شکاگو میں ’دباو کا پریشر‘ (مکمل کالم)


کچھ شہر تاریخی طور پر شاندار ہوتے ہیں ، کچھ شہروں کو بڑی محنت سے شاندار بنایا جاتا ہے اور کچھ شہر وں کی شان ویسے ہی نرالی ہوتی ہے۔ شکاگو تیسری قسم کا شہر ہے ۔ہوائی اڈے سے نکلتے نکلتے کافی دیر ہوگئی ، شکاگو کا ائیر پورٹ بے حد مصروف ہے ، پرواز اترنے کے بعد بھی جہاز تقریباً ایک گھنٹے تک ’ٹیکسی‘ کرتا رہتا ہے کیونکہ اس سے پہلے درجنوں جہاز قطار میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ایک نیک سیرت بی بی نے ہمیں بتایا کہ اگر آپ نے شکاگو سے آگے کوئی پرواز لینی ہو تو کم از کم تین گھنٹے کا وقفہ ذہن میں رکھیں۔ ہم نے کہا کہ بے شک وقفہ بہت ضروری ہے،وقفہ نہ دینے کی وجہ سے ہی تو پچیس کروڑ ہونے والے ہیں۔نوجوان شاعر اور آئی ٹی کے ماہر خاور حسین ہمیں ہوائی اڈے سے لینے آئے تو ان کے گھر جاتے ہوئے ،راستے میں ہی اندازہ ہو گیا کہ شکاگو کی کلاس نیویارک، لاس اینجلس اور سان فرانسسکو کی ہے۔ میں گوگل سے اعداد و شمار نکال کر آپ کویہ بتا کر بور نہیں کرنا چاہتا کہ شکاگوکی معیشت کتنی بڑی ہے، فی کس آمد ن کتنی ہے اور اِس کا جی ڈی پی کتنے غریب ممالک کے برابر ہے ،یہ کام آپ خود بھی کرسکتے ہیں، مگرشہر میں داخل ہوتے ہی پہلا احساس یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک امیر شہر ہے۔خاور نے ہمیں بتایا کہ یہاں میکڈانلڈز، بوئنگ اور ڈی لوئیٹ جیسی دنیا کی بڑی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر ہیں۔مشہور زمانہ کافی چین، سٹار بکس ، کی سب سے بڑی ’دکان‘ بھی یہیں ہے ، دکان کیا ہے، کئی منزلہ عمارت ہے ،جہاں روزانہ ہزاروں لوگ سیر کرنے آتے ہیں ، امریکی ویسے بھی کافی کے دیوانے ہیں، جسے دیکھو ہاتھ میں کافی کا گلاس لیے گھوم رہا ہوتا ہے، ایک بد ذائقہ کافی نے پوری قوم کو پاگل کیا ہوا ہے۔جب میں پہلی مرتبہ نیویارک گیا تو وہاں ہمارے میزبان نے نیویارک کی شان بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اِس شہر میں آپ جو بھی چیز ، عمارت، یا کمپنی دیکھیں گے تو سمجھ جائیے گا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی ہے۔شکاگو کے بارے میں یہ دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا مگر یہ شہر کسی بھی اعتبار سے نیویارک سے کم نہیں ،بلکہ سچ پوچھیں تو یہ اس کے مقابلے میں رہایش کے لیے زیادہ موزوں اور قدرے سستا ہے۔
شکاگو کی جوبات اِس شہر کو ممتاز کرتی ہے وہ مشی گن لیک ہے جس کے کنارے یہ شہر آباد ہے ،یہ دنیا کی دوسری بڑی جھیل ہے اور کئی ریاستوں سے گزرتی ہے۔کہنے کوتو یہ جھیل ہے مگر دیکھنے میں سمندر ہے ، کوئی اللہ کا بندہ مشی گن لیک کودیکھ کر کہہ ہی نہیں سکتا کہ وہ کسی جھیل کا نظارہ کر رہا ہے،اِس کے کنارے پر کھڑے ہوکر نظر دوڑائیں تو تا حد نگاہ پانی ہی پانی دکھائی دے گا اوریوں لگے گا جیسے دوسری جانب خشکی نہیں ہے۔ شکاگو میں ہم جتنے دن رہے اِس جھیل کی مختلف مقامات سے سیر کرتے رہے ،کہیں یہ پر سکون ملتی ہے اور کہیں اِس کا پانی سمندر کی طرح بے قابو ہو کر ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا ہے۔شہری انتظامیہ نے پانچ چھ جگہوں پرbeaches بھی بنائے ہوئے ہیں جو بالکل ساحل سمندر کا سماں پیدا کرتے ہیں ، ویسی ہی ریت اور سمندر کی طرح پرشور اور بپھری ہوئی لہریں۔لوگ جھیل کے کنارے چہل قدمی کرتے ہیں ، دوڑ لگاتے ہیں ، سائیکل پر گھومتے ہیں ، مستی اور موج میلہ کرتے ہیں۔ہم نے لوگوں کو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ جھیل میں نہاتے دیکھا، انتظامیہ نے گہرے پانی کی نشاندہی کے لیے جھیل میں نشانات لگائے ہوئے تھے ، اِس کے علاوہ مسلسل دو لائف گارڈ وہاں تعینات تھے جن کا کام پانی پر نظر رکھنا تھا، جیسے ہی کوئی بچہ قدرے گہرے پانی میں جانے کی کوشش کرتا،یہ لائف گارڈ سیٹی بجا کر اسے خبردار کرتے۔جھیل میں بہت سارے مقامات پر امر ا نے اپنی کشتیاں بھی کھڑی کی ہوئی تھیں ، جھیل میں پارکنگ اتنی مہنگی ہے کہ عام آدمی اِس شوق کا متحمل نہیں ہو سکتا البتہ عام آدمی کشتی کرائے پر لے کر سیر کرسکتا ہے۔خاور نے بتایا کہ یہ جھیل سردیوں میں جم کر برف بن جاتی ہے اور دیکھنے میں دنیا کا آٹھواں عجوبہ لگتی ہے۔ ویسے تو سردیوں میں شکاگو آنا کوئی دانشمندی نہیں لیکن ہم نے یہ عہد کیا کہ کم ازکم ایک مرتبہ دوبارہ یہ شہر سردیوں میں ضرور دیکھا جائے گا ، پھر جو اللہ کو منظور !

بندہ اگر شکاگو جیسے شہر کی سیر کے لیے جائے تو اس پر ’دباو کا پریشر ‘ بہت ہوتا ہے ، آپ میں سے جن لوگوں کو یہ ترکیب عجیب لگے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ’یہ ہماری زبان ہے پیارے۔ہم جیسا لکھیں گے وہی سند ہوگا۔‘شکاگو میں یہ پریشر بہت تھا، جس دوست کو پتا چلا کہ ہم شکاگو میں ہیں تو اس نے دس جگہوں کی فہرست گنوا دی کہ وہاں ضرور جانا ورنہ کوئی فائدہ نہیں۔ اب مصیبت یہ تھی کہ شکاگو میں ہمارا قیام صرف تین دن کاتھا اور اِن تین دنوں میں اگر ہم صرف شکاگو کے عجائب گھر بھی گننے بیٹھتے تو پورے نہ ہوتے، ان میں سے ایک میوزیم آف ٹارچر، بولے تو ’ایذا رسانی کا عجائب گھر ‘ بھی تھا جسے نہ دیکھنے کا افسوس رہے گا۔ یہ بارک اوبامہ کا شہر ہے ، اس نے یہیں سے اپنی سیاست کا آغاز کیا، دنیا کی مشہور فلمیں یہاں بنی ہیں ، عامر خان کی دھوم تھری بھی یہیں فلمائی گئی تھی ، اس فلم کا وہ منظر جس میں بینک سے نوٹ برسائے جاتے ہیں اور وہ تھیٹر جہاں عامر خان پرفارم کرتا ہے ، سب شکاگو میں ہے۔خاور حسین نے بتایا کہ جب یہاں ٹیلر سوئفٹ کی ‘محفل موسیقی‘ برپا ہوتی ہے تو پورے شہر میں گویا طوفان آجاتا ہے ، اس ایک گلوکارہ کی وجہ سے شہر کی معیشت تیز ہوجاتی ہے۔بڑے شہروں کی بڑی باتیں۔ شکاگو اپنے جرائم کی وجہ سے بھی مشہور ہے مگر یہ جرائم صرف ایک علاقے تک مخصوص ہیں جہاں سیاہ فام رہتے ہیں، پولیس بھی وہاں جانا پسند نہیں کرتی ، باقی پورا شکاگو پر سکون اور محفوظ ہے ، لوگ گھروں کو مقفل کیے بغیر باہر چلے جاتے ہیں، انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

شکاگو کا ڈاون ٹاون دیکھنے کی جگہ ہے، مجھے تو یہ نیویارک سے بھی بہتر لگا ، اِس کی بلند و بالا عمارتیں جھیل کے کنارے کھڑی نظر آتی ہیں اور ایک عجیب پر شکوہ منظر پیش کرتی ہیں ، کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں سکائی سکریپرز کا رواج اسی شہر سے شروع ہوا۔ ڈاون ٹاون کے علاقے میں کہیں آپ زیر زمین چلے جاتے ہیں اور کہیں اوپر سے ٹرین گزر جاتی ہے ، اورخوبصورتی یہیں ختم نہیں ہوجاتی ،بلکہ شہر کے بیچوں بیچ دریا بھی گزرتا ہے جس کی سیر کشتی میں بیٹھ کر کی جا سکتی ہے۔ میں نے دنیا کے بہت سے شہر دیکھے ہیں ،کوئی قدرتی حسن کی وجہ سے نرالا ہے تو کوئی عظیم الشان عمارتوں کی وجہ سے، کسی کی تاریخی اہمیت ہے تو کسی کے پاس عجائب گھرہیں ، شکاگو ایسا شہر ہے جس کے پاس سوائے پہاڑ کے سب کچھ ہے ، یہاں میوزیم بھی ہیں اور دریا بھی ،جنگل بھی ہے اورجھیل بھی ،عمارتیں بھی ہیں اور آرٹ بھی۔ اورتو اور یہاں سری پائے اور نہاری بھی ہے۔دیوان سٹریٹ پاکستانیوں کا علاقہ ہے جہاں کڑک چائے سے لے کر مٹن کنے تک سب دستیاب ہے ،یہاں ٹہلتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے آپ لاہور یا کراچی کی کسی شاہراہ پر پھر رہے ہوں۔ سو،تین دن یہاں رہنے کے بعد ہماری متفقہ رائے تھی کہ اگر امریکہ میں رہایش کے لیے سب سے موزوں کوئی جگہ ہے تو وہ شکاگو ہے۔لیکن ایک بات کی وجہ سے ہم نے شکاگو کے کچھ نمبر کاٹ لیے اور وہ ہے آموں کا ذائقہ۔ شکاگو میں چالیس ڈالرکے عوض چار آم کھائے اور وہ بھی ایسے کہ لگا مصنوعی ہیں۔ اپنے آموں کا جواب نہیں ، اس وقت گھر بہت یاد آیا۔

جو لوگ ہمارے اِس سفرنامے سے بور ہو چکے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم شکاگو سے واپس لاہور آ چکے ہیں، یہاں بہت حبس ہے اور پورے ملک میں حبس بے جا، مگر کیا کریں ،گھر تو آخر اپنا ہے۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “شکاگو میں ’دباو کا پریشر‘ (مکمل کالم)

  • 28/07/2024 at 1:18 شام
    Permalink

    hum to yahi smjhty rhay kah shikago Japan main hy , yah bhi Amrica main nikla , Ya Allah Kheer

Comments are closed.