عوام ہمارے فطری اتحادی ہیں


پاکستان اور امریکہ کے تعلقات روز اول سے سودے بازی (Transactional) پر استوار رہے ہیں۔ خطے میں عالمی اہداف اور ہمارے عدم تحفظ کے دائمی احساس نے ہی دونوں ملکوں کو اکثر اتحادی بننے پر مجبور کیا۔ عشروں پر محیط گرم سرد پاک امریکہ تعلقات اکیسویں صدی میں داخل ہوئے تو سال 1999 ء میں بھارت امریکہ فطری اتحاد کی بنیاد بالآخر رکھی جا چکی تھی۔ چین اس اتحاد کا مشترکہ ہدف تھا۔ پاکستان کو امریکی اب ’پاک بھارت‘ نہیں بلکہ ’ایفپاک‘ تعلقات کے تناظر میں دیکھ رہے تھے۔

پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی کا یہی وہ دَور تھا کہ جب پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لانے کے لئے پاکستانی عوام سے ’براہِ راست‘ روابط پیدا کرنے کے نام پر ایک بے چہرہ اور غیر روایتی جنگ کا آغاز کیا گیا۔ راتوں رات سول سوسائٹی وجود میں آ گئی۔ انسانی حقوق کی نت نئی تنظیمیں کام کرنے لگیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے ’میڈیا سٹارز‘ نے ہیجان برپا کر دیا۔ ’ڈومور‘ ، ’ڈو مور‘ کا راگ بلند تر ہوتا چلا گیا۔

افغانستان سے حتمی پسپائی کے بعد امریکہ اب بظاہر ہم سے کچھ نہیں چاہتا۔ امریکہ چین کے خلاف کسی اتحاد میں ہماری شمولیت کا خواہشمند بھی نہیں ہے۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ ہم چین سے تعلقات منقطع کر لیں۔ اس کے برعکس امریکہ کی تمام تر توجہ بھارت کو خطے میں چین کے مقابلے میں مضبوط کیے جانے پر مرکوز ہے۔ ہم سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ ہم بھارت کو اِدھر اُدھر کے معاملات میں نہ الجھائیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم خطے کے اندر spoiler کا کردار ادا نہ کریں۔

چنانچہ اسی تناظر میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی ”غیر مشروط بحالی“ ہی خطے میں امریکی ہدف ہے۔ امریکہ کا دوسرا دردِ سر ہمارا ایٹمی پروگرام ہے۔ تاہم اس سے بڑھ کر جو امر اس کے لئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں وہ امریکہ مخالف سمجھے جانے والے شدت پسندوں کا اسلام آباد میں برسرِاقتدار اور ایٹمی ہتھیاروں کا ان کے کنٹرول میں آنا ہے۔ چنانچہ مذہبی جماعتوں کے شدت پسند عناصر ہوں یا ’طالبان خان‘ کہلائے جانے والے عمران خان، خطے میں امریکی پالیسیوں کے مخالف سمجھے جانے والوں کا ہمارے ہاں برسرِاقتدار آنا امریکی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک کبھی بھی نیک شگون نہیں رہا۔

بے نظیر بھٹو ابتداء میں امریکی شرائط قبول کرنے کے بعد ہی اقتدار میں آئی تھیں۔ تاہم اس دور میں اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر انہیں سیکیورٹی رسک قرار دینے والوں میں نواز شریف ہی پیش پیش رہے۔ اپنے دوسرے دورِ اقتدار میں مگر یہی نواز شریف خود صدر کلنٹن سمیت بھارتی رہنماؤں سے ذاتی تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ سال 1998 ء میں انہوں نے مبینہ طور پر امریکیوں کی ایماء پر افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی پالیسی کی تشکیل نو کا درست مگر زیرِزمین فیصلہ کیا۔

ادارہ جاتی فورمز کی بجائے حساس قومی معاملات کو جب ذاتی اور خاندانی مراسم میں ڈھالنے کی کوششوں کا تاثر ابھرا تو بدگمانیوں کا جنم لینا فطری تھا۔ مشرف کے مارشل لاء کے بعد میاں صاحب واپس لوٹے تو ایک ناراض شخص تھے۔ زرداری دور میں اگرچہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کیا، تاہم اسی دور میں ہی انہوں نے ’سیفما‘ جیسی بھارت نواز تنظیموں کی تقریبات میں خطابات کے ذریعے اپنے ’امیج بلڈنگ‘ اور ’نظریات کے پرچار‘ کا آغاز کیا۔

اسی دور میں ان سے وہ بیان بھی منسوب ہوا کہ جس میں کشمیریوں کو پاکستانی فوج کے ہاتھوں پہنچنے والے نقصان کا تذکرہ ہے۔ نتیجے میں ملک کے اندر اور باہر مخصوص گروہوں نے تمام تر اُمیدیں میاں صاحب سے وابستہ کر لیں۔ اپنے تیسرے دورِ اقتدار کا آغاز انہوں نے جارحانہ انداز سے کیا تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی جواب دھرنے، مقدمات اور ان کے نتیجے میں نا اہلیوں سے دیا۔ یہی وہ دور تھا جب ہماری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف غیر روایتی مگر کثیر الجہتی جنگ زوروں پر تھی۔

چنانچہ اسے اتفاق کہا جائے یا حالات کا جبر، میاں صاحب کا بیانیہ اور مغربی اسٹیبلشمنٹ اور اس کی پروردہ ہمارے ہاں ’لبرلز‘ کہلائے جانے والی طاقتور لابی کے اہداف ہم آہنگ ہو گئے۔ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے بعد میاں صاحب لندن روانہ ہوئے تو عام تاثر یہی ہے کہ وہاں بھی ان کی اسی تناظر میں اہم ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ کٹھ پتلی افغان حکومت کے نمائندے ہوں یا اسی قبیل کے دیگر افراد، اکثر لندن فلیٹوں کے آس پاس دیکھے جانے لگے۔

دوسری طرف عمران خان کا ہائبرڈ رجیم متعدد عوامل کی بناء پر غیر مقبول اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کھو چکا تھا۔ افغانستان سے امریکیوں کی خفت آمیز پسپائی کے بعد صورتحال مگر راتوں رات بدل گئی۔ وزیر اعظم پاکستان کے چند غیر محتاط بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ان کے دورہ روس کو اونٹ کی کمر پر آخری تنکا قرار دیا جا سکتا ہے۔ عمران حکومت کو گرانے کا حتمی فیصلہ ہو گیا۔ ان حالات میں سوچا گیا، اور درست سوچا گیا کہ عمران خان کی جگہ لینے کے لئے نواز شریف سے بہتر انتخاب اور کیا ہو سکتا تھا؟

اب تو سب جانتے ہیں کہ اندازے کی ایک بہت بڑی غلطی ہوئی تھی۔ بدقسمتی سے مگر اندازے کی غلطیوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔ ملکی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا، یا محض پسِ پردہ کردار ادا کیا گیا، ہر دو صورتوں میں ان اقدامات کو عوام کی بھاری حمایت حاصل رہی۔ تاہم اس بار معاملات یکسر مختلف ہیں۔ بدگمانی عروج پر ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ بظاہر بقاء کا قدیم قبائلی جذبہ ہی اکثر فیصلوں کے پسِ پشت کار فرما ہے۔

نتیجے میں ملک کو درپیش سلامتی اور معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے کیے جانے والے بظاہر صائب فیصلوں کو بھی عوامی مزاحمت کا سامنا ہے۔ کیا یہ معمول کی بات ہے کہ پختونخوا میں لوگ اپنے جان و مال کی حفاظت کے لئے کسی اور کو نہیں، صوبے کی پولیس کو ذمہ داری دیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ کیا عوامی جذبات کو ناپنے کا ہمارے ہاں کوئی اور آلہ بھی دستیاب ہے؟ عوامی نبض کو بھانپتے ہوئے ہی میاں صاحب بھی اسی انتظار میں ہیں کہ اُن کی بقاء کے درپے سیاسی جماعت کا جلد از جلد قلع قمع کیا جائے تو ہی وہ ایک بار پھر ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ بلند کریں۔

دوسری طرف پاکستان کے مغرب زدہ لبرلز وقتی طور پر دیگر معاملات سے نظریں چرائے، موجودہ حکومتی بندوبست کے فیصلوں کی بوجہ حمایت کر رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کی بیخ کنی ہمارے لئے قومی بقاء کا معاملہ ہے۔ عوامی تائید کے بل بوتے پر پاک افواج نے ماضی میں کئی آپریشن کیے اور لازوال قربانیوں کے بدلے شاندار کامیابیاں سمیٹیں۔ سوال مگر پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بھی قومی مساعی کہ جو عوامی حمایت سے محروم ہو، کیا محض مٹھی بھر مغرب زدہ لبرلز کی تائید سے ثمر آور ہو سکتی ہے؟ اندازہ یہی ہے کہ امریکہ میں سوچ اور صورتحال بدل رہی ہے۔ قوموں کے مفادات مگر مستقل ہوتے ہیں۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ کل یہی مفاد پرستوں کے غول در غول ہوں گے جو ضرورت پڑنے پر ایک بار پھر جمہوریت، سویلین بالا دستی اور انسانی حقوق کا راگ بھونڈے کورس میں الاپنے کو ہمہ وقت دستیاب ہوں گے۔

Facebook Comments HS