ماحولیاتی تبدیلیاں اور حیدرآباد کی شامیں


آب ہوائی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پیدا ہونے والے بحران کے حقائق اب صرف سائنسی جرائد اور اخبارات تک محدود نہیں رہے بلکہ ہمارے سیارے کے طول و عرض میں بسنے والے لوگ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کسی نہ کسی طرح اس ماحولیاتی بحران کے اثرات کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔ کیونکہ دھرتی کا درجہ حرارت غیر معمولی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ کچھ سال اور مہینے تواتر کے ساتھ انسانی تاریخ کے گرم ترین سال اور مہینے ثابت ہوئے ہیں۔ اور اتوار 21 جولائی کو زمین کی تاریخ کا گرم ترین قرار دیا گیا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے لوگ نہ صرف دن کو جھلسا دینے والی گرمی کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ شدید گرمی کی لہروں کے دوران رات کا درجہ حرارت بھی معمول سے کافی زیادہ رہنے لگا ہے، اور تپتے دنوں میں سخت مزدوری کرنے والے لوگ نیند بھی پوری نہیں کر پاتے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سال بھر میں عام طور پر وقوع پذیر ہونے والے گرم ترین دنوں کے مقابلے میں گرم ترین راتوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے گارجین اخبار میں شایع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں راتوں کے گرم رہنے کی وجہ سے مجموعی طور پر دنیا کا ہر فرد اوسطً سال میں 44 گھنٹے کم نیند کر پا رہا ہے۔ اس صورتحال میں عورتیں اور بزرگ افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ون ارتھ نامی جرنل میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق انسانی جسم کو آرام دہ نیند کے لئے مناسب درجہ حرارت کی ضرورت پڑتی ہے لیکن راتوں کے گرم ہونے کی وجہ سے اب ایسا ممکن نہیں رہا۔ اس طرح ماحولیاتی تبدیلیاں اس سیارے پر بسنے والے لوگوں کی نیندیں اڑا رہی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے راتیں دنوں کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ساتھ گرم ہو رہی ہیں اور رات کے وقت درجہ حرارت میں اضافے کا تناسب دن کے مقابلے میں کافی زیادہ رہا ہے۔

اسی طرح دنیا کے مختلف شہروں اور ملکوں کے مخصوص موسموں کا حسن بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ماند پڑ رہا ہے۔ مثال کے طور پر سندھ کے شہر حیدرآباد کے رہنے والے یہ بات فخریہ انداز میں کرتے ہیں کہ اس شہر میں دن چاہے کتنا بھی گرم ہو لیکن شام کو چلنے والی ہوائیں سارے دن کی تھکن دور کر دیتی ہیں۔ شدید گرمی کے دنوں میں بھی شام کو اس شہر کی رونقیں لوٹ آتی ہیں۔ حیدرآباد کی شام کی ان خصوصیات کا ذکر دوستوں کی محفلوں سے لے کر ادبی حلقوں اور تخلیقات میں بھی ہوتا رہتا ہے۔ سنا ہے کہ حیدرآباد کی شام برصغیر کے معروف ادیب ٹیگور کو بھی بہت پسند آئی تھی۔ اس حوالے سے معروف سندھی محقق ڈاکٹر فیاض لطیف اپنے مقالے میں لکھتے ہیں۔

سندھ کے دورے کے دوران حیدرآباد کے ادیبوں کی دعوت پر ٹیگور جب حیدرآباد آئے اور ان کو دریائے سندھ کی سیر کے لئے لے جایا گیا۔ وہ کشتی میں سوار ہو کر جب دریائے سندھ کی سیر کر رہے تھے۔ اس وقت شام کا وقت تھا اور سورج مغرب میں پہاڑیوں کے پیچھے غروب ہو رہا تھا۔ ٹیگور نے اس موقع پر کہا تھا کہ میں نے دنیا بھر کی سیر کی ہے اور مختلف مناظر دیکھے ہیں۔ لیکن سورج غروب ہونے کا حسین منظر جو اس علاقے میں دیکھا ہے وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

لیکن اب لگتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے آسیب کا سایہ اس شہر کی شاموں پر بھی پڑنے لگا ہے اور اس سال حیدرآباد کے شہریوں کے تجربات اس حوالے سے کافی تلخ رہے ہیں۔ گرمی کی شدید لہروں کے دوران حبس اور گرمی کی شدت شام تو کیا رات تک برقرار رہنے لگی ہے اور صورتحال کچھ اس طرح کی بن گئی ہے کہ۔

اب بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ
وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

اس طرح یہ ماحولیاتی بحران دنیا کے مختلف علاقوں کے صبح اور شام کی رونقیں چھین رہا ہے اس کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ فطرت سے دوستی کے رشتے کو دوبارہ مضبوط کیا جائے۔ اس حوالے سے شہری جنگلات کا تصور کافی مقبول ہو رہا ہے۔ جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سبز تعمیرات یعنی ماحول دوست طرز تعمیر کو اپنانا پڑے گا، جس میں ہوادار گھروں کی تعمیر، تعمیرات میں توانائی کے کم استعمال اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کو یقینی بنانا اور سبز چھتوں کا تصور شامل ہے۔

مثال کے طور پر حیدرآباد شہر کو کسی زمانے میں منگھوں یعنی ہوا دانوں کا شہر کہا جاتا تھا اب اس گرم ہوتی ہوئی دنیا میں ہمیں ایک بار پھر ایسے ہی ہوادار گھر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کم سے کم توانائی استعمال کر کے بھی ہم اپنے گھروں کو ٹھنڈا رکھ سکیں۔ اسی طرح شہری جنگلی حیات اور شہری جھیلوں کے تحفظ اور ترویج کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے شہروں میں پرندوں کی چہچہاہٹ دیسی درختوں کے سائے اور فطرت کے رنگ واپس لوٹ سکیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ماحولیاتی تبدیلیاں اور حیدرآباد کی شامیں

  • 25/07/2024 at 1:40 شام
    Permalink

    ایک اہم ترین موضوع پر ایک شاندار بلاگ… علی اکبر ہنگورجو ماحولیات پر لکھنے والے اہم ترین قلمکار ہیں ان کے پاس جانکاری کا خزانہ ہے…. خاص طور پر ان کا انداز بیان ان کی بلاگز کو اور پر اثر بنادیتا ہے.

Comments are closed.