منڈی بہا الدین کشان گڑھ
191 عیسوی تا 232 عیسوی
منڈی بہا الدین تاریخی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے، یہاں ملنے والے سکوں سے اس علاقے کی تاریخ جاننے کا موقع ملتا ہے۔ اس علاقے پر جس خاندان زیادہ عرصہ حکمرانی قائم رہی اس خاندان کا نام کشان تھا۔ جو 30 عیسوی تا 375 عیسوی تک حاکم رہے۔
ابھی جس بادشاہ کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کا نام واسودیوا ہے۔
کشن سلطنت کا چھٹا بادشاہ جو 139 عیسوی کو کابل میں پیدا ہوا، اس کے والد کا نام ہویشکا تھا جو کشان خاندان کا پانچواں بادشاہ تھا، واسودیوا اس سلطنت کا پہلا بادشاہ تھا جس کا نام ایک ہندومت خدا کے نام پر رکھا گیا۔
واسودیوا کا مذہب ہندو مت تھا۔ اس کا دور حکومت 191 عیسوی سے 232 عیسوی تک ہے۔ بعض جگہ پر مورخین 226 عیسوی تک بھی بیان کرتے ہیں۔ اس کی حکومت کی رسائی شمالی ہندوستان اور وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے بعد ساسانیوں نے 240 عیسوی میں شمالی مغربی علاقے پر قبضہ کر لیا جس کے بعد کشان مشرقی، مغربی علاقوں اور وسطی پنجاب تک رہ گئے۔
منڈی بہا الدین کے مضافاتی علاقوں میں اکثریتی علاقوں میں کشان سلطنت کی باقیات نظر آتی ہیں۔ جس کا اندازہ منڈی بہا الدین سے ملنے والے سکوں سے ہوتا ہے۔ منڈی بہا الدین سے دریافت ہونے والے آثار کے مطابق مٹی کے برتن، اوزار، مذہبی مورتیاں ان سب کی تجارت، لادو جانوروں کے ذریعے کی جاتی تھی۔
واسودیوا نے سونے کے سکوں کے ساتھ ساتھ تانبے کے سکے بھی جاری کیے ۔
اس کے دور حکومت میں سکے بلخ اور بکٹریا کے شہروں میں بنائے گئے۔ ان سکوں پر اویشو کو یا شیو کو الٹا بنایا گیا ہے اور ترشول بھی واضح دکھائی دیتا ہے،
منڈی بہا الدین سے دریافت ہونے والے سکوں پر اویشو یا شیو واضح دکھائی دیتا ہے۔
تباہ شدہ آبادیوں کے آثار کے مطابق یہاں کے لوگوں کا رہن سہن پختہ اینٹوں سے بنے گھروں میں تھا۔ باقاعدہ محلوں کی صورت میں مکانات کی تعمیر کی گئی تھی۔ لین دین کے لئے سکوں اور اشیاء کا استعمال کرتے تھے۔ بازار آبادیوں سے باہر ہوتے تھے۔
مٹی کے برتن پکانے کے لیے بھٹیوں کا استعمال کرتے جس میں جلانے کے لیے لکڑی کا استعمال تھا۔ ان بھٹیوں کو بھی آبادیوں سے دور رکھا جاتا تھا۔
منڈی بہا الدین سے ایسی پوزیشن میں لکڑیاں بھی دریافت ہوئی ہیں۔ جو آدھی جلی ہوئی تھیں۔ واسودیوا کا دور حکمرانی بھی پہلے بادشاہوں کی طرح ترقی کی جانب گامزن رہا۔
اس کی زندگی کا اختتام 232 عیسوی کو لدھیانہ میں ہوا۔






