نثار، شاہد اور مہتاب کی ”سیاست“ پارٹ 2۔


”سیاسی جوتشی“ تا حال چوہدری نثار علی خان کے ”سیاسی مستقبل“ کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہ کر سکے چوہدری نثار علی خان ملکی سیاست سے کٹ کر رہ گئے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو حلقہ ہائے انتخاب تک محدود کر لیا ہے وہ سیاست دان جس کے بیانات روزانہ اخبارات میں شہ سرخیوں کی زینت بنتے ہوں اور الیکٹرانک میڈیا کی چیختی چنگھاڑتی لیڈ ہوں کا گوشہ نشینی اختیار کر لینا اپنے اوپر جبر کرنے کے مترادف تھا۔ وہ گزشتہ 6 سال سے اپنے حلقے کی سیاست کر رہے ہیں۔ ملکی سیاست سے لاتعلق ہو گئے ہیں شنید ہے وہ سرجری کے بعد امریکہ کی سیر کو چلے گئے تھے رواں ہفتے خاموشی سے پاکستان واپس آ گئے ہیں ان تک کسی سیاسی لیڈر یا صحافی کی رسائی ”ناممکنات“ میں سے ہے اگر ان کے بارے میں کوئی خبر شائع ہو جائے تو سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے لیکن خبر نہیں نکلتی کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ چوہدری نثار علی خان، شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں قائم ہونے والی جماعت ”عوام پاکستان“ میں شمولیت کا اعلان کر دیں گے تو میں نے اس وقت ہی اس بات کی تردید کر دی تھی جس شخص نے مسلم لیگ (ن) کا ”بھرا میلہ“ چھوڑ دیا عمران خان کی پرکشش پیشکش کو ٹھکرا دیا وہ کس طرح ایک نوزائیدہ پارٹی کا حصہ بن سکتا ہے؟

چوہدری نثار علی خان نے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر تخت نشینی قبول نہیں کی انہوں نے ایسی جماعت کا حصہ بننے سے انکار کر دیا جس میں ان کی موجودگی میں شریف خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہو اگرچہ ایک سال قبل ہی شاہد خاقان عباسی نے اس وقت مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدارت سے استعفاٰ دے دیا تھا جب نواز شریف نے مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کا سینئر نائب صدر و چیف آرگنائزر بنایا تھا اس وقت تو انہوں نے یہ کہہ کر پارٹی کی سینئر نائب صدارت چھوڑ دی کہ وہ مریم نواز کے لئے موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں تھا وہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے رہے کہ ملک میں ہمیشہ ایک پارٹی کی گنجائش رہتی ہے سو جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کے شریف خاندان سے فاصلے بڑھتے گئے بالآخر انہوں نے ”عوام پاکستان“ کے نام سے ایک نئی پارٹی قائم کر دی بظاہر اس پارٹی کا قیام مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک دھچکے سے کم نہیں کیونکہ اس پارٹی میں شامل ہونے والوں کی اکثریت مسلم لیگی رہنماؤں کی ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے نواز شریف اور مریم نواز سے ناراض ہیں اور میاں صاحب نے ان کی ناراضی دور کرنے کی کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی بلکہ میاں صاحب نے یہ پالیسی اختیار کر لی ”اگر کوئی ان کی پارٹی چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو اس کی منت سماجت نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کچھ لوگ پارٹی کے اندر رہنے کی قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں جو وہ ادا کرنے کے لئے تیار نہیں۔

محمد زبیر جو کل تک نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان کے فرائض انجام دے رہے تھے انہوں نے اچانک مسلم لیگ (ن) کی شکستہ کشتی سے چھلانگ لگا دی۔ آصف کرمانی کا کافی عرصہ سے جاتی امرا سے رابطہ منقطع ہو چکا تھا زعیم قادری کب کے مسلم لیگ (ن) چھوڑ چکے تھے تاحال محمد زبیر نے کوئی نئی پارٹی جوائن نہیں کی ممکن ہے آئندہ چند دنوں میں“ عوام پاکستان” کا حصہ بن جائیں فی الحال وہ بھی مسلم لیگ (ن) سے علحیدگی کا کوئی معقول جواز پیش نہیں کر سکے سردار مہتاب احمد خان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں کے پی کے بے تاج بادشاہ تھے اب وہ اس جماعت میں دوسری صف میں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں جو ان کے ہاتھوں سے بنائی گئی ہو۔

عوام پاکستان کی لانچنگ تقریب میں، میں نے شاہد خاقان عباسی سے استفسار کیا کہ ”کیا وجہ ہے آپ اور سردار مہتاب احمد خان نے نواز شریف کی 30، 40 سالہ دوستی ختم کر کے مسلم لیگ (ن) کی کشتی سے چھلانگ لگا دی کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی طبعی عمر مکمل ہو گئی ہے اس لئے کشتی سے چھلانگ لگا دی ہے جب آپ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو آپ چوہدری نثار علی خان کو وزارت کا حلف اٹھانے کے لئے راضی کرنے پنجاب ہاؤس گئے تھے تو آپ نے کہا تھا کہ ہمارا مسلم لیگ (ن) کے بغیر کہیں اور گزارہ نہیں اب آپ کیوں نئی جماعت بنانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔

میں نے چوہدری نثار علی خان سے بھی مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کی اصل وجہ کے بارے میں پوچھتا رہا ہوں لیکن انہوں نے بھی کبھی کھل کر مسلم لیگ چھوڑنے کی وجہ نہیں بتائی تاہم شاہد خاقان عباسی نے پارٹی چھوڑنے کی وجہ یہ بتائی کہ ”میں 35 سال مسلم لیگ (ن) میں رہا کبھی کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی میں نے اصولوں پر سیاست کی ہے مسلم لیگ (ن) نے ووٹ کو عزت دو کی سیاست چھوڑ کر اقتدار کی سیاست شروع کر دی تو میں نے ایک سال قبل پارٹی قیادت پر واضح کر دیا تھا کہ میں اس سیاست کا حصہ نہیں بن کر رہ سکتا سو ایک نئی سوچ لے کر نئی جماعت بنانے جا رہے ہیں“ پریس کانفرنس کے اختتام پر سردار مہتاب احمد خان نے دوستانہ انداز میں گلہ کیا کہ اب آپ کو مسلم لیگ (ن) کے چھوڑنے کے سوالات سے آگے نکل آنا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) سے باضابطہ علحیدگی سے قبل ہی شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے پورے ملک میں ”ری ایمرجنگ پاکستان“ کے عنوان سے سیمیناروں کا انعقاد کر کے اشاروں کنایوں میں ملک میں نئی پارٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا ان کے ساتھ انقلابی سوچ کے نقیب اور اشرافیہ کی چیرہ دستیوں کو بے نقاب کرنے والے مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی پرجوش خطاب کر رہے تھے عام تاثر یہ تھا کہ مصطفیٰ نواز بھی عوام پاکستان پارٹی کے چوتھے بڑے لیڈر ہوں گے لیکن انہوں نے بھاری ”پتھر“ کو چوم کر اپنی الگ راہ لی۔

شاہد خاقان عباسی ایک صاف ستھرے کردار کے مالک سیاست دان ہیں، ایل این جی کے ٹرمینل کی منظوری میں ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرنے کے الزام میں 8 ماہ تک جیل کاٹی انہوں نے نیب قوانین میں ترامیم سے ریلیف لینے سے انکار کر دیا بالآخر نیب کو ہی شرمندگی اٹھانا پڑی اور ان کے خلاف کیس ہی واپس لے لیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس وقت ملک کی سیاست نواز شریف، عمران خان اور آصف علی زرداری کے گرد گھوم رہی ہے جماعت اسلامی ملک کی منظم جماعت ہے اس کا ووٹ بینک 28 لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن اس کا ایک رکن بھی پارلیمان تک نہیں پہنچ سکا جمعیت علما ء اسلام ملک کی چوتھی بڑی جماعت ہے لیکن وہ بھی پارلیمان میں قابل ذکر نشستیں حاصل نہیں کر سکی شاہد خاقان عباسی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں چوہدری نثار علی خان کی شخصیت کا دبدبہ تھا لیکن دونوں کرشماتی شخصیات نہیں جو عوام میں مقبول جماعت کے قائد کے لئے ضروری ہے۔

ایوب خان کے جبر کے دور نے ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق کے مارشل لاء نے بے نظیر بھٹو کو لیڈر بنایا۔ بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں نواز شریف کو عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کو لیڈر بنا یا اور اب پھر عمران خان زیر عتاب ہیں ان کی موجودگی میں کسی اور لیڈر کی گنجائش نہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ عام محفلوں میں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے تھے شاید شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے مسلم لیگ (ن) سے الگ راستے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “نثار، شاہد اور مہتاب کی ”سیاست“ پارٹ 2۔

  • 29/07/2024 at 2:45 شام
    Permalink

     بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں نواز شریف کو عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ? Really without establishment

Comments are closed.