بھکاری فطرت


ایک رئیس آدمی کو ایک خوبرو بھکارن سے محبت ہو گئی۔ اس نے شادی کا پیغام بھجوایا جس کو بھکارن نے بخوشی قبول کر لیا۔ در در سے ٹکڑے اکٹھے کر کے کھانے والی بھکارن کو ایک دم نوکر چاکر، زرق برق لباس اور انواع و اقسام کے کھانے میسر آنے لگے۔ رئیس بھی بھکارن کا پوری طرح خیال رکھنے لگا وہ اس کے آرام و آسائش میں کسی قسم کی کسر اٹھا نہ رکھتا تھا۔

کھانے کے اوقات میں دستر خوان پر طرح طرح کے کھانے چُن دیے جاتے لیکن بھکارن ٹھیک طرح سے کھانا کھائے بنا ہی اٹھا جایا کرتی تھی۔ پہلے پہل تو رئیس نے نظر انداز کیا مگر انتہائی کم کھانے کی وجہ سے جب اس کی صحت گرنے لگی اور نقاہت اس کے چہرے سے عیاں ہونے لگی تو رئیس کو تشویش ہوئی۔ اس نے بھکارن سے بہت استفسار کیا مگر وہ کوئی ٹھوس وجہ جاننے میں ناکام رہا۔

آخر کار رئیس نے اپنے تئیں بہترین حکماء اور اطباء سے بھکارن کا علاج معالجہ کروانا شروع کر دیا مگر بہتری کی کوئی صورت نہیں نکل پا رہی تھی۔ بھکارن کی صحت ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتی چلی جا رہی تھی۔ آخر کار ایک دانا حکیم نے رئیس کو ایک انوکھا مشورہ دیا۔ اس نے کہا کہ علاج معالجے کی تمام صورتیں ناکام ہو چکی ہیں، آپ ایک کام کریں اپنے محل کے اندر دیواروں میں چھوٹے چھوٹے طاق بنوا دو اور جب کھانے کا وقت ہو تو ان طاقوں میں تھوڑا تھوڑا کھانا رکھوا دیا کرو، مثلاً کسی میں روٹی، کسی میں سالن، کسی میں دلیا، کسی میں حلوہ، کسی میں کھیر اور کسی میں چاول ہونے چاہئیں۔

رئیس کو حکیم کی یہ تجویز نہایت مضحکہ خیز لگی مگر اس نے بادل ناخواستہ اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی اور اپنے گھر کے در و دیوار میں طاق بنوا دیے اور کھانے کے وقت ان میں مختلف اقسام کے کھانے رکھوا دیے۔ اس کے ساتھ ہی بھکارن کو کسی نوکرانی کے ذریعے ان سوراخوں میں رکھے کھانے کی بابت مطلع کر دیا گیا۔ بھکارن اٹھی اور پہلے سوراخ کے قریب جاکر بے ساختہ پکار اٹھی ”اللہ دے نوالہ، اللہ دے نوالہ“ اور اس کے ساتھ ہی کھانا نکال کر بے صبروں کی طرح کھانے لگی۔ پھر اگلے سوراخ کے قریب جاکر بھی ”اللہ دے نوالہ“ کی تان لگائی اور کھانا کھانے لگی۔ اس طرح بھکارن نے ہر سوراخ سے کھانا اٹھایا اور خوب سیر ہو کر کھایا۔

کچھ ہی دنوں میں بھکارن کی صحت بحال ہونا شروع ہو گئی اور اس کے چہرے کی شادابی واپس لَوٹنے لگی۔ رئیس اس صورتحال سے سرتاپا خوشی میں ڈوب گیا۔ اس نے دانا حکیم سے اس تدبیر کی بابت پوچھا تو حکیم نے بتلایا ”اس بھکارن کو ساری زندگی مانگنے کھانے کی عادت تھی جو اس کی فطرت کا حصہ بن چکی تھی، آپ نے اس کی فطرت کے برعکس اس کو مہذب انداز میں دستر خوان پر بٹھا کر کھانا کھلانا چاہا جس کو اس نے عملاً قبول نہیں کیا اور کھانے کو منہ لگانا تک گوارا نہیں کیا۔ لیکن جب اس کو اس کی فطرت کے مطابق مختلف جگہوں پر رکھ کر کھانا دیا گیا تو اس نے خوشی خوشی پیٹ بھر کے کھانا شروع کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے مملکت خداداد پاکستان کو بے شمار نعمتوں اور برکتوں سے نوازا ہے۔ اس ملک کے پاس دنیا کی زرخیز ترین زمین اور بہترین موسم ہیں جن کی بدولت عمدہ ترین فصلیں کاشت ہوتی ہیں۔ معدنیات کے اعتبار سے یہ خطہ وسائل سے مالامال ہے۔ مگر آزادی کے اٹھہتر سال کے بعد بھی اپنا وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کا خواب آنکھوں میں سجائے لاکھوں افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے۔

اس لیے کہ یہ ملک بھکاریوں کے ہتھے چڑھ گیا، یہ وہ بھکاری ہیں جن کے آبا و اجداد نے اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے غداری کے عوض انگریزوں سے مربعوں کی بھیک مانگی تھی۔ غداری اور بھیک مانگنے کی عادت نسل در نسل منتقل ہوئی اور اب ان کی اولادوں کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔ پاکستان کا اقتدار انھی غدار اور بھکاری خاندانوں کے گھر کی رکھیل بن کر رہ گیا ہے۔ آج انڈیا، افغانستان، ایران اور چائنہ جیسے ممالک کے بیچ گھرا یہ خطہ پائی پائی کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی طرف دیکھتا ہے تو اس کی واحد وجہ وہ بھکاری فطرت حکمران ہیں جنھوں نے ملکی وسائل کے بہترین استعمال کو بالائے طاق رکھ کر بھیک کے رویے کو پروان چڑھایا۔ آپ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو یہی بھکاری سیاہ کرداروں کی صورت مختلف روپ میں سامنے آتے اور غائب ہوتے نظر آئیں گے۔

Facebook Comments HS