ناسمجھی کا خوف


سکول کے بالکل سامنے ہی قبرستان کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا جو کچے رستے کے ساتھ ہی متصل تھا۔ نئی بننے والی پختہ قبر نے خوف کی کیفیت پیدا کر رکھی تھی۔ جیسے ہی کوئی موٹر سائیکل اس کے پاس سے گزرتی تو اچانک مگر مختصر ترین وقت کے لئے ایک واضح اور تیز آواز سنائی دیتی تھی۔ جب بائیک سے اتر کر یا واپس موڑ کر اسی جگہ پر آتے، غور کرتے، کان لگاتے تو آواز غائب ہوتی۔ کوئی اس بارے بولتا نہیں تھا لیکن جن کو علم تھا ان کے چہرے وہاں سے گزرتے ہوئے خوف سے سفید ہو جاتے تھے۔ ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کہہ نہیں پاتا تھا۔ بات بڑھتی بڑھتی سکول کے زیادہ تر بچوں میں پھیل گئی۔ دبے دبے لفظوں میں سب اس آواز کو مردے کو ہونے والے قبر کے عذاب سے تعبیر کرنے لگے۔

خوف زیادہ پھیلا تو ہم اس راستے سے کترا کر اور قبرستان کے اندر والے راستے سے ہو کر گزرنا شروع ہو گئے۔ اگر کبھی گزرنا پڑتا بھی تو استغفار اور درود شریف کا ورد اتنی بلند آواز میں کرتے کہ وہ آواز اس میں دب جائے مگر وہ آواز نہیں دبتی تھی۔ وہ لا شعور سے ہی سنائی دے جاتی تھی۔ آخر کسی طرح ایک روز یہ معاملہ ہمارے ایک استاد کے گوش گزار ہوا۔ پہلے تو وہ بھی پریشان ہوئے مگر ایک دو روز میں اُنہوں نے متعدد بار گزرتے ہوئے مشاہدہ کیا اور پھر ہمیں سمجھایا کہ بیٹا یہ عذاب والا معاملہ نہیں بلکہ آپ کے موٹر سائیکل کی آواز کی ریفلیکشن ہے جو کافی کم فاصلہ ہونے اور قبر کی پختگی کی وجہ سے فوری واپس لوٹ کر سنائی دیتی ہے۔ یوں جا کے اس وضاحت کے بعد یہ معاملہ نارملائز ہوا اور ہمیں اور مردے دونوں کو عذاب سے نجات ملی۔ اب بھی البتہ وہاں سے اکیلے گزرتے ہوئے اس وقت کی یاد ضرور آتی ہے۔

انسانی فطرت ہے کہ جو مظاہر وہ خود نہیں سمجھ سکتا اس کو وہ مافوق الفطرت سمجھ کر ایک نامعلوم خوف کے تابع ہو جاتا ہے اور اس کی توجیہہ وہ مذہب یا معاشرتی تعبیر میں ڈھونڈ لیتا ہے۔ پھر جوں جوں عمر، تجربہ یا علم کی ترقی و تحقیق اس کے سوال کا جواب دیتی ہے تو وہ ان مظاہر کی حقیقت کو سمجھ کر خوف سے نجات پا لیتا ہے۔ انسان کی اس کمزوری سے توہمات پھیلانے والوں نے خوب فائدہ اٹھایا ہے اور مختلف جگہوں کو آسیب زدہ قرار دے کر اور مختلف بیماریوں اور مظاہر کو بزرگوں کی بد دعاؤں سے تعبیر کر کے خوب نذرانے، چڑھاوے اور دنیاوی فوائد سمیٹے ہیں۔

دیہاتی علاقوں میں آج بھی بہت سے قصے، کہانیاں، کرامتیں ایسی مشہور ہیں جن کو سن کر باشعور لوگوں کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے جبکہ مرعوب ہو کر سادہ لوح دیہاتیوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو ان واقعات پر یقین نہیں رکھتے مگر انکار کرنے کا سوچ کر وہ بھی نادیدہ قوتوں کی ناراضی کے خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی بہرحال چہار سو آئی ہے کہ سادہ لوح لوگ اب سیلاب سے بچاؤ کے لئے ”خضر خواج“ کے نام کی نیاز دریا میں نہیں پھینکتے اور نہ ہی بارشوں سے بچاؤ کے لئے درباروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ وہ اب ٹچ موبائل والوں سے سیلاب، موسم اور بارش کا پیشگی احوال پوچھتے نظر آتے ہیں تاکہ اپنی حفاظت یقینی بنا سکیں۔

Facebook Comments HS