ایک اور اعتراف
ہمیں لاڈلے کو بانی پی ٹی آئی کہنے پر اعتراض ہے کیونکہ تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھنے اور اُس کی نوک پلک سنوانے کا سہرا تو جنرل (ر) حمید گُل مرحوم کے سَر ہے۔ اُنہوں نے سیاستدانوں کو سبق سکھانے کے لیے کرکٹ کے کھلاڑی کو سیاستدان بنا کر پیش کیا۔ اِس لیے لاڈلا جنرل حمید گُل کی نرسری سے اُگنے والا پودا ہے جسے بعد ازاں اسٹیبلشمنٹ نے اپنی بھرپور توانائیاں صرف کر کے تَن آور درخت بنانے کی ناکام کوشش کی۔ میاں نواز شریف کی حکومت کے دوسرے دَور کے خاتمے پر جنرل حمید گُل نے ہی آمر پرویز مشرف سے لاڈلے کا تعارف کروایا۔
یہ وہی لاڈلا ہے جو پرویز مشرف کے بدترین ریفرنڈم میں اُس کا چیف ایجنٹ بنا۔ اُسے چیف ایجنٹ بنانے میں بھی جنرل حمید گُل کاہی ہاتھ تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ جونہی لاڈلے کے سیاست میں قدم جمے اُس نے حسبِ عادت جنرل حمید گُل سے مُنہ موڑ لیا۔ اِس کے بعد تین آئی ایس آئی چیفس، جنرل شجاع پاشا، جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل فیض حمید نے یکے بعد دیگرے لاڈلے کو گود لے کر بالآخر وزیرِاعظم بنا کر ہی دَم لیا۔ اب شنید ہے کہ جنرل فیض حمید نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے سانحہ 9 مئی پر بہت کچھ اُگل دیا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر فیض حمید بھی وعدہ معاف گواہ بن چکے۔ اِس دوران لاڈلے کو نہ صرف فوج بلکہ عدلیہ کی بھی مکمل حمایت حاصل رہی۔ پھر پونے چار سال کی وزارتِ عظمیٰ نے لاڈلے نے پاکستان کاجو حشر کیا وہ سب کے سامنے ہے۔
عدلیہ کی یہ حمایت تو لاڈلے کو اب بھی حاصل ہے کیونکہ اگر ایک عدالت اُسے سزا سناتی ہے تو دوسری عدالت وہ سزا کالعدم قرار دے دیتی ہے۔ سائفر، عدت میں نکاح اور توشہ خانہ کیس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں ایک عدالت نے سزا دی تو دوسری نے کالعدم قرار دے دی۔ حقیقت یہ کہ لاڈلے اور اُس کی جماعت کے بارے میں آئین و قانون ستّو پی کر سویا ہوا ہے اور جہاں ججز کا بَس نہیں چلتا وہاں آئین کو ری رائیٹ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
جسٹس منیر کا نظریۂ ضرورت کا فیصلہ قصّۂ پارینہ بن چکا لیکن ہماری عدل کی بین الاقوامی فہرست میں آخری نمبروں پر بیٹھی عدلیہ اب بھی وقتاً فوقتاً نظریۂ ضرورت کی کبھی آرٹیکل 63۔ A کی تشریح کی صورت میں آبیاری کرتی رہتی ہے اور کبھی ”مخصوص حالات“ کی صورت میں۔ طُرفہ تماشا یہ کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے فُل بنچ نے 8 / 5 کی اکثریت سے تحریکِ انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار ٹھہرایا جبکہ درخواست سُنّی اتحاد کونسل نے دائر کی تھی اور تحریکِ انصاف شریکِ دعویٰ ہی نہیں تھی۔ اِس فیصلے پر کسی ستم ظریف نے کہا کہ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ ہو رہا ہو اور آسٹریلیا کو فاتح قرار دے دیا جائے۔ موجودہ حکومت بھی پتہ نہیں کس خوف میں مبتلاء ہے، وہ بھی سب کچھ اپنے سامنے ہوتا ہوا دیکھ کر ٹُک ٹُک دیدم دَم نہ کشیدم۔
سانحۂ 9 مئی کو گزرے 14 ماہ بیت چکے لیکن تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اِس سلسلے میں لاڈلے نے لاہور کی اینٹی ٹیررسٹ کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی جس پر پراسیکیوٹر نے جج صاحب کو آڈیوز اور ویڈیوز پر مشتمل یو ایس بی بطور ثبوت پیش کی۔ جسے دیکھنے کے بعد جج صاحب نے لاڈلے کی یہ کہتے ہوئے ضمانت مسترد کردی کہ یہ حق معصوم لوگوں کاہے ملزموں کا نہیں۔ بعد ازاں جب سانحۂ 9 مئی کی تفتیش کے سلسلے میں لاہور پولیس اڈیالہ جیل گئی تو لاڈلے نے تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
پنجاب پولیس نے لاڈلے کا جھوٹ پکڑنے والا پولی گراف ٹیسٹ، وائس میچنگ اور فوٹو گرامیٹری کرنا تھا لیکن لاڈلا اُس کے لیے تیار نہ ہوا۔ اِسی سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوارالحق پُنّوں پر مشتمل بنچ نے لاڈلے کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ گویا ہماری اعلیٰ عدلیہ لاڈلے کے معاملے میں پولیس سے ریمانڈ، تفتیش اور ویڈیو لنک پر حاضری کا حق بھی چھین رہی ہے۔ جو عدالت لاڈلے کو اُن مقدمات میں بھی ضمانت دے دے جو ابھی دائر ہی نہیں ہوئے اُس سے ایسے ہی فیصلوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس بریفنگ میں کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کو عدالتی ڈھیل سے انتشار پھیلے گا۔ اُنہوں نے فرمایا ”فوج اور اُس کی قیادت کے خلاف باتیں کی جا رہی ہیں۔ ڈیجیٹل دہشت گردوں کو قانون کے مطابق سزا دینے سے روکنا ہے۔ سیاسی مافیا چاہتا ہے کہ عزمِ استحکام کو متنازع بنایا جائے، فوج دہشت گردوں اور ڈیجیٹل دہشت گردوں کے سامنے کھڑی ہے“ ۔ جنرل صاحب کا یہ پیغام تو انتہائی واضح اور حکمرانوں کو جھنجھوڑنے کے مترادف لیکن سانحہ 9 مئی میں ہی لاڈلے کی 12 مقدمات میں ریمانڈ اور ویڈیو لنک پر حاضری کالعدم قرار دینے میں ہی ایک پیغام مضمر ہے جس کا ہمیں تو یہی مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ ”کر لو جو کرنا“ ۔
بالآخر لاڈلے کا اعترافی بیان سامنے آہی گیا۔ اُس نے اڈیالہ جیل میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ”میں نے اپنی گرفتاری سے قبل جی ایچ کیو کے باہر پُرامن احتجاج کی کال دی تھی۔ اِن لوگوں نے ہمارے پُرامن احتجاج کو غداری بنا دیا“ ۔ لاڈلے کے اِس بیان کے بعد تحریکِ انصاف کے رَہنماؤں نے اُس کے اِس بیان کی پُرزور تردید شروع کردی حالانکہ ماضی میں وہ اپنی پارٹی کی جانب سے جی ایچ کیو اور دیگر فوجی مقامات کے باہر احتجاج کو درست قرار دیتے رہے تھے۔
سانحۂ 9 مئی کے محض تین دنوں بعد لاڈلے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ”اگر مجھے دوبارہ گرفتار کیا گیا تو پھر شدید ردِعمل سامنے آئے گا اور امن وامان کی وہی صورتِ حال پیدا ہوگی۔ 13 مئی کو اُس نے کہا“ اگر کارکنوں کے رِہنماء کو خلافِ قانون گرفتار کیا گیا تو وہ پُرتشدد مظاہروں پر اُتر سکتے ہیں ”۔ 29 مئی کو اُس نے کہا“ لوگوں نے دیکھا کہ رینجرز اُنہیں غیرقانونی طور پر اغوا اور لاٹھی چارج کر رہی ہے تو اِن لوگوں نے جی ایچ کیو کے سامنے جہاں فوج ہے وہیں مظاہرہ کرنا تھا۔ وہ جی ایچ کیو کے سامنے اور فوجی چھاؤنیوں میں احتجاج نہ کرتے تو اور کہاں کرتے؟ 18 جولائی 2023 ء کو جب اُن سے پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی کے حامیوں نے چھاؤنیوں کے اندر احتجاج کیوں کیا تو اُن کا جواب تھا ”مجھے ایک کمانڈر نے گرفتار کیا تھا تو لوگ وہیں جائیں گے۔
اب ”تنگ آمد بجنگ آمد“ کے مصداق یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت بھی حوصلہ پکڑ رہی ہے۔ وزیرِاعظم میاں شہباز شریف نے کہا کہ ایک مخصوص ٹولے نے 9 مئی کا واقعہ کیا۔ اِسی ٹولے نے سرکاری ٹی وی اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے۔ پی ٹی آئی کی آفیشل ویب سائیٹ پر آرمی چیف، افواجِ پاکستان اور اِن کے خاندانوں کے خلاف باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ مسلح جتھے ملک کا امن برباد کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں پاکستان میں ہنگامہ آرائی اور افراتفری کرنے کے لیے پی ٹی آئی کو بیرونی مدد حاصل تھی۔ وزیرِاطلاعات عطا االلہ تارڑ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی کا اصولی فیصلہ ہو چکا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر ایسا ہو گیا تو یہی ملک و قوم کے لیے بہتر ہو گا۔



آپ جیسوں کو صرف لکھنے کا اور تاریخ کا بیڑا غرق کرنے کا شوق ہے۔
اللہ جانے حمید گل کو کیسے بانی تحریک انصاف کہا جاسکتا ہے۔
حمید گل مئی 1989 میں آئی ایس آئی چھوڑ چکے تھے اور 1989 سے جنوری 1992 تک کور کمانڈر ملتان رہے تھے۔ حمید گل جب فوج سے ریٹائر ہوئے اس وقت تک عمران خان نے ورلڈ کپ ہی نہیں جیتا تھا تو تحریک انصاف کا وجود میں آنا کیسے ممکن ہوگا۔
جمائما سے شادی کے کہیں بعد 1996-97 میں خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پہلے ہی الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی وہ تو 2002 میں مشرف کے انتخابات میں پہلی بار الیکشن جیتا تھا۔
حمید گل ہی نہیں متعدد نامور لوگ عمران کی سیاست میں آمد کے حق میں تھے اور دامہ درمے اپنا حصہ بھی ڈالتے رہے تو کیا ان سب کو بانی تحریک قرار دے دیا جائے۔
پاکستان جیسے ملک میں ہتک عزت کا قانون موجود نہی وگرنہ آپ کو عدالت میں جنرل پاشا ہی کھینچ لیتے کہ ثابت کریں کہ وہ ان کا لاڈلا کیسے تھا؟
جنرل پاشا محض دو مرتبہ عمران خان سے ملے۔ ایک بار کسی شادی میں جب وہ فوج میں تھے اور دوسری مرتبہ ریٹائرمنت کے بہت بعد لاہور جلسے سے پہلے عمران کے گھر وہ بھی شاید اس کی چوٹ میں حادثے کے بعد۔
جتنی ملاقاتیں بے نظیر اور شریفوں کی آرمی چیفس کے ساتھ رہیں اس کے تنظار میں تو ان لوگوں کو لاڈلا نہیں بلکہ بیٹا کہنا چاھئے وہ بھی پہلوٹی کا۔
جنرل فیض جب آئی ایس آئی کے سربراہ بنت خان اس وقت تک وزیر اعظم بن چکا تھا۔ اور اس سے پہلے الیکشن کے وقت سربراہ وہ شخص تھا جو بیگم صفدر کے سمدھی کا سمدھی تھا۔
محض کہیں کسی سیاست داں کا بیانیہ پڑھ کر اس کی لکیر کو پیٹنا کسی دن آپ جیسوں کو بری طرح پھنسوائے گا۔
خاتون اگر آپ کسی سرکاری جامعہ میں حاضر سروس پروفیسر ہیں تو اللہ جانے کیسے بغیر اجازت لکھتی ہیں۔ اور اگر ریٹائر ہوچکی ہیں تو نام کے ساتھ ریٹائر کیوں نہیں لکتیں۔
پروفیسر عہدہ ہے کوئی کوالی فیکیشن نہیں۔ آپ ساقہ یا ریٹائرڈ ضرور ہوسکتی ہیں۔
اسی طرح اگر آپ پرائیویٹ جامعہ میں اگر پڑھاتی ہیں تو ان کے بورڈ کو بھی اتنی سیاسی تحریروں پر نوٹس لینا چاہئے۔