ھٹ دھرمی کے نتائج


اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پہ اس قدر سنگین کرپشن کے الزامات تھے کہ وہ کسی بھی لمحہ میں جیل جاسکتا تھا مگر سات اکتوبر سے اسے اقتدار سے چمٹے رہنے کا جواز مل گیا۔ وہ جھوٹ مکر اور فریب کا شیدائی ہے، تاریخ شاہد ہے کہ ہمیشہ اس نے جو کہا عمل اس کے برعکس کیا۔ کبھی وہ بھی دو ریاستی امن حل پہ زور دیتا تھا مگر عملدرآمد الٹ کیا، اب وہ حماس کے ساتھ ایک پائیدار امن اور جنگ بندی کی بات کرتا ہے مگر کون یقین کرے گا صرف وہی جو کھلی آنکھوں سے دھوکا کھانے کا عادی ہوں۔

ہر کسی کو ہر وقت تو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ وہ امریکی جمہوریت کو پسندیدگی سے دیکھتا ہے مگر اپنے ہاں کبھی کسی جمہوری روایت کو پنپنے نہیں دیتا سب سے پہلے تو جن غاصبوں کا ہم جھولی ہے وہ اسرائیلی عدالتی نظام کے ساتھ برسر پیکار رہے ہیں وہ عدالتی اختیارات ہی سلب کرنے کی تگ و دو میں رہا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ قانونی موشگافیوں سے اوپر نکل جائے اور قانون کے تگڑے ہاتھوں سے صاف بچ نکلے۔ کرپشن کی تحقیقات اور جیل یاترا کے نام سے وہ خوفزدہ ہے اور سات اکتوبر سے قبل اس کی عدلیہ سے دوبدو لڑائی جاری تھی۔ اب اس کا خمیازہ ملکی عوام اور خطے کے لوگ بھگت رہے ہیں۔ اس شخص نے دائیں بازو کے انتہا پسندانہ لوگوں کو ساتھ اپنی بشری کوتاہیوں پہ پردہ ڈالنے کے لئے رکھا ہوا ہے جو اسے اقتدار سے چمٹے رہنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

جب بھی غزہ میں امن اور جنگ بندی کی بات کسی نتیجے پہ پہنچنے لگتی ہے تو کوئی نہ کوئی نیا تقاضا سامنے لاکر ساری بات چیت کا بیڑا غرق کر دیتا ہے۔ وہ امن کی صورت ممکن ہی نہیں کرنا چاہتا۔ اس کی موج لگی ہوئی ہے طاقتوروں کی آنکھ کا تارا ہے وہ جیسے من موہن پیارا ہے وہ۔ جبکہ درحقیقت وہ خون پینے والا ڈریکولا بن چکا ہے۔ غزہ میں سب سے زیادہ نشانہ خواتین اور بچوں کو بنایا جا رہے۔ لاشے تڑپ رہے اور رقص بسمل جاری ہے۔ اسرائیلی فوج اس قدر سفاک ہے کہ وہ کسی رہائشی عمارت کو نشانہ باندھ کر مارتے ہیں جس کے نتیجے میں بے گناہ افراد شہادت پاتے ہیں تو یہ کامیابی و کامرانی کا جشن باقاعدہ ناچ گانے سے کرتے ہیں گویا اصل انسان نہیں مر رہے بلکہ کوئی ویڈیؤ گیم ہے۔

اسی وجہ سے کئی فوجی بغاوت پہ اترتے ہیں جو سود و زیاں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز پہ کلمۂ حق بلند کرتے ہیں۔ وہ فوجی زندگی سے عاجز آچکے ہیں اور دھڑا دھڑ استعفی دے رہے ہیں جبکہ اعلیٰ قیادت انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہے مگر ہرچہ باداباد کے مصداق وہ باز آنے سے کترا رہے ہیں۔ ادھر مغویان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب ان کی بازیابی کے لئے تڑپ رہے ہیں اور اپنی سڑکوں پہ احتجاج کرتے ہیں اور پارلیمان کینسیٹ کے سامنے التجا کرتے ہیں کہ مغویان کو باحفاظت لایا جائے مگر اسرائیلی ہٹ دھرمی کسی طور یہ ممکن ہی نہیں ہونے دیتی اور بضد ہے کہ وہ پہلے حماس کا مکمل خاتمہ کر لے تو پھر ہی مغویوں کو لائیں گے جو بظاہر ناممکن عمل دکھائی دیتا ہے۔

دیکھیے اقتدار کی یہ رسہ کشی کب تک جاری رہے گی تب تک تو امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ جنگ کے شعلے لمحہ بہ لمحہ بڑھتے اور پھیلتے ہی نظر آتے ہیں جو شاید اس کے اپنے وجود کے لئے بھی پرخطر ہوسکتے ہیں۔ آگ پھیل کر جب بے قابو ہو جائے تو پھر کچھ دیکھتی نہیں کہ اس کی لپیٹ میں کیا کچھ آ رہا ہے۔ جھوٹی اناؤں اور ہٹ دھرمیوں کے نتائج کبھی بھی خوشگوار نہیں ہوسکتے۔

Facebook Comments HS