خیبر پختونخوا: تہذیبوں، ثقافتوں کا مسکن اور امین


صوبہ خیبر پختونخوا ہزاروں سال سے خوشحال اور ترقی یافتہ تہذیبوں اور ثقافتوں کا پیارا پر امن مسکن رہا ہے جو مختلف ادوار میں جداگانہ آن اور شان کا حامل رہا ہے۔ بدھ مت اور گندھارا تہذیبوں کے شاندار ماضی اور تاریخ کے ساتھ ساتھ دفاعی اور قدرتی وسائل کی وجہ سے یہاں پر کئی حملہ آوار جیسے ایرانی، عرب، یونانی، پرتگالی، انگریزوں نے در اندازی کی۔ اور پھر یہاں پر ہی بود و باش کی وجہ سے انہوں نے اپنی اپنی تہذیبوں اور ثقافتوں کے بڑے بڑے آثار چھوڑے ہوئے ہیں جو آج بھی تاریخی ورثہ کے طور پر موجود ہیں۔

قلعہ بالا حصار، شبقدر قلعہ، چکدرہ قلعہ اور چرچل پیکٹ، جمال گڑھی، شہباز گڑھی اور تخت بائی کے علاوہ بہت سی جگہوں میں اشوکا کے کھنڈرات، بدھ مت کی عبادت گاہیں، رانی گٹ، پشاور کے دروازے، باغات وغیرہ کے علاوہ یہاں کے طول و عرض میں جا بجا کسی نہ کسی تہذیب کے آثار بطور تاریخی اور ثقافتی ورثہ موجود ہیں۔ جو یہاں کے شاندار اور درخشاں ماضی کی داستانیں زبان حال سے بیان کر رہے ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ صوبہ بھر میں مختلف اور بہت سی جگہوں پر آثار قدیمہ، عجائب گھر اور مختلف آثار بھی یہاں کے خزانوں کے بیش بہا اثاثے ہیں جو پہلے ہی سے موجود ہیں اور آئے روز نئے نئے دریافت ہو رہے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں مختلف مذہبی تہواروں کے علاوہ یہاں کی ثقافتی سرگرمیوں جیسے خٹک ڈانس، اتنڑ (ڈانس کی ایک قسم) نیزہ بازی، موخہ (تیر اندازی کا کھیل) کبڈی کے علاوہ کچھ ایسے تہوار بھی منائے جاتے ہیں جو ماضی کے قدیم، مشہور، عوامی تہواروں کا تسلسل ہیں۔ جیسے نوروز کا تہوار، غیر مسلموں کے مختلف مذہبی اور ثقافتی تہوار، ضلع چترال کے کافرستان کے کافر لوگوں کے سال بھر کے مختلف تہوار، پولو اور بزکشی کے کھیل اور اس طرح کے دیگر کئی تہوار اور ثقافتی سرگرمیاں۔

قدیم تاریخ کی یادگاریں، بے شمار آثار قدیمہ، عجائب گھر قدیم تہوار اور کھیلوں کے علاوہ دیگر بے شمار سرگرمیوں کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخوا اپنے قدرتی اور فطری حسن اور موسموں کی وجہ سے بھی دنیا بھر کی نظروں میں ہے اور ہر سال اندرون ملک اور بیرون ملکوں سے لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے رہتے ہیں۔ یہی سیاح صوبے، ملک اور مقامی معیشت پر بہت مثبت اثرات ڈالتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہاں کی شہرت اور تشہیر کا باعث بن کے مزید سیاحوں کو متوجہ کرتے ہیں۔

دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی ہمارے ہاں کی طرح بہت سے آثار قدیمہ اور مختلف نادر اشیاء موجود ہیں جیسے دیوار چین، ایفل ٹاور، اہرام مصر وغیرہ جو وہاں کے ممالک کے بہترین اور بڑے سیاحتی مراکز بھی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں بہت سے ممالک ہیں جنہوں نے قدیم اثار، اپنی فطری خوبصورتی اور دیگر ذرائع کر باقاعدہ ترقی دے دیا ہے۔ اور اسی طرح سیاحت کو باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ دیا ہوا ہے جو ان کی وجہ شہرت تو ہیں ہی ان سے وہ خوب کماتے بھی ہیں۔

خیبر پختو نخوا بھی جیسا کہ ذکر کیا گیا لا تعداد تہذیبوں اور ثقافتوں کا مسکن اور ایسے خزانوں کا امین ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ان بیش بہاء خزانوں اور اثاثوں کو آئے روز خطروں کا سامنا ہے۔ جس میں شہری آبادیوں کا بے تحاشا بڑھنا، موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیاں، سیلاب، زلزلے، قدرتی آفات، دہشت گردی۔ عدم توجہ اور مناسب دیکھ بھال کا فقداں وغیرہ سر فہرست ہیں۔

ایسے حالات میں حکومت ہر یہ ذمہ داری آن پڑتی ہے۔ کہ وہ اس جانب بھر پور توجہ دے۔ تمام آثار قدیمہ اور تاریخی جگہوں اور نشانیوں کی فوراً مطلوبہ اور مناسب مرمت کرے۔ تزین و آرائش کرے، اس کے تحفظ اور حفاظتص اور ثقافتوں کا تحفظ لازمی طور پر ممکن ہو۔ اس سے یہ قیمتی خزانے محفوظ رہیں گے اور سیاحت کو بھی ترقی ملے گی۔ جو ملک، صوبے اور مقامی معیشت ہر مثبت اثرات ڈالے گی۔

Facebook Comments HS