غربت ایک عذاب
پاکستان میں مہنگائی کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ اس کے پیچھے بھاگنے والوں کی ٹانگیں جواب دے چکی ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق 18 جولائی 2024 کو ختم ہونے والے ہفتے کو مہنگائی میں 0.76 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ سے اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی۔
پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد حسین، جو کہ ایک بینک میں گارڈ کی نوکری کرتے ہیں ان کی تنخواہ آج اس مہنگائی کے دور میں صرف 18000 روپے ہے۔ اس کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اس کا ہاتھ بٹاتی تھی لیکن اس کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اب وہ ہاتھ بٹانے سے بھی قاصر ہے۔ رواں ماہ ان کے گھر کا بجلی کا بل 22000 روپے آیا ہے۔ اور ان کے خاندان کے گھی، چینی، آٹا، چاول، دالیں اور کچھ دوسری اشیا پر اٹھنے والے ماہانہ اخراجات حالیہ دنوں میں لگ بھگ آٹھ ہزار سے بڑھ کر تقریباً 13 ہزار تک جا پہنچا ہے۔ پچھلے ہفتے میں چکن کی پرائز میں 10.26 %، پاؤڈر دودھ میں 4.56 %، پیٹرول 3.77 %، انڈے 2.76 %، آلو 2.30 %، ڈیزل 2.25 % اور لہسن کی قیمتوں میں 2.20 % اضافہ ہوا ہے۔
اس کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ اپنی تنخواہ کے پیسوں سے اپنا بجلی کا بل ادا کرے یا اپنے بچوں کے اخراجات پورے کرے۔ اور اس کی بیٹی پچھلے تین ماہ سے اس سے سائیکل کی فرمائش کر رہی ہے۔ اب وہ اپنی پانچ سالہ بیٹی کو کیسے سمجھائے کہ ان کا گھر کا خرچ چلانا ہی مشکل ہو چکا ہے۔
محمد حسین کا کہنا ہے اس ملک میں زندہ اور خوشحال رہنے کا اختیار صرف امیروں کے پاس ہیں۔ ہماری حکومت سفید پوش لوگوں کو ان کے بنیادی سہولیات، کھانا پینے اور بجلی جیسی چیزوں سے محروم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ رواں ماہ اس نے قرض لے کر اپنے اخراجات پورے کیے ہیں۔ جو اس کو سود کے ساتھ واپس کرنا ہو گا۔ روتے ہوئے اس نے کہا اس کو نہیں معلوم کہ وہ اگلے ماہ اپنے گھر کے اخراجات اور قرض کیسے ادا کرے گا۔
پچھلے ہفتے کے دوران 51 اشیاء میں سے 29 اشیاء کی قیمتوں میں 56.87 % اضافہ ہوا ہے۔ 5 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 17 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
آمدن میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ اس وقت صرف محمد حسین اور ان کے خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان میں درمیانے اور نچلے طبقات کا بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اور بجلی کے آسمان کو چھونے والے بل ان مسائل کو مزید آگ لگا رہیں ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی کی شرح جون 2024 میں 12.6 فیصد تک تھی، جو گزشتہ 5 ماہ میں نرمی کے بعد مئی 2024 میں 11.8 فیصد تھی۔
سال بہ سال اضافہ:
جون 2024 میں افراط زر کی شرح جون 2023 کے مقابلے میں 12.57 % زیادہ تھی۔
اور صارفین کی قیمتوں کے اشاریہ ( سی پی آئی ) کی بنیاد پر مہنگائی جون 2024 میں ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر 0.5 فیصد بڑھی تھی۔
اپریل 2024 میں، نیشنل سی پی آئی اپریل 2023 کے مقابلے میں 17.34 فیصد تک بڑھا۔
اربن سی پی آئی:
جون 2023 کے مقابلے جون 2024 میں اربن سی پی آئی بڑھ کر 14.89 فیصد ہو گئی، جب کے اپریل 2024 میں، اپریل 2023 کے مقابلے میں یہ بڑھ کر 19.40 فیصد ہو گئی تھی۔
دیہی سی پی آئی جون 2023 کے مقابلے جون 2024 میں بڑھ کر 9.31 تھی، جب کے اپریل 2024 میں یہ اپریل 2023 کے مقابلے میں بڑھ کر 14.46 فیصد تھی۔
سال بہ سال مہنگائی کے رجحان میں 24.36 فیصد کا اضافہ ہوا۔ بنیادی طور پر پیاز کی قیمت میں 105.46 فیصد، ٹماٹر میں 57.70 فیصد، پاؤڈر دودھ کی قیمتوں میں 39.15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جب کے گندم کے آٹے میں 31.62 فیصد، کوکنگ آئل 5 لیٹر میں 14.37 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔
پاکستان میں مہنگائی کی وجوہات:
پاکستان اس وقت انتہائی معاشی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے، اور زر مبادلہ کی شرح مسلسل دباؤ میں ہے جس سے مہنگائی کا طوفان آ رہا ہے۔
ہمارے ملک میں مہنگائی کا جن اس لئے بھی قابو میں نہیں آتا کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی، بشمول رقم کی فراہمی اور شرح سود میں اضافہ ہونا، اور حکومت کی مالی پالیسی، امیر طبقے کا ٹیکس ادا نہ کرنا، پاکستانی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا درآمدی قیمتوں کو متاثر کرنا، تجارتی پابندیاں، عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا ہمارے ملک پر اثرانداز ہونا، اور آبادی میں دن بدن اضافہ ہونا، سیاسی بے یقینی اور سیاست میں عدم استحکام، یہ سب مہنگائی کی شرح میں اضافے کا سبب ہے۔
ان افراط زر سے نمٹنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو ان متعدد عوامل پر غور کرے۔


