فوج سے قربت کی نئی خواہش کا منظر نامہ
تحریک انصاف نے 5 اگست کو بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد ملک بھر میں جلسے کرنے اور احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے 26 جولائی کو اسلام آباد اور پنجاب میں احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا لیکن پی ٹی آئی کسی قابل ذکر سیاسی قوت کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ اس روز البتہ جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود احتجاج کیا، جلسے کیے اور دھرنا دیا۔ اور اب حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے کارکنوں کو رہا کروانے میں بھی کامیاب ہو گئی ہے۔
ملک میں مہنگائی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور سے بجلی کے بلوں کی ادائیگی عام شہری کی استطاعت سے باہر ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے میاں نواز شریف کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ عوام کو اس مشکل سے بچانے کے لیے پنجاب حکومت نے سولر سسٹم لگانے کے لیے مالی مدد دینے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔ تاہم بجلی کے بلوں کا مسئلہ ملک گیر ہے اور اس کا کوئی فوری حل دکھائی نہیں دیتا۔ بظاہر جماعت اسلامی کا احتجاج اور دھرنا اسی لیے شروع کیا گیا ہے لیکن اب جماعت کی قیادت حکومت کے ساتھ مذاکرات کر کے کسی ایسے ’معاہدے‘ پر متفق ہو جائے گی جیسے ماضی میں تحریک لبیک پاکستان فیض آباد میں دھرنے دے کر لایعنی قسم کے وعدے وعید سے بھرپور معاہدے کرتی رہی ہے لیکن پرنالہ وہیں رہا ہے۔
مہنگائی اور بجلی کے بلوں کا مسئلہ ملکی معاشی صلاحیت سے جڑا ہوا ہے۔ اس مشکل سے وہ بھی آگاہ ہیں جو احتجاج کر رہے ہیں اور وہ بھی جو اس احتجاج کو ختم کروانے کے لیے کبھی دفعہ 144 کا سہارا لیتے ہیں اور کبھی مذاکرات میں ’تکنیکی کمیٹی‘ بنا کر ایک ایسا مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، جو باہمی دھینگا مشتی سے طے نہیں ہو گا۔ اس حل کے لیے جس مشقت اور محنت کی ضرورت ہے، پاکستانی قوم اور لیڈر شاید اب اس کے عادی نہیں رہے۔ مسائل پر احتجاج کر کے قومی املاک تباہ کرنے اور شہریوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنا، سارے طریقے منفی اور غیر پیداواری ہیں لیکن فی الوقت ملک کی سیاسی پارٹیاں اس کے سوا کسی دوسرے حل پر غور کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔
عین اسی دن جب تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کے لیے پنجاب اور اسلام آباد میں مظاہروں اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا، جماعت اسلامی کا ’مہنگائی کے خلاف مارچ اور دھرنا‘ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں سیاسی مظاہروں کی پراسرار تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ کوئی احتجاج اچانک نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر کے طے کر لیا جاتا ہے کہ اس تصادم سے باہر نکلنے کا راستہ کون سا ہے۔ حکومت سے مذاکرات کے ذریعے جماعت اسلامی کے لیڈروں نے اس راستے کی نشاندہی تو کردی ہے لیکن ساتھ ہی اپنی نیک نیتی، عوام سے محبت اور جمہوری عمل پر یقین کے بارے میں شکوک و شبہات بھی پیدا کیے ہیں۔ بظاہر تو جماعت اسلامی کو تحریک انصاف کے مطالبات اور عمران خان کے علاوہ دیگر لیڈروں کی گرفتاری پر شدید تشویش ہے لیکن حکومت سے ملاقات میں اس نے صرف اپنے ہی کارکن رہا کروانا کافی سمجھا۔ اب جماعت اسلامی کے لیڈر ایک تکنیکی کمیٹی کے قیام کی تجویز کا پیغام سن کر اطمینان سے گھروں کو لوٹ گئے ہیں اور ایک دو روز میں احتجاج و دھرنے کی کامیابی کا اعلان بھی سننے میں آ سکتا ہے۔
ایسے میں سوال صرف یہ ہے کہ جب تحریک انصاف مظاہرے کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی تاکہ اپنے لیڈر اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج رجسٹر کروا سکے تو جماعت اسلامی نے اس کے متوازی احتجاج و دھرنے کا پروگرام کیوں بنایا۔ کیا تحریک انصاف عمران خان کی رہائی پر کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ ملک میں مہنگائی، ابتر معاشی صورت حال اور عوام کی پریشانی کا ذکر نہیں کر رہی ہوتی؟ تحریک انصاف کے لیڈروں کے بیانات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لیڈروں کی رہائی کے ساتھ ہی عوام کی ابتر معاشی حالت کا ذکر بھی ضرور کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جماعت اسلامی کوئی علیحدہ یا نیا مطالبہ لے کر اسلام آباد نہیں پہنچی تھی بلکہ اس نے تحریک انصاف کے مقابلے میں احتجاج منظم کر کے درحقیقت پی ٹی آئی کی سیاسی حیثیت کو مشکوک بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ وقوعہ نادانستہ بھی ہو سکتا ہے لیکن بعد از وقت اگر کبھی یہ معلومات سامنے آئیں کہ جماعت اسلامی درحقیقت تحریک انصاف کے احتجاج کو ناکام بنانے کے مقصد میں استعمال ہوئی تھی تو پاکستان کے کسی تجزیہ نگار کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
جماعت اسلامی کے لیڈر کئی دہائیوں سے ملکی سیاست میں موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ احتجاج اور اس کے عواقب سے بھی خوب اچھی طرح آگاہ ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے 26 جولائی کو احتجاج منظم کرتے ہوئے تحریک انصاف سے معاملات طے کر کے مظاہرے منظم کرنے کا پروگرام نہیں بنایا۔ جماعت اسلامی اگر اپنے ’عوامی مطالبات‘ کے لیے تحریک انصاف جیسی بڑی اور مقبول سیاسی پارٹی کو ساتھ ملا لیتی تو اس کے احتجاج کی تاثیر بھی زیادہ ہوتی اور شاید وہ کوئی ریلیف لینے کی پوزیشن میں بھی ہوتی۔ لیکن جماعت اسلامی نے ’سولو فلائٹ‘ کا فیصلہ کیا اور اسلام آباد الٹ دینے کے نعرے لگاتے ہوئے بالآخر لیاقت باغ میں دھرنا دینے پر متفق ہو گئی۔ اب مذاکرات کے ذریعے معاملات طے ہوجائیں گے۔ لیکن دوسری طرف تحریک انصاف، جماعت اسلامی کے برعکس دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا حوصلہ نہیں کر سکی اور احتجاج کی اجازت لینے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئی۔ اسے بعض ججوں کی ’دیانت داری‘ پر غیر معمولی ایمان کے باوجود یہ حق نہیں مل سکا۔ جبکہ جماعت اسلامی کے لیڈر عوامی مفاد کے نمائندے بن کر دندناتے پھررہے ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ قانون شکنی کا جو طریقہ جماعت اسلامی نے اختیار کیا ہے، تحریک انصاف اس پر عمل نہیں کر سکی؟ یہ کہنا غلط ہو گا کہ تحریک انصاف اس حد تک قانون پسند ہے کہ وہ دفعہ 144 نافذ ہونے کے بعد کسی عدالت کی اجازت کے بغیر احتجاج کرنے کو اصولی طور سے غلط سمجھتی ہے۔ اب تو عمران خان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اور وہ ملک کے بلاشبہ بڑے لیڈر شمار ہوتے ہیں لیکن 2014 جب عمران خان اور تحریک انصاف کو یہ پوزیشن حاصل نہیں تھی، اس وقت بھی انہوں نے کسی قانون کو خاطر میں لانا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ اسلام آباد میں دھرنے دے کر ججوں تک کے راستے روکے گئے، پارلیمنٹ کے علاوہ پی ٹی وی پر حملے کیے گئے اور ملک میں بغاوت کا سماں پیدا کیا گیا۔ عمران خان سول نافرمانی کو جائز سیاسی ہتھکنڈا قرار دیتے تھے اور عوام سے اپیل کی جا رہی تھی کہ وہ بلوں کی ادائیگی روک دیں اور حکومت کا اختیار ماننے سے انکار کر دیں۔
یہ نکتہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے کہ 2014 میں قانون شکنی کو جائز سمجھنے والی پارٹی اس وقت کیوں بھیگی بلی بنی ہوئی ہے۔ اور ایک ایسی جماعت جسے تحریک انصاف کے مقابلے میں ایک فیصد لوگوں کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے، شیر بن کر حکومت کو شرائط بتا رہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کوئی سیاسی لیڈر کس وقت قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے اور کب اس کا احترام کرنا ’اصول‘ بن جاتا ہے۔ اسی ماحول میں تحریک انصاف نے اب 5 اگست کو عمران خان کی رہائی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اگر سیاسی صورت حال تبدیل نہ ہوئی تو شاید خیبر پختون خوا کے علاوہ کہیں پر بھی تحریک انصاف بڑی سیاسی قوت کا مظاہرہ نہ کرسکے۔ موجودہ صورت حال میں حالات تبدیل کرنے کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ یا حکومت نے نہیں بلکہ عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت نے کرنا ہے۔
عمران خان کی طرف سے سامنے آنے والے نئے اشاروں میں اسٹیبلشمنٹ یا فوج کے ساتھ ’ہتھ جوڑی‘ کی خواہش کا برملا اظہار کیا گیا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ان کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں ہے، بس وہ ایک ناجائز حکومت اور بدعنوان لیڈروں کی سرپرستی چھوڑ دے۔ اور تحریک انصاف کے ساتھ معاملات طے کر لیے جائیں۔ اس صورت میں اب عمران خان نے فوج کو یہ ’امید دلائی‘ ہے کہ تبدیلی قلب کی صورت میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر جو لوگ سانحہ 9 مئی میں ملوث ہیں، انہیں ملکی قانون کے مطابق قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ البتہ تحریک انصاف اور اس کے لیڈروں کی گلو خلاصی کردی جائے۔ اس بیان سے عمران خان اپنے اس موقف سے منحرف ہو گئے ہیں کہ 9 مئی کو تحریک انصاف نے کوئی توڑ پھوڑ یا عسکری تنصیبات پر حملے نہیں کیے تھے بلکہ یہ فالس فلیگ آپریشن تھا۔ یعنی وہی عناصر درپردہ ان واقعات میں ملوث تھے جو اب تحریک انصاف پر یہ الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بالواسطہ طور سے عمران خان سانحہ 9 کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ ہیں مگر وہ اس کے لیے ’صلح‘ کو شرط کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
ممکن ہے عمران خان کے پاس ایسے بیانات کے ذریعے فوج کو راستہ دینے اور کچھ اعتراف کرنے کے پس پردہ کچھ ایسی معلومات موجود ہوں جو عام صحافیوں یا عوام کو دستیاب نہیں ہیں۔ لیکن اس کا امکان زیادہ ہے کہ عمران خان اسی مقصد کے لیے جؤا کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے حاصل کرنے میں وہ بارہا ناکام ہوچکے ہیں۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ کا دل نرم کرنے کی کوشش۔ اس سیاسی بیانیے میں ایک الجھن یہ بھی ہے کہ ایک طرف عمران خان فوج کو سیاست سے الگ ہونے کا مشورہ دیتے ہیں تو دوسری طرف موجودہ حکومت کے ساتھ تعاون سے روک کر اپنے ساتھ ہاتھ ملانے کی پیش کش کر رہے ہیں۔ حالانکہ آئینی طور سے آرمی چیف یا فوج بطور ادارہ اگر حکومت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تو اس پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے۔ جبکہ سیاسی پارٹیوں یا لیڈروں سے معاملات کرنا اس کے آئینی مینڈیٹ کا حصہ نہیں ہے۔
اس بات کا امکان کم ہے کہ فوج، عمران خان کے ساتھ کسی مفاہمتی عمل کا حصہ بنے گی۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر مصدق ملک نے دو روز قبل تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیش کش کے ذریعے سیاسی طور سے آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی فوج کو تحریک انصاف سے بدگمان کر رہی ہیں لیکن اپنی موجودہ حکمت عملی میں وہ خود فوج کو ان دونوں پارٹیوں کو مسترد کرنے کی پرانی پالیسی اپنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ عمران خان کو جاننا چاہیے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے اقتدار کی صورت میں ہائبرڈ نظام کے لیے فوج کا منصوبہ ناکام ہو گیا تھا۔ اس ناکامی کی ذمہ داری فوج اور عمران خان پر یکساں طور سے عائد ہوتی ہے۔ البتہ عمران خان اپنے حصے کا بوجھ اٹھانے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ اب وہ ہائبرڈ فلسفے کی بنیاد پر حکمت عملی بنانے کی بجائے براہ راست سیاسی پارٹیوں اور حکومت سے معاملات طے کرنے کی کوشش کریں تو ملک میں امن و مان بھی بحال ہو سکتا ہے اور شاید عمران خان کی رہائی بھی ممکن ہو۔
تحریک انصاف کی طرف سے مصالحت و مفاہمت کے لیے مذاکرات سے مسلسل انکار کا نقصان ملک و قوم کو بھی ہو گا لیکن اس کی سب سے بھاری قیمت پی ٹی آئی ہی کو چکانا پڑے گی۔ فیصلہ عمران خان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔


