لندن تا برمنگھم (آخری قسط) میرا وطن وہی ہے
عین اِس وقت لندن میں چوبیس اپریل دو ہزار چوبیس کی ’صبح کاذب‘ روبہ زوال ہے۔ سورج عالی مقام نے آف وائٹ بادل کا دبیز غلاف چہرے پر چڑھا دیا ہے، لیکن یہ برسنے والے بادل نہیں، تاہم ارض و سماء کے بیچ خطِ تنسیخ کھینچنے والے بادل ضرور ہیں۔ ٹھنڈی اور یخ بستہ ہواؤں کو مادر پدر آزادی ہے جو گستاخانہ حد تک ناک اور کانوں کا قبلہ مروڑتی ہیں۔ ایسے موسم میں یہاں کی جنتا من حیث القوم خاموشی کی خمار میں ڈوب جاتی ہے۔ ’شیزے‘ اور دوشیزے برہنگی کے طالب اعضاء کو کوٹ، اُوورکوٹ، جیکٹ، جرسی، مفلر اور دستانوں میں ’بندیوان‘ کر لیتے ہیں تو حسن کے پجاری بے رحم بادلوں کو کوستے ہوئے باپردہ حسینوں سے علامہ اقبال کی زبان میں شکوؤں کے انبار لگا دیتے ہیں۔
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر
عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے بھی آشکار کر
خیر یہ تو گوروں کے ناز و نخروں اور مزوں کی باتیں ہیں، اپنا تو حال یہ ہے کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں ’دوشیزوں‘ کے سِوا۔ پہلا غم تو یہ ہے کہ وطن کی طرف اُڑان بھرنے کا ارادہ ہے، بادلِ نا خواستہ۔ عنایت خان اور احمد شاہ باچا نے کل فجر کی پؤ پھوٹنے سے قبل ہمیں ہیتھرو ائرپورٹ پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ کوئی دو سوا دو ہفتے، ’نائیکوں‘ کے دیس میں رت جگوں کی محفلوں میں گزرے۔ ’سر آنکھوں پر‘ رکھے یار دوستوں کے بیچ گزرے۔
دِن ایسے دوڑ دوڑ کر گزرے کہ برمنگھم والوں سے پوری کیا آدھی بھی نہیں، ایک چوتھائی ملاقات ہوئی، بھاری دل کے ساتھ اُن سے رخصت لی۔ مغموم چہروں پر ٹپکتے آنسوؤں میں ’جیسے یہ آنسو نہیں دُکھ، درد اور دوری کی کیفیات ہوں۔ یہاں کی کافی باتیں یاد رکھنے کی ہیں جن میں کچھ قابلِ بیان ہیں اور کچھ ناقابلِ بیان۔ جیسے شوہر کی نسبت سے‘ سرتاج ’کا نام ضرور سُنا تھا، لیکن بیگم کی نسبت سے‘ سرتاجہ ’نام اور اِس کی تشریحات کا مظاہرہ‘ کاشانۂ یوسفزئی ’میں عملی طور پر دیکھا جس کو ظاہر ہے الفاظ کے جامہ میں سمونے کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ خارجی نہیں داخلی معاملہ ہے۔
’ یوسفزئی کا باورچی خانہ‘ میں سامان رکھنے کی ہیئت ترکیبی کا گہرائی سے مطالعہ کیا، ’برقی مدھانی‘ ، ’لکڑی کی ڈوئی‘ اور ’ماہی تابہ‘ جیسے نت نئے نام بدیس میں دیسی بندے کی زبان سے سننے کو ملے۔ جن کے متعلق یوسفزئی کا فرمانا تھا کہ ”برقی مدھانی لسّی بنانے کے لئے ہوتی ہے اور ماہی تابہ توا یا فرائینگ فین کو کہتے ہیں۔“ اُن کا مزید فرمانا ہے کہ جب ’ماہیِ تابہ‘ جیسے سوہنی، ڈوئی جیسی شرمیلی اور مدھانی جیسی مدھر زنانہ نام زبانِ زدِ عام ہو، تو ’توا‘ جیسا بد ذوق یا فرائینگ فین جیسا بے ذوق نام بولنے کا ارتکاب کیوں کرے، آدمی؟ ایڈووکیسی ہو تو ایسی ہو ورنہ، نہ ہو۔
ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ کچھ دیر تنہائی میں دل کی باتیں بھی ہوئیں، جس کے بارے میں بات کسی اور وقت کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں۔ تاہم، ہم نے دیکھا کہ اب وہ، وہ سوات والے عاشق مزاج نہیں رہے۔ ہاں کوئی حسینہ، اپنے دِل کو توانا بنانے کے لئے ازخود دل کے دھڑکنوں میں اُن کو بسانا چاہے تو اِس کے لئے وہ بڑی دریا دلی کے ساتھ دل کے دریچے وا رکھتے ہیں۔ وہ بہ ہرحال دلوں کو جوڑنے والے انسان ہیں، دلوں کو توڑنے والے نہیں۔
عطاءالحق قاسمی نے پردیس میں رہنے والے ایک دوست سے سوال پوچھا تھا، کچھ رد و بدل کے ساتھ وہی سوال ہم نے یوسفزئی سے کیا، ”آپ پختون وطن کی خدمت کے لئے پیدا ہوئے ہیں، یہاں کیا کر رہے ہیں؟ بستر باندھ اور وطن چل، دہ زرو قدر دہ زرگر سرہ وی (قدرِ زر، زرگر مے شناسد، جوہری جواہرات کی قدر جانتا ہے ) اس سوال پر وہ ہڑ بڑائے، کچھ توقف کیا، دائیں بائیں دیکھا، میز پر پڑے مشکیزے سے پانی پیا، گلا کھنکارا، زبان پر لُکنت کا خول چڑھا کر ارشاد فرمایا۔“ مم میرا خیال ہے، کہ فی الوقت یہاں سے بب بہتر انداز میں اپنی بساط کے مطابق وطن کی خدمت کر سکتا ہوں۔ واپسی کا وقت بھی ’جج جلد‘ آئے گا کہ فیض احمد فیض کی طرح میں بھی نا اُمید نہیں۔ ”
ہم کہ ہیں کب سے در ِاُمید کے دریوزہ گر
یہ گھڑی گزری تو پھر دستِ طلب پھیلائیں گے
کوچہ و بازار سے پھر چن کے ریزہ ریزہ خواب
ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے
یوسفزئی کو معاف کر کے مزید قابلِ بیان واقعات کا ذکر ہو جائے۔ رات گئے ایک ریسٹورنٹ سے گھر واپس جاتے ہوئے راستے میں بازاروں کی رنگینیاں دیکھنے ٹیکسی سے اُترے۔ مشرِ برمنگھم کے ساتھ۔ اصل بات رنگینیوں کی نہیں، یہ کرنے کی ہے کہ ٹیکسی سے اُترنے کے کافی دیر بعد پتہ چلا، ایک ساتھی کا موبائل غائب ہے۔ خیر، ٹیکسی ڈرائیور سے رابطہ ہوا۔ ابھی ہم ’بازارِ حسن‘ میں چھوکریوں کی دھماچوکڑی پر ماہرانہ تبصرے کرتے ہوئے مٹر گشت کر رہے تھے کہ موبائل گھر کے ایڈریس پر پہنچنے کی اطلاع ملی۔
یہ تو چھوڑئیے، پتہ ہے دوسری دفعہ کیا ہوا؟ دوسری دفعہ برمنگھم سے لندن آتے ہوئے اُسی ساتھی کا بٹوا گُم ہو گیا جس میں کوئی پانچ سو پاؤنڈز اور ڈھائی ہزار یو ایس ڈالر یعنی لگ بھگ دس لاکھ روپے کا خطیر خزانہ اور دیگر ضروری کاغذات تھے۔ ہم سب سخت ٹینشن کے عالم میں تھے کیوں کہ اُس ساتھی نے تو اگلے دن امریکہ جانے کے لئے پَر تولنے تھے۔ پانچ بندے موبائل پر لگے مختلف سورسز سے رابطے میں تھے۔ آخرکار دو گھنٹے کے اندر پتہ چلا کہ پرس ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ محفوظ پڑا ہے جس کو پوری دیانت داری کے ساتھ ہمیں پہنچا دیا گیا۔ ایسے واقعات روز رونما ہوتے ہیں اور زیادہ تر بڑی امانت داری اور خاموشی کے ساتھ ’حق بہ حق دار رسید‘ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے کسی پلیٹ فارم پر امانت داری اور ایمان داری ثابت کرنے کے شوشے چھوڑنے کا رواج نہیں ہے یہاں، پاکستان کی طرح۔
وطن واپس جاتے ہوئے ہمیں یہ غم بھی کھائے جا رہا ہے کہ اُس کلین شیوڈ دیسی گورے سے نہ مل سکے جو یوں تو 2001 ء سے یو کے میں رہائش پذیر تھے لیکن 2006 ء میں اس نیت سے اپنی جنم بھومی سوات واپس آئے تھے کہ وہ دوبارہ یو کے قدم رنجہ نہیں فرمائیں گے لیکن سوات میں مسلسل پانچ سال رہتے ہوئے سوات شورش کے دوران اپنی ذمہ داریاں نباہنے کے بعد 2011 ء میں دوبارہ یو کے سدھارے۔ پھر وہاں سے ان کی واپسی ہوئی تو ایک طویل وقفے کے بعد کوئی پانچ سال پہلے خاموشی کے ساتھ اپنی جنم بھومی، سوات کو دوبارہ سوگوار چھوڑ کر بال بچوں سمیت مانچسٹر منتقل ہوئے، سیٹل ہوئے اور یہاں کی بھول بھلیوں میں یوں گُم ہوئے کہ وطن واپس جانے کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔ جارحانہ ارادہ تھا ہمارا کہ مانچسٹر جا کر اِس بندے کو ملنے کے دوران ہی میں مضبوطی سے پکڑیں گے، دبوچیں گے، اغوا کریں گے اور مسنگ پرسن کی کیٹیگری میں ٹھونس لیں گے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
ہم نے دو ہزار دس میں جنگ زدہ افغانستان جانے کا پنگا لیا، ایک زرعی ٹریننگ پروگرام کے لئے، سفر خطرناک تھا، اِس بندہ بشر کو بتانے مینگورہ شہر میں واقع اُن کے کتابستان پہنچے، تو بہ جائے اِس کے کہ ہمیں کابل جانے کے سفر کا رِسک لینے سے سختی سے روکتے، انھوں نے کوئی آؤ دیکھا نہ تاؤ، فوری طور پر ایک کتاب، ایک قلم اور ایک ڈائری ہمیں تھمائی اور کہا لکھ، جہاں جاؤ جو دیکھو جو سنو، جو سیکھو، لکھ اور مجھے بھیج۔
تب سے لکھنے پڑھنے کا جو پنگا لیا تھا وہ ابھی تک جاری ہے۔ لکھ پڑھ کے اِس پنگے میں ہمیں مبتلا کرنے والا یہی شخص ہے، انھوں نے اپنے مروجہ نام فضل ربی خان کو راہی کے خول میں بند کر رکھا ہے اور ایک عرصے سے مانچسٹر کی گلیات میں گلچھرے اُڑا رہے ہیں۔ مشتری ہوشیار باش، یہ لوگوں کو ایسے ہی سبز باغ میں مبتلا کر کے خود نس جاتے ہیں، روز کا معمول ہے اُن کا۔ اِنھوں نے ہمیں برطانیہ بلانے کے لئے سرتوڑ کوششیں اِس لئے کیں، کہ شاید اس سے اُن کردہ و ناکردہ گناہوں کی معافی تلافی ممکن ہو سکے لیکن ہم اُن کو معاف کرنے والے نہیں۔
ہے تو بے شک اپنے استاد محترم، نشرو اشاعت کے شعبہ سے بھی منسلک ہیں، لکھتے ہیں تو لگی لپٹی رکھے بغیر لکھتے ہیں۔ بولتے ہیں تو تولتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری نگارشات کی نوک پلک سنوار نے کی مشقت بھی کرتے رہتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اُستاد کے عُیوب شُیوب پر پردہ بھی ڈالا جائے، وہ بھی بلا شرط۔ اس وقت میر جی سے استفادہ ہو جائے۔
شرط سلیقہ ہے ہر اِک اَمر میں
عیب بھی کرنے کو ہُنر چاہیے
یہ سُنو جی، لندن کے ایک پرائمری اسکول کے چھ سالہ بچے کے ایک پستول نما کھلونے کے ساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے۔ اسکول انتظامیہ، لوکل کونسل اور پولیس والے آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔ اجلاس ہوتے ہیں، انکوائری کی شروعات ہوتی ہیں، درجنوں سوالات و شکوک و شبہات اور ممکنات پر سوچا جاتا ہے۔ بچے کے ساتھ یہ کھلونا کب، کیسے اور کیوں کر پہنچا۔ والدین کو شامل تفتیش کیا جاتا ہے، وکلاء انگیج ہوتے ہیں، صلاح و مشورے ہوتے ہیں، شاید معاملہ عدالت بھی پہنچ گیا ہو گا، اب تک۔
اس کھیل کھلواڑ کا بعد میں کیا ہوا، یہ معلوم نہیں ہو سکا، لیکن ہم سوچ رہے تھے، اس نظام کا، جس کے پیچھے بیدار مغز اور ذمہ دار لوگ بیٹھے ہیں۔ جہاں جواب دہی کا ایک موثر نظام کام کر رہا ہے۔ جہاں اِداروں کے لئے مخصوص پیرامیٹرز ہیں، جہاں ایک ادارہ دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتا۔ جہاں کرپشن کے راستے نہیں ڈھونڈے جاتے بلکہ انصاف کی فوری اور آسان فراہمی کے راستے تلاشے جاتے ہیں۔ دوسری طرف، آفرین ہے ہمارے اسکولوں کے نظام پر، ان کے انتظامی نگرانوں اور اساتذہ پر، جہاں چند سال پہلے ہونے والی بہت بڑی تباہی و بربادی کے باوجود آج بھی زیادہ تر سرکاری اسکولوں میں بچوں کو دھڑلے سے وہی ’ب‘ بندوق، ’پ‘ پستول، ’ج‘ جہاد اور ’ک‘ کافر والا سبق نومولودوں کی طرح ان کے دماغوں میں ٹھونسا جاتا ہے تاکہ مستقبل کا پاکستان کھپے۔
ڈرل اور ڈراموں وغیرہ کے دوران میں سینہ زوری کے ساتھ مصنوعی بندوقوں کے ذریعے بچوں کو مختلف داؤ پیچ بھی سکھائے جاتے ہیں۔ یہاں ادارے اداروں کے ساتھ لڑ رہے ہیں، سیاست دان آپس میں دست و گریباں ہیں اور عوام آپس میں برسرِ پیکار ہیں۔ توبہ توبہ تھوڑا سا سوچیں فرق کے اس لیول پر ان کے اور ہمارے مابین۔ میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے۔
یہاں گوروں کے دیس میں معذوروں اور ضعیفوں کے وارے نیارے ہیں۔ سوشل سیکیورٹی نظام میں ان کو اولیت دی جاتی ہے۔ اُن کی شکایات کی شنوائی ہوتی ہے۔ انتظار اور قطار کی جھنجھٹ سے بے فکر ہیں، وہ۔ کار پارکنگ کی جگہ کا مسئلہ نہیں اور پیسوں کی ادائیگی کی قید نہیں۔ روڈ کراس کرنا ہو، خریداری کرنی ہو، بس، ٹرین وغیرہ کا سفر درپیش ہو، ہر جگہ ان کا سکہ چلتا ہے۔ کسی معذور نے مدد کے لئے منہ کھولا نہیں اور ذمہ دار شہری اُس کی مدد کے لئے پہنچے نہیں۔ یہاں کے قانون ساز اداروں سے ہمارا چبھتا ہوا سوال ہے کہ اس ملک میں اگر سیاسی پناہ کی گنجائش ہے تو آخر ضعیفانہ پناہ کی کیوں نہیں؟ تاکہ ہم اس کیٹیگری میں اپنے نام کا اندراج کر کے فوری طور پر یہاں سے روپوش ہو کر وہاں خانہ بدوش بن جائیں، بھاڑ میں جائیں اپنے لوگ۔
ہم نے دیکھا کہ کئی جگہوں میں لوگ عام نلکے کا پانی بھی دھڑلے سے پیتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ کچن میں استعمال ہونے والا پانی بھی لوگ پیتے ہیں کیوں کہ وہ صاف ہوتا ہے۔ دیکھیں نا، ہمیں منرل واٹر کی طرف دوڑا دیا اور خود چشموں کی دنیا میں واپس چلے گئے۔ گوروں نے موسم بھی اپنے کنٹرول میں رکھا ہے۔ گھر، گاڑی، دفتر، مارکیٹ اور عمارات کے اندر کا ٹمپریچر من مرضی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے جب کہ ہم پاکستان میں موسموں کی شدتوں کے نرغے میں ’گرمی ہے، سردی ہے، سردی ہے، گرمی ہے‘ کے گردان میں مصروف رہتے ہیں۔
ایک اور بات، جس طرح ہمارے ملک میں چلتے پھرتے بندے غائب ہوتے ہیں اور اکثر شمالی علاقہ جات کی سیر کرتے پکڑے جاتے ہیں، یہاں بھی یہ چکر چلتے ہیں لیکن گاڑیوں کے اغواء کے۔ جن کو چوری کے بعد بڑے منظم طریقے سے بحری جہازوں کے ذریعے افریقہ پہنچایا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے لندن سے چوری کی گئی ایک قیمتی گاڑی کی کراچی میں برآمدگی کی اطلاع بھی گردش کرتی رہی۔ گاڑیوں اور اغواکاروں کی پکڑ دھکڑ میں پولیس والے زیادہ دل چسپی نہیں لیتے۔ یہ انشورنس والا معاملہ نہ ہوتا تو شاید لوگ چوریوں کی بڑھتی وارداتوں کی وجہ سے گاڑیاں رکھنے سے اجتناب کرتے۔
اس دوران میں ہم ائرپورٹ پہنچ چکے ہیں اور جہاز کے اندر بیٹھ بھی چکے ہیں اور اس وقت جہاز ہیتھرو ائر پورٹ سے استنبول اُڑان بھرنے کے لئے رن وے پر شدید انگڑائی لے رہا ہے۔ میری سیٹ گد گدا رہی ہے۔ ائر ہوسٹس بی بی لڑکھڑاتے ہوئے ہمیں سیٹ بیلٹ باندھنے کا اشارہ کر رہی ہے، جس کو ہم اِگنور کرتے ہیں کیوں کہ ایک، اِس سیچویشن میں بیلٹ کی حفاظتی طاقت کتنی ہے یہ ہم جانتے ہیں، اور دوم، ہم ضیاءالدین یوسفزئی کی طرح بیلٹ باندھنے کے فن سے ابھی تک نابلد ہیں۔ علیٰ ہٰذالقیاس۔ ہم دس گھنٹوں میں اپنی سرزمین کے قبلہ اسلام آباد میں قدم پوشی کریں گے۔ کیوں کہ میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے۔
ہم اُن تمام دوستوں کے شکرگزار ہیں جنھوں نے ہمارے برطانیہ کے سفر کو یادگار بنا دیا۔ راہی صاحب نے ہماری سفری روداد کے الفاظ کی ترتیب و ترکیب درست فرمائی، یو جہان مننہ۔ ’ہم سب‘ کی ٹیم بالخصوص عدنان خان کاکڑ کے مشکور و ممنون ہیں کہ انھوں نے ’ہم سب‘ کے صفحات میں جگہ عنایت کی اور ہمیں پڑھا لکھا بنا دیا۔ حالاں کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کو لکھنے کی بہ جائے پڑھنا چاہیے۔ دیکھ، فیض نے ہمارا کام کتنا آسان بنا دیا۔
ادھر ایک حرف کہ کشتنی یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو سن کے اڑا دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا


