غزہ میں بھوک


میں دیکھتی ہوں! بھوک سے نڈھال لوگوں کا ہجوم جب امدادی قافلے کی طرف دوڑا تو فوجیوں نے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے بلکتے لوگوں کو سکون کی نیند سُلا دیا۔ یعنی، کیا خوراک کے منتظر لوگوں کے ایک بڑے گروہ کو ہلاک کر دیا گیا؟

مجھ پر ایک سحر طاری ہوا میں نے سنا۔ ہم بھی اپنے بچوں کو کھانا کھلانا چاہتے ہیں۔ باقی سب کی طرح ہم آٹا لینے گئے لیکن ہم پر گولیاں چلائی گئی، گولے داغے گئے اور ٹینکس ہماری طرف بڑھے۔ ہم اسے حاصل کرنے کے راستے ہی مر جاتے ہیں۔

یہ خونی رقص ابھی رواں تھا کہ کچھ نہتے پاؤں بچے زمین پر بکھرا آٹا اٹھانے کے لئے بھاگ رہے تھے۔ وہ سب گولیوں کے خطرے سے بے فکر تھے۔ کچھ آٹے کے لیے ہم اس قدر ذلیل ہو رہے ہیں، ہم چوری کر رہے ہیں تاکہ کھا سکیں۔ میں قسم کھاتی ہوں کہ میں نے چوری شروع کی تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکوں۔ ہم بھوک کی شدت سے مر رہے ہیں اور جتنے بچ گئے وہ جلد ہی بمباری اور گولیوں کی نذر ہو جائیں گے۔

نوزائیدہ بچے کے منہ میں کھجور کا ٹکڑا، کیونکہ ماں شدید بھوک کی بنا پر دودھ پلانے سے قاصر ہے۔

لوگ اب کچھ کھانے کو ڈھونڈنے کے لیے کچرے میں جاتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے جانوروں کی خوراک کا سہارا لیا ہوا ہے۔

ہم کھا رہے ہیں! یہ ریت بری نہیں ہے۔ تم، خود بھی اس کا مزہ چکھو اور عرب ممالک کو بھی اس کا مزہ چکھنے دو۔ میں قسم کھاتی ہوں کہ میں اسے کھانے پر مجبور ہوں۔ لوگوں کی آوازیں میرے کانوں کو چھو رہی ہیں۔

تباہ کن عمارتیں، زمین بوس لاشیں، نا قابلِ استعمال سڑکیں، خون آلود کفن، انسانی جسم کے بکھرے عضو، ہر جگہ ملبے تلے دبے مرنے والوں کی بدبو، نہ بجلی اور نہ پانی، گیس اور غذا کی قلت، قحط سے متاثر بچے جن میں رونے کی قوت تک باقی نہیں۔ چیختے، روتے اور کفن میں ملبوس اپنے پیاروں سے سرگوشیاں کرتے مایوس لوگ جو انہیں نہ بچا سکے، ننھے ننھے ہاتھوں سے اپنے بابا کے بدن سے ملبہ ہٹاتی بچی، آسمان تلے رہنے پر مجبور لوگ، بھوک سے نڈھال جسم، پیاس سے سوکھتا حلق، زخموں سے چور بدن، صدمے کا شکار لوگ، بے سہارا بچے، ادویات کی کمی اور بے ہوش کیے بغیر مریضوں کو جراحت کرنے پر مجبور طبی عملہ، بموں کے دھوئیں سے بنتے بادل، زمین پر بکھرے گولیوں کے خول، فضا میں پھیلی بارود کی بدبو۔

نہیں! یہ 1947 کی ہجرتی فلم نہیں، یہ حقیقت ہے۔ یہ غزہ ہے۔

1917 ٖپہلی جنگ ِعظیم، خلافتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد انگریزوں نے فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی اجازت دی۔ اس وقت عرب کثیر تعداد میں یہاں مقیم تھے، جب کہ یہودی اقلیت میں تھے۔ 1948 میں برطانوی سامراج ختم ہوتے ہی یہودیوں نے ایک ریاست ’اسرائیل‘ کے قیام کا اعلان کر دیا۔ کچھ عرصے بعد ہی تقریباً 70 فیصد فلسطین پر اسرائیلی یہودی قابض ہو گئے۔ 1967 میں اسرائیل نے یروشلم (بیت المقدس) ، مغربی کنارے اور ساتھ ہی غزہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ صہیونی ریاست کے قیام کے بعد وقتاً فوقتاً اب تک فلسطینیوں پر ظلم ہو رہا ہے۔

7اکتوبر 2023۔ خوف، بھوک، نفرت، دہشت، درندگی اور بربریت کے اس رقص کو 7 ماہ سے بھی زائد وقت گزر چکا ہے۔ اب تک غزہ میں 35,000 کے قریب اسرائیل کی بمباری کی نذر ہو چکے ہیں۔ یہ ایک بڑا فگر ہے جس میں 14,000 کے قریب بچے شامل ہیں، غزہ میں صرف 10 دنوں میں 1000 سے زائد فلسطینی بچے اس نفرت کی بھینٹ چڑھے۔ کئی بچے اپنے جسمانی اعضاء ضائع ہونے کے باعث عمر بھر محتاج رہیں گے۔ 60 فیصد سے زائد مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے، 90 فیصد اسکولوں کو تباہ کر دیا گیا جس کے نتیجے، بچے طویل عرصے تعلیم سے محروم رہیں گے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں 3.1 ملین لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ سے نکل جانے کی دھمکی کے بعد جب فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہوئے تو غزہ کا بہت بڑا عوامی سیلاب خان یونس کو پہنچنے لگا۔ وسائل تیزی سے ختم ہو رہے تھے۔ پانی کو صاف کرنے والے ایندھن کی کمی نے غزہ کی 90 فیصد آبادی کو بہتر پانی تک رسائی سے محروم کر دیا ہے۔ جس کی بناء پر ہیضے اور دیگر پیٹ کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ایک تباہ کن اور قیامت خیز صورتحال۔

دراصل، رفح کا شہر مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد پر واقع ہے۔ حال ہی میں اسرائیل نے رفح میں انخلاء کے احکامات جاری کیے اور ساتھ ہی فضائی حملے بھی شروع کیے جہاں 1.4 ملین فلسطینی مقیم تھے۔ سب کے سب خوفزدہ ہیں وہ انتظار کر رہے کہ کچھ ہی دیر میں انہیں ختم کر دیا جائے گا۔ کوئی نہیں جانتا کہ اب کیا ہو گا۔ واقعی کوئی نہیں جانتا کہ آخری سانس کا سبب کیا ہو گا۔ جسم کو نڈھال کرتی بھوک یا چھلنی کرتی گولیاں؟`

یہ منظر دیکھ کر میرے ذہن میں دوسرے جنگِ عظیم 1941 کے ہولوکاسٹ کی تصویر آتی ہے۔ دنیا اپنے استحصال، امتیازی سلوک، قتل و غارت گری اور جبر میں کتنی ہی ظالم رہی ہے۔ میں نے اس سے پہلے کبھی ایسی بربریت کو قریب سے نہیں دیکھا جو ظلم ان نہتے فلسطینیوں پر ہو ہا ہے۔

در حقیقت، اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس کے مطابق ’رفح حملہ غزہ میں انسانی سر گرمیوں کے لئے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا‘ ۔ کیا دنیا صرف دیکھے گی؟ جب تک پورا غزہ شعلوں کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ تب تک؟

امریکہ، جرمنی، برطانیہ، فرانس جیسی طاقتیں بھی کچھ نہیں کر پا رہی۔ شاید معصوم جانوں سے زیادہ عزیز دوستانہ ہو۔ کیونکہ اسرائیل کو گولہ بارود فراہم کرنے سے تو کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ پر تاسف تو مجھے اس پر بھی نہیں، لیکن ملال مجھے صرف اس بات کا ہے کہ اقوامِ متحدہ، 57 اسلامی ممالک لگ بھگ 1.9 بلین مسلمان، او آئی سی اور عرب لیگ بھی جنگ بند نہ کروا سکے۔ ؟

دیکھتے ہیں! مسلم دنیا کے لب آخر کب تک خاموش رہیں گے۔ ہم دیکھتے ہیں، غزہ کی بھوک کا یہ تماشا ۔ کیونکہ ہم صرف دیکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS