سابقہ چانسلر انگیلا مرکل کی سترویں سالگرہ (آخری قسط)


انگیلا مرکل نے انتیس اکتوبر دو ہزار اٹھارہ میں اعلان کیا کہ وہ دو ہزار اکیس میں ہونے والے وفاقی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی اور سیاست سے دستبردار ہو جائیں گی۔

سن انیس سو اکانوے میں، جرمنی کے مشہور صحافی اور ادیب، مسٹر گنتر گراس کے ساتھ انٹرویو کے دوران، انگیلا مرکل نے ان کی تنقید کو تسلیم کیا کہ مغربی جرمنی کے لوگ، مشرقی جرمنی والوں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور ساتھ ہی ساتھ مشرقی جرمنی پر بھی تنقید کی کہ مشرقی جرمنی کی تباہی کے ذمہ داروں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں شامل تھا۔

پہلی دفعہ وزیر بننے کے بعد مشترکہ جرمنی کے عارضی دارالحکومت بون میں انہیں سیکھنے کے عمل سے گزرنے کا موقع ملا جس میں درجہ بندی بھی شامل تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ”موافقت میری زندگی کا حصہ ہے۔ میں مزید تجسّس پسند کرتی ہوں۔ یہ معاشرہ کسی قسم کے تنازعات، ابہام، غیر معقول مطالبات برداشت نہیں کر سکتا۔ میں تبدیلی سے خوفزدہ نہیں ہوں۔ مجھے ممکنات کا گہرا احساسِ ہے۔ جب میں نے کچھ ایسا کرنے کا فیصلہ کیا جسے حاصل کرنا شاید مشکل تھا تو اپنے عہدے کی مدت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ”۔

انگیلا مرکل کے چانسلر منتخب ہونے کے بعد شروع میں انہیں مشرقی جرمنی میں خوب پذیرائی ملی اور اگلے وفاقی انتخابات میں یہ نعرہ کہ ”آپ لوگ مجھے جانتے ہو“ ہی چالیس فیصد ووٹ دلوانے کے لئے کافی تھا۔ لیکن یہ خوشی بہت جلد ختم ہو گئی جب مغربی جرمنی کے لوگوں نے مشرقی جرمنی کے لوگوں کے ساتھ دوسرے درجے کا سلوک کرنا شروع کیا اور مشرقی جرمنی کے لوگوں نے، انگیلا مرکل کی، پناہ گزینوں کے حامی نظریات کی مخالفت کرنا شروع کی۔ مشرقی جرمنی کے ایک جلسے کے دوران مظاہرین نے انگیلا مرکل کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی جس پر انگیلا مرکل نے مندرجہ ذیل بیان دیا۔ ”میں دیانتداری سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اگر اب ہمیں ہنگامی حالات میں دوستانہ چہرہ دکھانے پر معافی مانگنا شروع کر دی جائے تو یہ میرا ملک نہیں ہو سکتا“ ۔

انگیلا مرکل نے انیس سو ستتر میں، ایک فزکس اسٹوڈنٹ اولرخ مرکل سے شادی کی لیکن انیس سو بیاسی میں وہ شادی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد انگیلا مرکل نے دوسری شادی کیمسٹری کے ڈاکٹر جو آخم ساؤر سے کی۔ ڈاکٹر ساؤرکو، انگیلا مرکل کی سولہ سالہ دورِ حکومت کے درمیان، کبھی کسی جرمن باشندے نے نہیں دیکھا۔ وہ دونوں برلن شہر کے مٹے نامی ضلع کے میوزیم آئی لینڈ کے پاس، مشہورِ زمانہ پرگیمون میوزیم کے سامنے، جہاں صرف ایک چوکیدار سپاہی، جو دروازے پر ہمہ وقت موجود رہتا تھا، رہ رہے تھے۔

مرکل اور ساؤر دونوں کی کل جائیداد، انیس سو پچاسی میں، سابقہ مشرقی جرمنی کے علاقے۔ اوکرمارک میں خریدا ہوا، صرف ایک ”ویک اینڈ گھر“ ہے

اس سال کی آخری سہ ماہی میں انگیلا مرکل کی ”آزادی“ نامی یادوں کی کتاب منظر عام پر آ رہی ہے۔ ابھی صرف پبلشرز کے پاس اس کا سرورق دیکھا جا سکتا ہے جس پر انگیلا مرکل، سر ورق کے رنگ ہی میں اپنا مخصوص رنگ کا بلیزر پہنے، دکھائی دے رہی ہیں۔

ان کی آنکھیں سامنے دیکھنے کی بجائے کہیں دور دیکھ رہی ہیں۔ آج سترہ جولائی دو ہزار چوبیس کو انگیلا مرکل کو سترویں سالگرہ پر ڈھیروں دعائیں اور مبارکباد۔

Facebook Comments HS