پاکستان کی زرعی معیشت، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور صنعتی زونز
حکومتی بیانات اور نصابی کتب میں اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان زراعت کے میدان میں خود کفیل ہے، زراعت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور یہ وطن عزیز زرعی و زرخیز زمینوں کی نعمت سے مالا مال ہے۔ مگر حالیہ چند برسوں میں حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں اور زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز اور صنعتی زونز جیسے منصوبوں سے لگتا ہے کہ پاکستان بہت جلد اپنے اس ٹائٹل سے محروم ہونے والا ہے۔
چند سال پہلے ملتان میں آم کے سرسبز باغات کو کاٹ کر وہاں ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کو بنایا گیا تھا۔ یہی ناسور بلا خوف و خطر گوجرانوالا (گکھڑ) کی زرخیز زمینوں کو نگل چکا ہے، اور اب منڈی بہاؤالدین کی زرعی اراضی پر جم خانہ کے قیام کی تیاریاں جاری ہیں۔ جبکہ مقامی باشندوں کا احتجاج ہے کہ زرعی زمینوں کی بے دریغ قربانی کر کے اگر ہمیں زرعی اجناس سے محروم کرنا ہی ہے، تو کم از کم عوامی مفاد کے لیے یونیورسٹی قائم کی جائے، نہ کہ صرف ایلیٹ کلاس کے فائدے کے لیے جم خانہ۔
ابھی کچھ دن پہلے ہی گجرات میں صنعتی زون کے نام پر زرعی زمینوں ہڑپ کرنے کے حکومتی فیصلے پر کسانوں نے شہر بھر میں شدید احتجاج کیا ہے۔ پنجاب کے وزیر صنعت چوہدری شافع حسین نے اس ہفتے کے شروع میں 400 ایکڑ اراضی پر سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے فیز 2 کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ شہر کے مضافات میں مختلف دیہات خاص طور پر ملک پور، چھاہرہ، سیدیری اور جوڑہ جلال پور سے تعلق رکھنے والے متعدد کسانوں نے انڈسٹریل اسٹیٹ کے فیز 2 کے قیام کے لیے اپنی زمین کے مجوزہ حصول کے خلاف ضلعی گورنمنٹ کمپلیکس میں دھرنا دیا۔ شدید بارش کے باوجود کسان اپنی ٹریکٹر ٹرالیوں پر ڈسٹرکٹ کمپلیکس پہنچ گئے اور انڈسٹریل اسٹیٹ کے لیے ان کی زرعی اراضی کے حصول کے خلاف نعرے لگائے۔
یہ وہی کسان ہیں جو مہنگے داموں پر کھاد، پٹرول، ڈیزل، ادویات وغیرہ خریدتے اور دن رات انتھک محنت کر کے جب فصل اگاتے ہیں تو حکومت نہ صرف ان سے گندم خریدنے سے انکار کرتی ہے بلکہ ریٹ بھی بالکل گِرا دیتی ہے۔ اب اگر کسان گندم بیچے تو نقصان اور اگر نہ بیچے تو بھی نقصان۔ اِس بدترین ظلم، لاقانونیت، استبداد اور استحصال کے باوجود ان لوگوں نے خود کو مٹی کے ساتھ جوڑے رکھا ہے۔ یہ وہ کسان اور اُن کی اولادیں ہیں جو اس قحط الرجال کے دور میں بھی آپ کو پاکستان میں نظر آ رہی ہیں اور اپنی معاش زراعت سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
کسانوں کی محنت اور ان کی زرعی زمینوں کو صنعتی زونز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بھینٹ چڑھا کر حکومت نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے بلکہ زرعی شعبے کو تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے۔ اگر معاملات ایسے ہی چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب زراعت صرف کتابوں تک محدود رہ جائے گی اور پاکستان کو معیشت، بجلی، گیس اور پانی جیسے مسائل کے ساتھ ساتھ خوراک کی شدید قلت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
ہمیں ہاؤسنگ سوسائٹیز اور صنعتی زونز ضرور بنانے چاہئیں، مگر ان کی تعمیر وہاں کی جائے جہاں ان کی ضرورت ہے۔ ان کے ذریعے ہم اپنے بنجر اور غیر آباد علاقوں کو آباد کر سکتے ہیں۔ مگر زرخیز اور سیاحتی علاقوں میں ان کا قیام وہاں کے قدرتی حسن اور زمین کی پیداواری صلاحیتوں کو ختم کر دیتا ہے، جو کہ ہماری معیشت اور ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔


