کانٹا بدلا تو اس نے التجائیہ لہجے میں کہا ”سرکار مجھے اور بھی بہت سے گھروں میں دودھ دینا ہے۔“
اپنے برمحل اور موزوں لیکچر کی عدم تکمیل پر ہمارے من میں طیش کا ایک شعلہ سا نمودار ہوا مگر ہم نے اسے کچھ نہ کہا اور پیچ و تاب کھاتے ہوئے گھر کے اندر آ گئے۔ پھر بیٹھک میں بیٹھ کر اپنے ہی روبرو تسلی سے اس عظیم المرتبت لیکچر کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
اور تو اور چچا رحمت جو ہمارے محلے میں موجود واحد پرچون کی دکان چلاتا ہے، خود کو بی بی سی کے کسی مبصر سے کم نہیں سمجھتا۔ مگر ہمیں دیکھتا ہی کاؤنٹر چھوڑ کر دکان کے اندر ہی کہیں غائب ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اسے ہم نے ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی جیسے موضوعات پر محض دو ہی لیکچر دیے ہیں۔ کاروباری امور کی اصلاح اور درست روی جیسے موضوعات پر اچھا خاصا مواد ہمارے دماغ کے نہاں خانوں میں محفوظ و مامون ہے۔ مگر چاچا رحمت پرلے درجے کا بے طلب آدمی ہے۔
دفتر کے دو جونیئر اہلکار کسی بات پر سرد گرم ہو گئے معاملہ گالی گلوچ سے آگے بڑھ کر باہم دست و گریباں ہونے تک آ پہنچا، عینی شاہدین نے بیچ بچاؤ تو کروا دیا مگر دونوں ایک دوسرے سے اینٹھے پھرتے رہے۔ ہم نے معاملے کی نزاکت سمجھتے ہوئے صلح و صفائی کروانے کا کام رضاکارانہ طور پر اپنے ذمے لے لیا۔ انھیں اپنے سامنے بٹھا کر نہایت احترام سے پانی پلایا اور پھر ”ورک پلیس ایتھکس“ کے موضوع پر ایسا جاندار لیکچر دیا کہ دونوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ کچھ کہنے کو زبان کھولنے کی کوشش کرتے مگر ہمارے سلسلہ کلام میں ذرا سا بھی تعطل نہ پا کر چُپ ہو رہتے۔ گلے کی خشکی نے ہمیں پانی پینے اور ذرا سا توقف کرنے پہ مجبور کیا تو موقع غنیمت جان کر ان میں سے ایک گویا ہوا ”حضور ہمیں معاف کر دیجیے، ہم آپ کے سامنے سچے دل سے صلح کے لیے تیار ہیں اور آئندہ ایسی غلطی نہ دہرانے کا عہد کرتے ہیں۔“ اچھا ٹھیک ہے، ہم ایک نہایت اہم اور باریک نکتے کو ڈسکس کر رہے تھے، آپ کی آسانی کے لیے ہم درمیان کا مواد حذف کیے دیتے ہیں مگر اس نہایت اہم موضوع کا نچوڑ آپ کے سامنے ضرور رکھیں گے کیونکہ اس میں آپ ہی کا بھلا ہے۔ وہ دن اور آج کا دن لڑائی بھڑائی تو دور کی بات بول بلارا تک نہیں سنا۔
محلے میں ایک صاحب داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ تجہیز و تکفین کے بعد سَتھر بچھ گیا۔ جوق در جوق لوگ تعزیت کے لیے آنے لگے۔ ہم بھی محلے دار ہونے کی حیثیت سے فاتحہ خوانی کے لیے جا پہنچے۔ عجب سوگ کا عالم تھا۔ اہل خانہ حسرت و یاس کی تصویر بنے بیٹھے تھے اور درو دیوار پہ محزونیت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ایسے میں بحیثیت انسان اپنی درماندگی و بے چارگی کا احساس لواحقین کے ساتھ ساتھ ہمارے دماغ کو بھی شدت سے کچوکے لگا رہا تھا۔ سوگ کے اس عالم میں درجن بھر شرکاء کے سامنے ہم نے سورۃ العصر کی تشریح و تفسیر بیان کرنا شروع کردی، جس میں انسان کے خسارے میں ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔ مجمع پر سکوت کا عالم طاری تھا اور ہم علم و دانش کے بحر ذخار میں غوطہ زن ہو کر طرح طرح کے گوہر نایاب ان کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ بات ابھی درمیان ہی میں تھی کہ چار لوگوں کی ایک ٹکڑی اٹھ کھڑی ہوئی، ہلکا سا سلام کیا اور رخصت ہو گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی بقیہ لوگوں کا بھی حوصلہ بلند ہوا اور وہ بھی آہستہ آہستہ کھسکنے لگے اور آخر مرحوم بہشتی کا بیٹا ہی واحد سامع کے طور پر رہ گیا۔ ہم نے بھی بات ختم کر کے اجازت چاہی اور دل ہی دل میں یہ سوچتے ہوئے گھر کی راہ لی کہ سارے معاشرے کو ٹھیک کرنے کی ٹھیکیداری صرف ہم نے ہی تو نہیں لے رکھی ۔


