کار سرکار


وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی حکومت کے جاری کردہ مالیاتی بجٹ برائے مالیاتی سال 2024۔ 25 میں پاکستان کے کمزور ترین اقتصادی و معاشی صورت حال والے طبقے اور خصوصی طور پر تنخواہ دار طبقہ پر نئے اور تنخواہوں سے مشروط ٹیکسوں کا نفاذ، پاکستان کے طول و عرض میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ، بجلی و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بلندی، بجلی کی قیمت میں اضافہ کی مبینہ وجہ آئی پی پیز یا بجلی گھروں کو کیے گئے معاہدوں کی بنا پر خطیر اربوں روپے مالیت کی ادائیگی وغیرہ وغیرہ، الغرض وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نمائندہ حکومت نے معاشی و اقتصادی بحران کا سالم بوجھ ”کار سرکار“ کے تحت بخوبی حکومتی فرائض تندہی سے سر انجام دیتے ہوئے عوام الناس پر منتقل کر دیا ہے۔

مگر اسی ”کار سرکار“ کے تحت وفاقی و صوبائی حکومتیں پاکستان میں موجود کسانوں کو گندم کے سرکاری نرخ برائے خریداری نہ فراہم کر سکی، مگر اسی ”کار سرکار“ کے تحت حکومت مالیاتی بجٹ برائے 2024۔ 25 میں عالمی قرضوں کی واپسی کی وجہ سے لگائے جانے والے ٹیکسوں کا بوجھ دیہاڑی دار مزدور پیشہ طبقہ، چھوٹے کاروبار اور تنخواہ دار طبقہ پر منتقل کرتی رہی اور مذکورہ طبقات کو سہولت یا ریلیف فراہم نہ کر سکی۔ مگر اسی ”کار سرکار“ کے تحت حکومت وقت امیر اور مضبوط معاشی سرمایہ دار طبقہ پر عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی شیڈول واپسی کی وجہ سے لگائے جانے والے ٹیکسوں کے نفاذ سے کتراتی رہی اور مبینہ ٹیکسوں کے نفاذ میں پاکستان کے غریب اور نادار طبقہ کو سرمایہ دارانہ طبقہ پر فوقیت دی گئی۔

ویسے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مالیاتی بجٹ برائے 2024۔ 25 اپنے اندر انتہائی دردناک کہانی سموئے ہوئے ہے، کہ بجٹ کا 52 فیصد حصہ عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی واپسی ادائیگی اور سود وغیرہ کی مد میں مختص کیا گیا ہے۔ سادہ الفاظ میں 100 روپے کے بجٹ میں 52 روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی کی مد میں کرنا ہوں گے اور باقی ماندہ 48 روپے سے گھر کے معاشی اور اقتصادی امور پورے کرنا ہوں گے۔ 52 فیصد قرض کی ادائیگی والے بجٹ کے باقی ماندہ حصے کو ہمیں دفاع، تعلیم، صحت عامہ اور مجموعی معاشی و اقتصادی امور میں لانا ہو گا۔

بجٹ کے خطیر حصے کا عالمی مالیاتی اداروں کے قرض کی ادائیگی میں استعمال ہو جانا اور پھر حکومتوں کا آئی ایم ایف سے ”بیل آؤٹ پیکیج“ اور چھ ارب ڈالر کے قرض کا پروگرام لینا، آنے والے ماہ و سال میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام الناس پر مستقبل میں نازک ترین معاشی صورتحال کا خوف بٹھا رہے ہیں۔

موجودہ عالمی و علاقائی حالات کے پس منظر و تناظر میں دہشت گردی کی تازہ کارروائیاں و واقعات، عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کے باعث پاکستان کے دفاعی بجٹ کو محدود کرنا، پاکستان کے دفاع کو کمزور کرنے کا باعث ہے۔ بعین اسی طرح صحت و تعلیم عامہ کے بجٹ کے حصہ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا بھی قرضوں اور ”کار سرکار“ کے باعث ہے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی غیر یقینی صورتحال کو مستحکم اور غیر ملکی سرمایہ داروں کو مستحکم اور مضبوط معاشی ماحول کی فراہمی بھی وفاقی حکومت کی ہی کار سرکار ”ہے اور اس“ کار سرکار ”کے لئے دفاع کا مضبوط بجٹ اور دفاعی اداروں کو مضبوط کرنا بھی وفاقی حکومت کی ہی ”کار سرکار“ ہے۔

بجلی کی مہنگی قیمتوں کے پیچھے آئی پی پیز یعنی بجلی گھروں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی وجوہات شاید کار فرما ہیں۔ آئی پی پیز کے موضوع پر تو الگ سے ایک کالم یا تجزیہ درکار ہے تاکہ آئی پی پیز کا مکمل ریکارڈ و صورت حال عوام الناس کے سامنے رکھی جا سکے۔ اس ضمن میں سابق نگران وفاقی وزیر برائے توانائی گوہر اعجاز کے انکشافات بہت بھیانک ہیں مگر اس سے بھی اہم یہ ہے کہ سابق وفاقی وزیر نے اپنے دور حکومت میں آئی پی پیز کے معاہدوں کے معاملات عوام الناس کے سامنے کیوں نہ رکھے۔

حکومت وقت (وفاقی و تمام صوبائی) کو وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں معاشی و اقتصادی صورت حال کو غریب و کمزور ترین معاشی صورتحال رکھنے والے طبقہ کے لیے مخدوش معیشت کو بہتر اور مربوط کرنے کے لئے، بد امنی، شورش و دہشت گردی پھیلانے والے عناصر سے سختی سے نبٹنے کے لئے، صحت و تعلیم عامہ، مہنگی ترین بجلی و آئی پی پیز جیسے گمبھیر اور معیشت پر بوجھ جیسے معاملات کو سیدھا کرنے میں ”کار سرکار“ کا استعمال کرنا چاہیے مگر الیکشن میں منتخب حکمران سیاسی اتحاد کیا ”کار سرکار“ صرف اور صرف غریب، کمزور اور نادار ترین طبقہ پر قرضوں، ٹیکسوں اور مہنگی ترین بجلی کا بوجھ صرف عوام الناس پر لادنے کے لئے مختص رکھے گا۔ منتخب ہونے والے نمائندگان ایوان اقتدار کی ترجیحات اور مشکل معاشی صورتحال میں غریب اور اوسط آمدنی رکھنے والے طبقہ جو کہ عوام الناس کا کثیر اور بھاری ترین حصہ ہے کے لئے مطلوبہ اور سنجیدہ معاشی اقدامات اٹھاتے ہوئے معیشت، مہنگائی روزگار کی آسان فراہمی، بجلی و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور سب سے اہم ملک میں تازہ دہشت گردی کی لہر کو ختم کرنے کے لئے ترجیحات کو اہمیت و فوقیت دیں۔

Facebook Comments HS