باس


عفیفہ اور میں نے ایک ہی سال میں ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ایم اے کیا۔ فرق بس یہ تھا کہ وہ مارننگ کی بیگم تھی اور میں ایوننگ کا جوکر۔ اُس نے پچھلے کئی برسوں کا ریکارڈ بریک کرتے ہوئے امتیازی نمبروں سے ڈگری حاصل کی اور طلائی تمغے کی حق دار قرار پائی۔ میں اُس روز اِتنا جلا بھنا ہوا تھا کہ میں نے اُسے متعدد بار بتایا اگر گولڈ میڈل میں سچ مچ کا گولڈ ہوتا تو لوگ اُسے پہنتے ہی بیچ دیتے۔ ایم فل میں ہم پہلی بار کلاس فیلو بنے۔

میں روڈ ماسٹری کرتا رہا جب کہ اُس نے روہی ٹی وی کو بہ طور پروڈیوسر جوائن کر لیا، جہاں اُس نے مارننگ اور یوتھ شوز کے ساتھ ساتھ بچوں کا ایک شو بھی پروڈیوس کیا، جس کی اینکر وہ خود تھی۔ یوں تو وہ اوسط سے بھی کچھ درجے کی اینکر تھی، لیکن بچوں کے شو میں اُس نے بہت فطری انداز میں کمپیئرنگ کی۔ میں وہی شو دیکھ کر اُس پر فریفتہ ہوا!

میں بچپن ہی سے خود کو ایک چھلاوہ سمجھتا تھا، چنانچہ جب اور جہاں موقع ملتا، کسی پری کے عشق میں مبتلا ہو جاتا۔ انسانوں والی محبت میں نے پہلی اور آخری بار اُسی سے کی۔ میرا سایہ اِتنا نجس اور منحوس تھا کہ ایم اے کی گولڈ میڈلسٹ نے ایم فل میں سپلی کھائی اور پھر میرے ہی مشورے پر زکریا یونیورسٹی چھوڑ کر اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور میں داخلہ لے لیا۔ بہاول پور ایک کشادہ قلب اور عالی ظرف شہر ہے، جو ہر فرد کو اپنا سمجھ کر گلے لگا لیتا ہے۔ اُسے بھی بہاول پور خوب راس آیا۔ نہ صرف اُس نے ایم فل میں دوسری پوزیشن حاصل کی بلکہ اُسے عابدہ نورین اور سمیرا ملک جیسی سدا بہار سہیلیاں بھی نصیب ہوئیں، جنہوں نے اُس کی تنک مزاجی اور بدخوئی کو خوش دلی سے برداشت کیا۔ بہاول پور آ کر اُس کی رکی ہوئی قسمت کا پہیہ چل پڑا اور سن دو ہزار تیرہ میں اس کی بہ طور ریگولر لیکچرر، اُسی ڈیپارٹمنٹ میں تقرری ہو گئی، جس نے چار برس قبل مجھے میرے مشکوک نظم و ضبط اور عجیب و غریب حلیے کی روشنی میں کانٹریکٹ پر نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا۔ زندگی بھی عجیب چیز ہے، ہم اِسے لاکھ لینئر سمجھیں، آخر میں کم بخت دائرہ ہی ہاتھ آتا ہے!

جب اُس کی نوکری ہوئی تو کئی ستم ظریفوں نے اِسے میری کارستانی سمجھا۔ میں اُن کو کیا بتاتا کہ خاکسار بس نام کا ہی افسر ہے جو لیکچرر تو دور، کسی کو نائب قاصد رکھوانے کی اہلیت بھی نہیں رکھتا۔ مجھے فخر ہے کہ عفیفہ نے کسی کو سیڑھی بنانے کے بجائے اپنے بل بوتے پر نوکری حاصل کی اور اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی بھی پائی۔ کچھ سابقہ دوستوں نے اُس کی اسسٹنٹ پروفیسری کو لے کر بہت غل مچایا۔ اِدھر اُدھر درخواستیں ڈالیں۔ اُس کی قابلیت اور اہلیت پر سوال اٹھائے۔ اُس کے صحافتی تجربے کا مذاق اڑایا۔ میں اُن تمام دوستوں کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں، مگر اُنہیں یہ بتانا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ عفیفہ کا صحافتی کیرئیر بلند ہمتی، استقامت اور استقلال کی ایسی روشن اور رشک آمیز مثال ہے، جسے ہم ایسے تنگ نظر اور نام نہاد مرد سراہنا تو دور، سمجھنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے!

سن دو ہزار چودہ میں اُسے مقابلے کا امتحان دینے کا شوق چرایا۔ پی۔ ایم۔ ایس کے لیے داخلہ تو بھیج دیا، مگر آخری وقت تک پیپر دینے یا نہ دینے کو لے کر شش و پنج کی کیفیت میں رہی۔ جب رول نمبر سلپ آئی تو اچانک اُس نے پرچے دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان مجھ پر بم بن کر پھٹا کیونکہ اُسے تیاری کروانے کی ذمہ داری میری تھی، اور دو ہفتوں میں کسی کو پی۔ ایم۔ ایس کی تیاری کروانا ایسے ہی ہے، جیسے کسی اونٹ کو تین پہیوں والی سائیکل پر بٹھانا۔

مرتا کیا نہ کرتا۔ آخر یہ بھاری پتھر اٹھانا ہی پڑا۔ ہم شام ہوتے ہی گلزارِ صادق کی طرف نکل جاتے اور جب تک آخری بلب گل نہ ہو جاتا، تاریخ، سماجیات اور ادب کی گتھیاں سلجھاتے رہتے۔ اُس کا امتحان دینا قیامِ پاکستان کے مماثل تھا، اور میرا اُسے امتحان دلوانا دوسری جنگِ عظیم کے مشابہ۔ نتیجہ آیا تو کامیاب امیدواروں کی فہرست میں اُس کا نام دیکھ کر آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ خود کو تین عدد چٹکیاں کاٹیں، ایک زناٹے دار طمانچہ رسید کیا، سر پر پانی کی کئی بالٹیاں لنڈھائیں، تب کہیں جا کر اِس خبر کی حقانیت پر یقین آیا!

انٹرویو اور نفسیاتی امتحان کی تیاری کے لیے پورے ایک مہینے کا وقت تھا۔ ہم نے خوب جان لڑائی۔ بہت سارے موک انٹرویوز دیے۔ ممتحن کی آنکھ سے امیدوار کو دیکھنے کی کوشش کی۔ انٹرویو دے کر واپس آئی تو کہنے لگی، ”بس یہی ایک اٹیمپٹ بہت ہے، پاس بھی ہوئی تو جوائن نہیں کروں گی، کیوں کہ میں جان گئی ہوں میری زندگی کا اصل مقصد پڑھانا ہے۔“ مقصد تو میری زندگی کا بھی یہی تھا، لیکن میں اُس جتنا خوش نصیب نہ تھا کہ مجھے یہ فیصلہ کرنے کا اختیار مل پاتا!

عفیفہ نے پی۔ ایم۔ ایس پاس کر لیا مگر اُس کی ایلوکیشن نہ ہو پائی، حالانکہ انٹرویو میں اُس کے چھیاسی فی صد سے بھی زائد نمبر تھے۔ اِس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اُس سال سیٹوں کی تعداد صرف بیس تھی، اور دوسری وجہ یہ کہ امتحان اُس کے لیے خود کو آزمانے کا ایک بہانہ تھا، اِس سے زیادہ کی اُس نے خواہش نہ کی تھی۔ اُس نے مقابلے کا امتحان دے کر اپنا پیشن دریافت کیا اور پیشن کی دریافت سے ہونے کا احساس کشید کیا، یہ اور بات کہ دو عدد میٹرنٹی لیوز، پے در پے چھٹیوں، کرونائی فضا اور لمبی سٹڈی لیو نے اسے بہ طور استاد خود کو زیادہ ایکسپریس کرنے کا موقع نہیں دیا!

وہ ایک محبت کرنے والی خاتون ہے مگر اس کی محبت میں اِتنی شدت اور وارفتگی ہے کہ مجھ ایسا آزاد منش آدمی بوکھلا کر اپنے دائرے میں بند ہو جاتا ہے۔ میں بھی محبت کی قدر و منزلت کا قائل ہوں، لیکن آزادی کو اُس سے کہیں مقدم جانتا ہوں۔ شاید اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ پہلوٹی کے بیٹے کے طور پر مجھے بے تحاشا محبت، اور انتہائی کم آزادی میسر آئی!

اُس نے میرے بکھراؤ کو کم کیا ہے اور ”اندو“ کی طرح میرے تمام دکھ اپنی ذات میں سمیٹ لیے ہیں۔ وہ ایسی عورت ہے جسے اپنے مرد کو بنانا آتا ہے۔ میں نہایت فخر اور عاجزی سے اقرار کرتا ہوں کہ اُس نے میری بے ہنگم اور بے ترتیب شاخیں کاٹنے یا توڑنے کے بجائے اُن کی تراش خراش کی، تاکہ میں اپنے پورے قد کے ساتھ اُگ سکوں، اور وہ سب کچھ بن پاؤں جو میں بننے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ میں وہ خوش نصیب آدمی ہوں جسے اُس کی ماں، بہنوں اور خالاؤں کے ساتھ ساتھ اُس کی بیوی نے بھی شہزادوں کی طرح پالا، حالانکہ میں اِس کا بالکل اہل نہ تھا۔ حق تو یہ بنتا تھا کہ میں اُس کے پاؤں دھو دھو کر پیتا لیکن میں نے اُسے صرف باس بنانے پر ہی اکتفا کیا!

ہماری زندگی ایک ایسی گاڑی کی مانند ہے جس کی ڈرائیونگ سیٹ اُس کے پاس ہے، مگر راستوں کا تعین میری مرضی سے ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہم دو مختلف دنیاؤں کے باسی تھے۔ میں ہواؤں کا عاشق، خوابوں کے ہنڈولے پر سوار۔ وہ مٹی کی پجارن تھی، ریت کے چھوٹے چھوٹے گھروندے بنا کر یوں خوش ہو جاتی جیسے کوئی شیش محل بنا لیا ہو۔ ہم ساتھ ہوتے ہوئے بھی پوری طرح ساتھ نہ رہ پائے۔ نہ کبھی وہ میرے ساتھ مل کر قہقہہ لگا سکی، نہ میں کبھی اس کے گلے لگ کر رو پایا، لیکن ہم ایک ایسا جہان تخلیق کرنے میں ضرور کامیاب رہے، جہاں حقیقت اور خواب ایک دوسرے کی آغوش میں سر رکھ کر قہقہوں اور آنسوؤں سے ماورا ہو گئے۔


2 thoughts on “باس”

  • 25/07/2024 at 8:23 صبح
    Permalink

    خوشہ ہوئی۔ اچھا لگا۔

    • 29/07/2024 at 11:02 شام
      Permalink

      Beautiful write up

Comments are closed.