انسان کبھی بھی اپنی تخلیق کردہ مصنوعی ذہانت کا غلام نہیں بنے گا


آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت کو دنیا میں وارد ہوئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سسٹم آتے ہی چھا گیا ہے۔ دنیا کے تمام بڑے کمپیوٹر پروگرامز بڑی تیزی کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی طاقت سے لیس ہوتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ مصنوعی ذہانت کو اختیار کیے بنا اب کوئی چارہ نہیں ہے۔

اس وقت دنیا کی بڑی طاقتوں امریکہ، یورپ، روس اور چین کی بھرپور کوشش ہے کہ جتنا زیادہ اور جلدی ہو سکے مصنوعی ذہانت کو اپنی طاقت بنا کر اپنے فائدے میں استعمال کریں۔اس سے دنیا کی بڑی طاقتوں میں ایک بالکل ہی نئی قسم کی وار فیئر شروع ہو جائے گی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اب جنگیں زیادہ ایڈوانس اور پیچیدہ ہوجائیں گی۔ کیونکہ جہاں ماضی میں ٹیکنالوجی انسانیت کی فلاح کے لئے کام میں لائی گئی وہاں باہمی جنگوں میں بھی اس کا بے دریغ استعمال ہوا۔ اب اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے اور اس کی تباہ کاریوں کے کیا نتائج نکلیں گے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔

دنیا کی چوٹی کے سارے نہیں تو کچھ سائنسدان مصنوعی ذہانت کو مستقبل میں انسانیت کے لیے خطرہ مانتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب خود انسان کی ایجاد کردہ مصنوعی ذہانت کی حامل مشینیں مزید ایڈوانس ہو کر انسان کو کنٹرول کرنے کا کام ہاتھ میں لے لیں گی۔ جبکہ کچھ سائنس دان بڑی خود اعتمادی کے ساتھ اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ جب انسان مصنوعی ذہانت کو تخلیق کر سکتے ہیں تو اس کو قابو میں رکھنے کا میکینزم بھی تشکیل دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا لوگوں کو گھبرانے اور پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایسے ماہرین صلاح دیتے ہیں کہ لوگ بے خوف ہو کر چیٹ جی پی ٹی کا کھل کر استعمال کریں۔ اس کے شاندار نئے اور اچھوتے فیچرز سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تحقیقات، تجزیات، تجربات اور تخلیقات کا دائرہ وسیع کریں اور اسے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے بروئے کار لائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال مصنوعی ذہانت کی ممکنہ تباہ کاریوں کو بلاوجہ شہ سرخیوں میں بیان کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اس بات پر فوکس کریں کہ اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

بلاشبہ یہ بہت بڑا سوال ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے کیسے مفید بنایا جا سکتا ہے۔ اور یہ کہ کیسے ہم سب مل کر اس بات کو طے کر سکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو مرتب کرتے ہوئے اسے ایسا شیپ کیا جائے کہ وہ انسانوں کی مددگار بنے نہ کہ ایسے حریف اور دشمن جو اپنے ہی خالق کے مقابلے پر آئے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسانیت کو مل کر مصنوعی ذہانت کی حدود اور قیود پر نظر رکھنا ہوگی اور اس سلسلہ میں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ لیکن بدقسمتی سے فی زمانہ اس بارے میں دنیا کے تمام ماہرین آپس میں متفق نہیں ہیں۔

ایلون مسک جیسے لوگ بے رحم اور بے لگام مشینی ذہانت کو انسانیت کے لیے ممکنہ خطرہ مانتے ہیں اور اس بارے میں کھل کر خبردار کرتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کچھ ماہرین ایسے ہیں۔ جو مصنوعی ذہانت پر قیود لاگو کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ وہ بڑی دلیری کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت اور روبوٹس انسانوں پر حاوی ہوتے ہیں۔ تو ایسا ہونے دیں۔ آپ کو کیا پریشانی ہے۔ ان کے بقول اگر انسانوں کی نسل ذہین روبوٹس کے مقابلے میں شکست کھا جاتی ہے۔ اور اس کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ تو ایسی کمزور نسل کو جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر جئیے۔ کیونکہ قانون فطرت بھی یہی ہے کہ کمزور مٹ جائے گا اور طاقتور بچ جائے گا۔ اس موقع پر مذکورہ سائنس دان اور ماہرین سروائیول آف فٹسٹ کا فطری قانون لاگو کرتے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب کے انسان دوست ماہرین اسی اصول سے اختلاف کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ ہم انسان ہیں اس لیے ہم پر فرض ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی بقا کے لیے جدوجہد کریں اور اسی کرہ ارض پر ایک حاکم نسل کے طور پر جئیں۔ ہم نے اسی دھرتی پر لاکھوں سال اپنی بقا کی بے مثال جنگ لڑی ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی تخلیق کردہ مشینوں کے مقابلے میں شکست کھا جائیں اور ان کے غلام بن جائیں۔ ان کا اصرار ہے کہ ہم کبھی بھی اپنی تخلیق کردہ مشینوں کے غلام نہیں بنیں گے۔

Facebook Comments HS