تاریخی اور قابل ذکر تعلیمی درسگاہ: سینٹ ڈنیسز سکول، مری

تعلیم و تربیت اور ہنر، ماحول اور پرورش کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ اور اگر تعلیم اور تربیت کا یہ اہتمام کسی ایسی درسگاہ پر ہو جو قدرت کی حسین وادیوں اور خوبصورت مقام پر واقع ہو، تو زندگی کا مقصد بڑا واضح ہو جاتا ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے تعلیم و تربیت، کتابوں اور سفر جیسے اپنے شوق کو اپنے پروفیشن میں اپنانے کا موقع ملا ہے۔ گزشتہ دنوں اپنی پیشہ ورانہ خدمات کو سرانجام دینے کے لیے میں پاکستان کے خوبصورت علاقے مری میں گیا، اور ایسی شاندار تاریخ کی حامل درسگاہ کا وزٹ کرنے کا شرف ملا جس نے علم کی روشنی سے بے شمار زندگیوں کو روشن کیا ہے۔
یہ درسگاہ ایسے خوبصورت اور قدرتی مناظر پر واقع ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم بیرون ملک کسی اعلیٰ درسگاہ میں موجود ہیں۔ مجھے یہ بات بڑی خوشی سے بتاتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ مشنری تعلیمی اداروں نے برصغیر پاک و ہند میں تعلیم کے لیے جو بے لوث اور اعلیٰ خدمات سرانجام دی ہیں وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں نہ صرف درس و تدریس، بلکہ فنون لطیفہ اور معاشرے میں کردار سازی، اور نئی سوچ کو پروان چڑھانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ تعلیمی ادارے جہاں بلا رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کیے بغیر تمام انسانوں کے لیے علم کے دروازے کھلے رکھے ہیں، وہاں ان تعلیمی اداروں میں انسانیت کی عظمت اور انسانی وقار کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔
ان تعلیمی اداروں کا تعلیم کو عبادت سمجھ کر ایک مقدس فریضہ سرانجام دینا ایک منفرد پہلو ہے کیونکہ یہ ادارے تعلیم کو ایک مشن سمجھتے ہیں کاروبار نہیں۔
آج ہم، آپ کو ایک تاریخی درسگاہ کے متعلق بتائیں گے۔ جس کے بارے میں آپ کو آگاہ کرنے کا مقصد اس ادارے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ اس خطے میں اپنی تاریخ اور معیار کے لحاظ سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ یہ مری کی شان اور پہچان ہے اور خصوصی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی ٹریننگ، مینجمنٹ کے ساتھ مشاورت اور والدین و طلباء کے ساتھ گفتگو کے دوران یہ بات دہراتا ہوں، کہ تعلیمی ادارے، اپنے کلچر، معیار اور فضا کی بدولت عظمت کے مقام پر پہنچتے ہیں۔
کامیاب اور بہترین تعلیمی اداروں کے احاطے میں داخل ہوتے ہی، اُس کی فضا، اس ادارے کے ماحول اور مقام کا پتہ دے دیتی ہے۔ سینٹ ڈنیسز گرلز ہائی اسکول 1882 میں قائم ہوا۔ اُس وقت اینگلیکن لاہور ڈایوسیس کے پہلے بشپ ویلپی فرانچ (Valpy French) نے اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ پہلے 12 سال تک سینٹ ڈینسز اسکول سسٹرز نے چلایا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ صرف ایک گرلز بورڈنگ اسکول تھا، جو کشمیر پوائنٹ مری پر واقع ہے۔ یہ پورا کیمپس گھنے دیودار اور پائن کے درختوں سے گھرا ہوا ہے اور اس کا پرسکون احاطہ سیکھنے کا بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔
سینٹ ڈنیسز گرلز ہائی اسکول بہترین اور منفرد روایت کا سرچشمہ ہے اور یہ اپنی اعلیٰ معیاری تعلیم اور کردار سازی کے لیے معروف ہے۔ اس درسگاہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء پوری دُنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور مختلف عہدوں و اعلیٰ مقام پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اسکول کا لوگو بہت پُر اثر ہے جس پر فرنچ زبان میں تین الفاظ لکھے ہیں Fortiter Fideliter Feliciter جو اس کا موٹو ہے۔ جس کا مفہوم یوں ہے کہ ”بہادری اور وفاداری سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔“
لاہور ڈایوسیزن بورڈ آف ایجوکیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرنل (ر) عظیم الیاس نے بتایا کہ کیونکہ وہ سینٹ ڈینسز اسکول کی نئی بلڈنگ کے ڈیزائنر اور انجینئر ہیں، جب نومبر 2009 میں یہ پوری عمارت آگ سے جل کر خاک ہو گئی تھی تو اُنہوں اس پر کام کیا تھا۔ وہ اس ادارے کی تعمیر نو اور تجدید کے بھی رُوح رواں ہیں۔ یہ عمارت آگ لگنے سے تباہ ہو گئی تھی۔ اُنہوں نے تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے فنڈز اکٹھے کیے اور ان کا تعمیری انتظام مکمل کیا اور پچھلے 14 سالوں سے اس پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ ابتداء میں فنڈز کی کمی کے باعث اور مری میں موسم کی وجہ سے کام کی تکمیل کے لئے بے شمار مشکلات کا سامنا رہا، لیکن اُنہوں اس کام کے لئے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ وہ اکثر صبح لاہور سے مری جاتے اور رات میں واپس لاہور آتے تھے۔ کرنل عظیم الیاس نے بتایا کہ ان 14 سالوں میں ہمارے پاس کامیابی کی بے شمار کہانیاں موجود ہیں۔ سینٹ ڈینسز اسکول ان میں سب سے نمایاں ہے۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں کہ نہ صرف اس کی تعمیر بلکہ 14 طلباء کے ساتھ آگ لگنے کے بعد اسے شروع کرنا کسی چیلنج سے خالی نہ تھا۔ اب ہمارے پاس 450 طلباء ہیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اسے 2022 میں انٹرمیڈیٹ سطح کے کالج تک پہنچایا گیا۔ یہ سب کچھ صرف 12 سالوں میں مکمل ہوا ہے جو قابل ذکر کارنامہ ہے۔
سینٹ ڈنیسز کا بورڈنگ اسکول ملک میں اپنی قدیمی روایتی نظم و ضبط اور باوقار اُصولوں و نظام کی بدولت مشہور ہے۔ یہ بیرون ملک مقیم والدین اور اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات میں افسران، بالخصوص ایسے خاندان کی بچیوں کے لئے تعلیم و تربیت کے لئے بہترین جگہ ہے جو فیملی مسائل کا شکار ہیں۔ یہ لڑکیوں کے لیے ایک بورڈنگ اسکول ہے جس میں آرام دہ اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے کشادہ اور خوبصورتی سے مزین کمرے ہیں۔ لڑکیوں کو دودھ کے ساتھ لذیذ کھانا پیش کیا جاتا ہے جو بچوں کی نشوونما کے لیے بے حد ضروری ہے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار اساتذہ کے ذریعہ طلباء کی تعلیمی ترقی کے لیے شام کو خصوصی کوچنگ کلاسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ طلباء کو فارغ اوقات میں تفریحی سرگرمی کے ساتھ کھیلوں اور پڑھائی میں مشغول ہونے کے لیے کافی وقت دیا جاتا ہے، بورڈنگ اسٹاف کی طرف سے بچوں کو انفرادی توجہ دی جاتی ہے کیونکہ ان کی گرومنگ کے لیے طلباء کو کردار سازی کی اقدار سکھانے پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔
سینٹ ڈنیسز اسکول اس عزم کا اعادہ کیے ہوئے ہے کہ معیاری تعلیم کو فروغ دینے، اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانے کے لئے بڑے خلوص اور ہمدردی کے ساتھ ہم اپنے تمام ذرائع، صلاحیتوں اور توانائی کو وقف کر کے ملک کا ایک بہترین تعلیمی ادارہ بننے کا خواب رکھتے ہیں۔ پاکستان میں تربیت یافتہ، باشعور اور محب وطن شہریوں کے لیے، نسل، جنس، مذہب اور رنگ کی بنیاد پر بچوں کی تفریق کے بغیر ملک میں تعلیم کی روشنی کو آگے بڑھانا ہمارا مشن ہے۔
سینٹ ڈنیسز سکول کے مطابق طلباء اور والدین ہمارے لئے بہت اہم ہیں اور ہم بہترین معیار کی تعلیمی خدمات سرانجام دینے کے لئے ان کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ پیش آتے ہیں اور ہم اجتماعی ترقی کے لئے تمام ذرائع کو بروئے کار لاتے ہیں۔
مری کے دلکش مناظر والے ماحول میں لڑکیوں کے لیے بورڈنگ کی بہترین سہولت موجود ہے۔ لڑکیوں کی گرومنگ پر خصوصی اہمیت کی روایت سے مالا مال نصابی سرگرمی فطرت کے مطابق اعتماد پیدا کرنے اور بچوں کی تعلیم کے چھپے ٹیلنٹ کو نئے رجحانات اور طریقہ کار کے ساتھ پالش کرنے کے لیے عمدہ جگہ ہے۔ اسکول میں جدت سے مزین خوبصورت لائبریری، ماڈرن ٹیکنالوجی سے آراستہ کمپیوٹر لیب اور لیبارٹری، علاوہ ازیں سمارٹ کلاس رومز کا بلاک اس کی نمایاں پہچان ہے۔
سینٹ ڈنیسزا سکول نے اپنے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور بچوں کو عالمی سطح کا ایکسپوژر دلانے کے لیے 2017 سے برطانیہ میں چند بچوں اور اساتذہ کے لئے بھی خصوصی وزٹ کا بھی اہتمام کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد تعلیم و تربیتی پروگرام تھا جس کا مقصد بچوں کو عالمی سطح کے تعلیمی معیار سے روشناس کروانا تھا۔ سکول کی پرنسپل شازیہ جبران نے بتایا کہ اس قدیم سکول کو 2009 میں مکمل طور پر راکھ ہو جانے کے بعد دوبارہ سے شروع کرنا کسی چیلنج سے کم نہ تھا، لیکن مینجمنٹ اساتذہ اور سٹاف کی انتھک محنت، والدین اور بچوں کے بھرپور تعاون کی بدولت سکول نے دوبارہ اپنا ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ چند سال پہلے ہم نے اب گرلز کے لیے کالج کا بھی آغاز کیا ہے، جو اس خطے میں ایک منفرد اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلیمی ادارے کا مقصد صرف تعلیم دینا ہی نہیں بلکہ بچوں کو معاشرے کے قابل فخر شہری بنانا، ان کی قدرتی صلاحیتوں کو نکھارنا اور جدید مہارتوں اور علوم سے آشنا کروانا ہے۔
اپنے نظم و ضبط، اخلاص، ماحول اور جدید سسٹم سے آراستہ یہ تعلیمی ادارہ اپنی فضا سے ایسی پرسکون اور رُوح پرور مہک دیتا ہے کہ آپ کا دل و دماغ اور رُوح تر و تازہ ہو جاتی ہے۔ مجھے اس کیمپس کے احاطے میں علم کی راہداریوں پر چلتے ہوئے مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ اس مادر علمی نے بے شمار بچوں کے ذہنوں کو علم کی شمع سے روشن کیا کہ آج وہ اپنے علم اور تربیت کی بدولت دُنیا میں روشنی بن کر چمک رہے ہیں۔ اور اپنے تعلیمی ادارے، خاندان اور ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔

