جرمنی اور وفاقی آئینی عدالت کے تحفظ کا قانون
”وفاقی آئینی عدالت کے تحفظ کے لئے قوانین، جن پر حکومتی اتحادی جماعتیں اور حزبِ اختلاف، کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد ، متفق ہوئی ہیں، کی حیثیت، قانونی تفصیلات سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ قوانین جمہوریت کے دل کے اندر تک جاتے ہیں۔ ان کا مقصد، انتہا پسند جماعتوں کو، قانون کی بالادستی قائم کی ہوئی ریاست کو مفلوج کرنے سے، روکنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جرمن قانونی جمہوری ریاست کی بنیادیں، بڑھتے ہوئے دباؤ کا مقابلہ کر سکیں“ ۔
یہ پیراگراف، جرمنی کے مشہور و معروف ”دی سائیٹ“ نامی (دی ٹائم) ہفتہ وار اخبار کے تازہ ترین شمارے کے پہلے صفحے پر موجود کالم کے شروع میں ہے۔ ان قوانین کے بننے اور ان کے اطلاق سے بھی زیادہ، جرمنی میں اس وقت کی جمہوری قوتیں، جمہوریت کے دشمنوں کو کبھی یہ موقع نہیں دیں گی کہ وہ جمہوریت کو نقصان پہنچا سکیں۔
یہ قوانین اس لئے بھی بنائے جا رہے ہیں تاکہ جرمنی میں 2013 سے قائم ہونے، مسلمانوں اور غیر ملکیوں کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے اور فاشسٹ نظریات رکھنے والی دائیں بازو کی اے۔ ایف۔ ڈی نامی جماعت، جو کافی طاقتور ہو رہی ہے، کے خلاف جمہوری قوتیں متحد ہو کر اس کو شکست دینے میں کامیاب ہو سکیں۔ اے۔ ایف۔ ڈی کا ترجمہ ”جرمنی کا متبادل“ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جماعت کے غیر جمہوری نظریات کی وجہ سے، جرمنی کی گزشتہ پارلیمانی مدت میں نا دوسری تمام جمہوری جماعتوں نے اے۔ ایف۔ ڈی کے ساتھ مل کر کام کیا تھا اور نا ہی موجودہ وفاقی پارلیمان اس کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہے۔
حالیہ یورپین یونین کے جنرل الیکشن میں بھی تمام یورپ سے اس جیسی دائیں بازو کی جماعتیں نسبتاً کافی زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں اور یورپین پارلیمان میں انہوں نے مل کر ایک طاقتور گروپ بنا لیا ہے۔
ویسے تو دنیا کے اکثریتی ممالک میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان ہمیشہ ہی ٹھنی رہتی ہے لیکن جرمن باشندوں میں قومیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جرمن لوگوں کی قومیت کے جذبے کی داد دینی پڑتی ہے کہ 40 سال تک عوام، 2 مختلف نظاموں، اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ، میں رہنے کے باوجود، کبھی آپس میں نہیں لڑے ماسوائے مشرقی جرمن سرحدی پولیس، جو دیوار برلن پر، مغربی جرمنی جانے والوں کو گولی مار دیتی تھی۔ بلکہ دولتمند مغربی جرمن باشندوں نے اور حکومتی سطح پر بھی، مشرقی جرمنی کی ہمیشہ مدد ہی کی تھی۔
جرمنی کو، جب بھی کبھی، قومی یا بین الاقوامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ملک کی دونوں بڑی جماعتوں، کرسچن ڈیموکریٹک یونین یعنی سی۔ ڈی۔ یو، جس کے ساتھ، صرف جرمنی کے ایک بویریا صوبہ میں متحرک سیاسی جماعت، کرسچن سوشل یونین یعنی سی، ایس، یو، ایک دائمی اتحادکیے ہوئے ہے، اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، ایس۔ پی۔ ڈی۔ نے گریٹ اتحاد نامی اتحادی حکومتیں قائم کیں اور مشکلات پر قابو پا لیا۔
گریٹ اتحاد، چاہے وہ ولی برانٹ (ایس۔ پی۔ ڈی) کا جارج کیسینجر ( سی۔ ڈی۔ یو) کے ساتھ، 1966 والا ہو یا سابقہ چانسلر انگیلا مرکل کے دور حکومت میں ان کے ساتھ مختلف، سوشل ڈیموکریٹک جماعت کے راہنماؤں والوں کے گریٹ اتحاد ہوں، جرمنی میں ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔
دی سائیٹ کے کالم کے مطابق ”اگرچہ جرمنی کے شہر کارلسروئے میں واقع آئینی عدالت کو، اس وقت کوئی شدید خطرہ لاحق نہیں ہے لیکن یہ صورتِ حال کبھی بھی بدل سکتی ہے“ ۔ پولینڈ کی آئینی عدالت، جو کبھی نہایت قابلِ احترام ہوا کرتی تھی، کو پولینڈ کی پس نامی، قدامت پسند نیشنل حکومتی جماعت نے، مضحکہ خیز بنا دیا تھا۔
اگر چہ اس وقت دوبارہ نئی حکومت کے آنے سے صورت حال بدل چکی ہے۔ ماضی میں جب بھی، کہیں بھی مطلق العنان یا/ اوور پاپولسٹ حکمران آئے، ہمیشہ جمہوریت کا خون ہوا اور سب سے زیادہ مظلومیت کا شکار وہاں کے عوام ہی ہوئے ہیں۔


