کیا سیاسی جماعت طبقہ کی نمائندہ ہوتی ہے؟


اس حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کہ ہمارا سماج معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر کس طرح تقسیم ہے۔ ہر پارٹی اپنے طبقہ کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ ہمیں اپنے سماج پر عمیق گہرائیوں سے نظر ڈالنا ہو گی۔ تو ہم اس نتیجہ پر پہنچے گے کہ ہمارا سماج معاشی اور طبقاتی طور پر تقسیم ہے۔ کام کی نوعیت اور انکم کے حوالے سے ہمارا سماج تین حصوں میں واضح طور پر تقسیم ہے۔ پہلا کام کرنے والے، دوسرا جن لوگوں کی نگرانی میں ملوں یا فیکٹریوں میں تیار مال صارف تک پہنچتا ہے۔ تیسرا وہ ہے جو تمام پیداواری یونٹس (ملیں، فیکٹریاں اور کمرشل کھیت) کا مالک ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام مندرجہ ذیل تین طبقات میں تقسیم ہے۔ 1۔ نچلا طبقہ 2۔ درمیانہ طبقہ 3۔ بالائی طبقہ یا سرمایہ دار
نچلا طبقہ :

وہ سارے لوگ اس طبقہ میں شامل ہیں جو ملوں، فیکٹریوں، کھیتوں یا دفتروں میں جسمانی یا ذہنی طور پر کام کرتے ہیں۔ اس طبقہ کو مزید سمجھنے کے لیے ہم اس کو تین حصوں میں تقسیم کریں گے۔

ا:۔ نچلا نچلا طبقہ :

وہ لوگ جن کے پاس روزگار کا کسی قسم کا کوئی تحفظ نہیں ہوتا۔ ہر وقت عدم تحفظ کی زندگی گزارتے ہیں۔ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تمام بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں۔ سطح غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی تقریباً نصف آبادی اسی طبقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ پاکستان میں اس طبقہ کی اوسط آمدن 125 ڈالر یا اس سے بھی کم ہے۔ نچلا نچلا طبقہ ہے۔ مثلاً دیہاڑی دار مزدور، خاک روب، پٹھہ مزدور، چھوٹی موٹی دکانوں پر کام کرنے والے، اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ نہ تو خود تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، نہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کی سکت رکھتے ہیں، نہ ان کی خوراک پوری کر پاتے ہیں اور نہ ہی علاج تک دسترس رکھتے ہیں۔ ان میں اکثر ایسے بھی ہیں۔ جن کو چھت بھی نصیب نہیں۔ ان کو ہم پوری طرح کچلا ہوا، پسا ہوا طبقہ کہے گے۔

ب :۔ نچلا درمیانہ طبقہ :

وہ افراد جن کے پاس چھوٹی موٹی نوکری کا تحفظ ہوتا ہے۔ اپنی قلیل تنخواہ میں بڑی مشکل سے گزارہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھار بونس مل جائے تو وہ دن ان کے لیے عید کا ہوتا ہے۔ پاکستان میں ان کی اوسط انکم تقریباً 125 ڈالر سے 300 ڈالر تک ہوتی ہے۔ اس طبقہ میں مل اور فیکٹری مزدور، ڈسٹریبیوٹر کا ملازم، چھوٹا کلرک، چھوٹے سرکاری ملازم، پرائیویٹ ٹیچرز، مختلف فرموں کے ملازم، بس، ٹرک، ویگن اور رکشہ ڈرائیورز، پرائمری ٹیچرز شامل ہیں۔ گو یہ نچلا نچلا طبقہ سے معاشی طور پر بہتر ہوتے ہیں۔ لیکن جدید دنیا کی جدید شہری سہولیات سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ ہر وقت مقروض رہتے ہیں۔ اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے ہر وقت فکر مند رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے دو دو نوکریاں بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مکمل سہولیات نہیں خرید سکتے۔

ج:۔ نچلا بالائی طبقہ :

ان کے پاس نچلا درمیانہ طبقہ سے بہتر نوکری یا ملازمت ہوتی ہے۔ ان کی آمدن 300 ڈالر سے 600 ڈالر تک ہوتی ہے۔ ضروری اخراجات پورے کرنے کے بعد کچھ رقم بچا بھی لیتے ہیں۔ انتہائی احتیاط سے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے بچوں کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے نچلے دونوں طبقوں کے مقابلے میں بہتر سہولیات ہوتی ہیں۔ اپنے بچوں کی تعلیم پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ لیکن جس تعلیم پر اپنی آمدن کا بڑا حصہ خرچ کرتے ہیں۔ وہ حالات سے مطابقت ہی نہیں رکھتی۔

فرسودہ نظام تعلیم کی وجہ سے انھیں ملازمت کے حصول کے لئے خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ خود کو درمیانہ طبقہ میں شامل کریں۔ اس کے لئے انتہائی محنت بھی کرتے ہیں۔ لیکن چند لوگ ہی کامیاب ہو پاتے ہیں۔ اس طبقہ میں سرکاری ٹیچرز، فیکٹریوں اور ملوں کے اکاؤنٹس، سینئر کلرک، جن کی تنخواہ 300 ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔ اسی طرح چھوٹا دکاندار گو نوعیت کے لحاظ سے درمیانہ نچلا طبقہ ہوتا ہے۔ لیکن آمدن کے اعتبار سے نچلا بالائی طبقہ ہے۔

2:۔ درمیانہ طبقہ:

اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں۔ جو ملوں اور فیکٹریوں (پیداواری یونٹس) میں تیار مال صارف تک پہنچانے میں سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ درمیانہ طبقہ کو سمجھنے کے لیے اس کو بھی مزید تین حصوں میں تقسیم کریں گے۔

ا:۔ درمیانہ نچلا طبقہ :

وہ افراد جو کسی ایک محلے یا چند محلوں کو ملوں اور فیکٹریوں میں تیار مال پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ درمیانہ نچلا طبقہ ہے۔ اس میں تقریباً ہر طرح کے دکاندار شامل ہیں۔ جن کی آمدن 600 ڈالر سے 3000 ڈالر تک ہوتی ہے۔ دو وقت کی روٹی اور بچوں کی تعلیم ان کا مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ آسانی سے ان ضروریات کو پورا کر لیتے ہیں۔ کسی حد تک جدید صحت تک بھی ان کی رسائی ہوتی ہے۔ پروفیسرز، وکلاء، اور ڈاکٹرز جن کی آمدن اس طبقہ کے مطابق ہے۔ اسی طبقہ کا حصہ ہیں۔ انتظامیہ کے افسر ان بھی اسی طبقہ میں آتے ہیں۔

ب :۔ درمیانہ درمیانہ طبقہ :۔

اس میں وہ لوگ آتے ہیں۔ جو ایک یا ایک سے زائد شہروں میں فیکٹریوں یا ملوں کا مال تقسیم کرتے ہیں۔ مثلاً کسی بھی شہر میں کوک، پیپسی، پی اینڈ جی یا کسی بھی کمپنی کا ڈسٹریبیوٹر، پٹرول پمپ، بڑی بیکریوں، بڑے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹوں کے مالکان اسی طبقہ میں شامل ہیں۔ اس طبقہ کی آمدن 3000 ڈالر سے 30000 ڈالر تک ہوتی ہے۔

ج:۔ درمیانہ بالائی طبقہ :۔

وہ لوگ جو ایک ملک یا ایک سے زائد ممالک میں مختلف فیکٹریوں اور ملوں کا مال تقسیم کرتے ہیں۔ اس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً سوزوکی کا پاکستان کی سطح کا ڈسٹریبیوٹر، اس طبقہ کی انکم لاکھوں ڈالر میں ہوتی ہے۔

3: بالائی طبقہ/ سرمایہ دار :

مختلف فیکٹریوں ملوں اور پیداواری یونٹس کے مالکان بالائی طبقہ میں آتے ہیں۔ یہ خود کسی قسم کا کوئی کام کاج نہیں کرتے۔ انتہائی درجے کے نکمے ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد مجموعی دنیا کی آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ لیکن دنیا کی تمام دولت پر ان کا قبضہ ہے۔ جس کی وجہ سے انسانوں کی اکثریت بھوک، ننگ، افلاس، جہالت، بے روزگاری، لاعلاج، اور غربت کا شکار ہیں۔ ان کو بھی تین حصوں میں تقسیم کریں گے۔

ا:۔ بالائی نچلا طبقہ /چھوٹا سرمایہ دار:۔

جس کی ملوں اور فیکٹریوں میں تیار کردہ مال ایک ملک یا چند ممالک میں فروخت ہوتا ہے۔ چھوٹا سرمایہ دار ہے۔ پاکستان میں کون کون سے سیاست دان چھوٹے سرمایہ دار ہیں۔ اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔

ب :۔ بالائی درمیانہ طبقہ /درمیانہ سرمایہ دار:۔

جس کے پیداواری یونٹس میں تیار مال دس سے پچاس ممالک تک فروخت ہوتا ہے۔ درمیانہ سرمایہ دار ہے۔ پاکستان میں میری معلومات کے مطابق ایسا کوئی سرمایہ دار موجود نہیں۔

ج :بالائی بالائی طبقہ /بڑا سرمایہ دار:

جس کا مال پچاس سے زائد ممالک میں سیل ہوتا ہے۔ بڑا سرمایہ دار ہے پی اینڈ جی، یونی لیور، نیسلے، کوک اور ایپل موبائل کی کمپنیوں کے مالکان، فیسبک، ایمزون مائیکرو سافٹ کے مالکان، اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ان کی آمدن کا حساب کتاب خود لگائیں کتنی ہو گی۔ دنیا میں سات ارب سے زائد انسان صبح سے شام تک جو محنت مزدوری کرتے ہیں اس سے سرمایہ دار طبقہ کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اب ہم دیکھتیں ہیں۔ کہ دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 90 فیصد سے زائد نچلا طبقہ، تقریباً بیس فیصد درمیانہ طبقہ اور ایک فیصد سے بھی کم بالائی طبقہ (سرمایہ دار طبقہ) ہے۔ ہمارا سماج معاشی اور طبقاتی طور پر تقسیم ہے۔ ہر طبقہ کا مفاد دوسرے طبقہ سے ٹکراتا ہے۔ ایک پیدا کرتا ہے، دوسرا اس کی پیداوار پر قابض ہو جاتا ہے۔ ایک محنت کرتا ہے۔ دوسرا عیش کرتا ہے۔ ایک کچلا ہوا ہے۔ دوسرا کچلنے والا ہے۔ ایک پسا ہوا ہے۔ دوسرا پسنے والا ہے۔ ایک مظلوم و محکوم ہے۔ دوسرا ظالم و جابر ہے۔ دنیا واضح طور پر دو طبقات میں تقسیم ہے۔ درمیانہ طبقہ ہر وقت سرمایہ دار کے مفادات کے لیے تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ یعنی وہ بھی ظالم و جابر کا ساتھی ہے۔

سیاسی طور پر اقتدار اعلیٰ اور حکومت پر سرمایہ دار طبقہ اور اس کے نمائندے قابض ہوتے ہیں۔ اور اسی کے مفادات کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی اپنے طبقہ کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور وہ انھیں کے مفادات کے لیے قانون سازی کرتے ہیں اور پالیسیاں بناتے ہیں۔ آٹا، چینی، پٹرول، گندم، اور ادویات پر حکومتی پالیسیاں واضح ثبوت ہیں۔

ہم یہ کیسے دیکھیں گے کہ کون سی سیاسی پارٹی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی نمائندہ ہے اور کون سی پارٹی عام آدمی محنت کشوں اور نچلے طبقات کی نمائندہ ہے۔ اس کے لئے دیکھنا ہو گا کہ پارٹی کے فیصلہ کرنے والے لوگ کس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا وہ سرمایہ دار اور درمیانہ طبقہ کے لوگ ہیں۔ یا محنت کش ہیں۔ جس پارٹی میں جس طبقہ کے لوگ فیصلہ سازی کے عمل میں موجود ہیں۔ وہ پارٹی اسی طبقہ کی نمائندہ ہو گی۔

دنیا کی مختلف محنت کشوں کی پارٹیوں میں درمیانہ طبقہ کے لوگ شامل رہے ہیں۔ لیکن پارٹی نے جو فیصلے کیے وہ ہمیشہ محنت کش طبقہ یعنی نوے فیصد کی نمائندگی کرتے تھے۔ آج بھی کسی پارٹی میں درمیانہ طبقہ یا بالائی طبقہ کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ پارٹی جو پروگرام دیتی ہے۔ وہ کس طبقہ کے مفادات کے لیے ہے۔

اگر ہم اپنے سماج میں جاری ظلم و جبر اور بربریت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی و خودمختاری اور ہر طرح کے طبقات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم یہاں ایک خوشحال سماج قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تو پھر ہمیں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی نمائندہ سیاسی پارٹیوں کی ہر سطح کی سپورٹ ترک کرنا ہو گی اور ایک انقلابی پارٹی، محنت کشوں کے مفادات کے لیے کام کرنے والی سیاسی پارٹی نوے فیصد سے زائد افراد کی نمائندہ سیاسی اور انقلابی پارٹی کی تعمیر کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔

دنیا بھر کے محنت کش جہاں جہاں موجود ہیں۔ انھیں سرمایہ داروں کی نمائندہ پارٹیوں کو ووٹ اور سپورٹ کو چھوڑ کر اپنے طبقے محنت کشوں کی انقلابی پارٹی کی تعمیر کرنا ہوگی۔ ہم یقین محکم کے ساتھ کہتے ہیں کہ اس دنیا سے ایک دن ظلم و جبر اور بربریت کا نظام سرمایہ دارانہ نظام کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہر حال میں ہو گا۔

Facebook Comments HS