سیاسی جماعت پہ پابندی: ایک کڑوا گھونٹ


ایک مشہور افریقی کہاوت ہے کہ ”اگر تم تیز جانا چاہتے ہو تو اکیلے جاؤ اور اگر تم دور تک جانا چاہتے ہو تو اکٹھے جاؤ“

مسلم لیگ نون کی حکومت نے بھی ایسا ہی کیا، اس نے بنا کسی سے مشورہ کیے، اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر تحریک انصاف پہ بحیثیت سیاسی جماعت پابندی لگانے کا اعلان کر دیا جی۔ گو کہ اس فیصلے پہ عملدرآمد ابھی نہیں ہوا مگر لیگی وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کر کے اپنی حکومت کے عزائم سے قوم کو آگاہ کیا۔ وفاقی حکومت کے ترجمان کی اس پریس کانفرنس نے سیاسی حدت میں مزید اضافہ کر دیا۔ حکومت کے اتحادیوں سمیت خود اکثر لیگی اکابرین، حکومتی اتحادیوں، ملک کی سول سوسائٹی و صحافتی برداری سمیت اکثریت نے اس حکومتی فیصلے پہ شدید تحفظات کا نہ صرف اظہار کیا بلکہ اکثریت نے اس فیصلے کو مسلم لیگ نون حکومت کی غیر دانشمندانہ اور غیر سیاسی اپروچ قرار دیا۔

حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ابھی تک اس معاملے پہ باضابطہ موقف تو نہیں دیا مگر پارٹی کے بہت سارے رہنماؤں نے اپنی ذاتی رائے دیتے ہوئے کسی بھی سیاسی جماعت پہ پابندی کے فیصلے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ”حالانکہ عمران خان ملک میں سیاسی افراتفری اور موجودہ معاشی حالات کے ذمے دار ہیں مگر اس کے باوجود جمہوریت میں کسی بھی سیاسی جماعت پہ پابندی جمہوریت کی نفی ہے۔‘‘

وزیر اعلیٰ سندھ نے پی ٹی آئی پہ پابندی کے حوالے سے کہا کہ پیپلز پارٹی سیاسی میدان میں مقابلہ کرتی ہے کسی جماعت پہ پابندی کے حق میں نہیں ہیں مگر محض ووٹ یا نشستیں حاصل کرنے سے کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنتی۔

تحریک انصاف کی نفرت، انتشار، افراتفری، لڑو اور لڑاؤ کی سیاست نے آج اسے اس نہج پہ لا کھڑا کیا ہے کہ اس پہ پابندی لگانے کی باتیں ہونے لگی ہیں اور مقتدرہ بڑی سنجیدگی سے اس پہ عملدرآمد کا جائزہ لینے پہ مجبور ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری بھی ماضی قریب میں ایک انٹرویو میں واشگاف الفاظ کہہ چکے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کو سیاسی جماعت نہیں مانتے۔

سیاست برداشت، صبر اور درگزر کا نام ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی ان تینوں خصلتوں سے محروم ہے۔ پاکستان کی سیاست میں اگر کسی جماعت میں یہ تینوں خصوصیات پائی جاتی ہیں تو وہ یقیناً پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ جبکہ ملکی سیاست میں مخالفین کے خلاف گالم گلوچ، الزام تراشی، ان کی کردارکشی اور ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی موجد مسلم لیگ نون ہے اور اسے بامِ عروج اور جدت عمران خان اور ان کے ہینڈلرز نے عطا کی۔ عمران خان کو لانے والوں کے شاید خواب و خیال میں بھی نہیں ہو گا کہ اپنے ہاتھوں سے تراشی کٹھ پتلی ایک روز پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور اسلامی قدروں کے بخیے ادھیڑ ڈالے گی۔

پچھلے بارہ پندرہ سال میں جس طرح عمران خان کی پرورش کرنے والوں نے اسے مسندِ اقتدار پہ بٹھانے کے لیے طریقے اختیار کیے وہ آج ان کے گلے کی وہ ہڈی بن چکے ہیں جسے نہ اُگلا جا رہا ہے نہ ہی نِگلا۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کے خلاف بیانیہ بنا کر اور عمران خان کو نیک، ایماندار اور محبِ وطن فرشتہ صفت سیاسی رہنما کے طور پہ پیش تو کر دیا مگر اس وقت وہی صادق و امین اپنے ہی گاڈ فادرز کے لیے وہ چیلنج بنا ہوا ہے جس سے نمٹنا اس وقت پل صراط سے گزرنے جیسا لگ رہا ہے۔

پچھلے دو تین ہفتوں سے ملک میں جس طرح عدم استحکام، انتشار اور افراتفری بڑھی ہے اس نے ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام کو داؤ پہ لگا دیا ہے۔ حکومت بھی معاملہ فہمی اور دور اندیشی سے کام لینے کے بجائے غصے اور جوش سے ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جو نہ صرف ملک کے سیاسی، معاشی استحکام کے منافی ہیں بلکہ اس سے جمہوریت کے مستقبل کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف یقیناً سیاسی جماعت سے زیادہ انتشار پسند، شدت پسند اور منتشر الخیال و نظریات اور ذاتی مفادات کے غلام ذہنیت لوگوں کا ایک جتھہ ہے جسے بدقسمتی سے قوم کے سامنے ایک محبِ وطن، تبدیلی پسند اور عوام دوست جماعت کے طور پہ پیش کیا گیا تھا۔ اس جماعت کو بڑی منصوبہ بندی، سخت محنت سے نوک پلک سنوار کر عوامی پذیرائی دلوائی گئی تھی۔ آج یہی عوامی مقبولیت ان تمام اداروں کے سر پہ چڑھ کر ناچ رہی ہے۔

جنرل پرویز مشرف کی مہربانی سے میانوالی سے انہیں ایک نشست دلوائی گئی، جس کی بنیاد پر وہ وزیراعظم کی خواہش کر بیٹھے تھے۔ مگر ان کی جماعت نے پورے ملک سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ ووٹ سے زیادہ شاید ہی کبھی ووٹ لیے ہیں۔ وہی تحریک انصاف اچانک 2011 میں ملک کی تیزی سے ابھرتی، ملک کے سیاسی منظر نامے میں تیسری سیاسی قوت کی طور پر مقبول ہوتی نظر آئی تو کس کی مرہون منت۔ آج یقیناً عمران خان عوامی مقبولیت میں سب سے اونچی چوٹی پہ ہیں مگر کیا یہ مقبولیت ان کے کردار، ان کی سیاست، ان کے رویوں اور ان کی عوام اور وطن سے محبت کی وجہ سے ہے تو اس کا جواب نہیں میں ہے۔

عمران خان کی مقبولیت جھوٹے بیانیے اور منافقت کی بنیادوں پہ کھڑی ہے جو کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہے صرف سیاسی اور انسانی شعور کی بات ہے جس دن قوم کو یہ یقین ہو گیا کہ ہمارا مسیحا کردار، گفتار، اور شعار میں انتہا سے بھی زیادہ پست ہے تو یہ مصنوعی مقبولیت لمحوں میں عوامی غیظ و غضب اور نفرت میں بدل جائے گی۔

عمران خان کو تبدیلی کا استعارہ اور مسیحا بنا کر پیش کرنے والوں کو بھی شاید رتی بھر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس شخص پہ نیا تجربہ کر کے اس کو ملک و قوم کا رہبر و رہنما بنا کر پیش کرنے جا رہے ہیں وہ تو پاکستان کا سب سے بڑا انتشار و شدت پسند شخص ہے۔ آج یہی شخص اس ملک کے لیے نہ صرف سیکیورٹی تھریٹ بنا ہوا ہے بلکہ دنیا بھر اس کے پیروکار پاکستان کو بدنام کرنے اور معاشی طور پر نقصان پہچانے کی مہم شروع کیے ہوئے ہیں۔

آج اگر تحریک انصاف پہ پابندی کی باتیں ہو رہی ہیں تو یقیناً اس کے سب سے بڑے ذمے دار عمران خان خود ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو ایک امن و جمہوریت پسند، ذمے دار اور محب وطن سیاسی رہنما ثابت کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور ان کی جماعت کی شر انگیزیوں اور ملک و اداروں کے استحکام سالمیت کے خلاف سازشوں، جمہوریت، پارلیمان، سیاست اور معیشت کو کمزور کرنے کے منفی ہتھکنڈوں کے استعمال کے بہت زیادہ شواہد موجود ہیں جس کی بنیاد پر حکومت نے تحریک انصاف پہ پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کو یہ سخت اور مشکل فیصلہ جمہوریت کی بقا، سیاسی و معاشی استحکام کی خاطر، ملک کے وسیع تر مفاد میں سوچ سمجھ کر اور تمام اتحادیوں سے مشاورت کے بعد لینا چاہیے کہیں کوئی اندوہناک سانحہ نہ پیش آ جائے۔

Facebook Comments HS