چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے امریکہ کا خوف
ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا دنیا بھر میں خیالات، مواد، معلومات، تفریح اور پیغامات پہنچانے کا وہ ذریعہ ہے جسے انٹر نیٹ ممکن بناتا ہے۔ یہ میڈیا تحریری، تصویری اور ویڈیو کی شکل میں لوگوں کو ان کے ہاتھوں میں موجود موبائل فون یا لیپ ٹاپ کے ذریعہ دنیا کے ہر کونے میں دستیاب ہوتے ہیں۔ جدید دور میں ان ذرائع نے انسانوں کے لیے جہاں بہت زیادہ سہولت اور آسانی پیدا کی ہے وہاں ان ذرائع کو لوگ اپنے پروپیگنڈا، شخصی، گروہی اور حکومتی تشہیر اور مخالفت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
دنیا اس وقت سنجیدگی کے ساتھ سوشل میڈیا پر قانونی اور سماجی و اخلاقی قوانین کے لاگو کرنا کا سوچ رہی ہے۔ زیادہ تر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا کنٹرول امریکہ میں کمپنیوں کے پاس ہے۔ جبکہ کچھ کو چین بھی کنٹرول کر رہا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے امریکہ نے چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر سختی کرنے کا عمل شروع کیا اور آخر کار ایک بل بھی پاس کر لیا کہ اس پر پابندی لگائی جائے یا اس کمپنی کو کسی امریکی کمپنی کو فروخت کر دیا جائے۔
چین شروع ہی سے امریکی سماجی رابطوں کے تمام ویب سائٹس کو اپنے ملک میں لوگوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ صورتحال روس کی بھی ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب پہلی بار امریکی انتخابات میں جب ٹرمپ اور بش جونیئر کا مقابلہ تھا ان میڈیا کے ذریعہ مداخلت کی گئی اور ایسی معلومات یا خبریں پھیلائی گئیں جس سے کسی ایک سیاسی فریق کو فائدہ ہوا۔ جسے امریکہ میں ان انتخابات میں مداخلت قرار دیا گیا۔ امریکہ سے کنٹرول ہونے والے سماجی رابطے کے ایپس اور ویب سائٹس کو امریکہ دوسرے ممالک کی معلومات جمع کرنے کا آسان ذریعہ سمجھتا ہے اور دیگر ایپس اور ویب سائٹس جو امریکہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں ان سے ان کو خطرہ رہتا ہے کہ چین اور دیگر ممالک اس کا فائدہ اٹھا کر امریکہ سے وہ معلومات جمع کرنے میں کامیاب ہوں گے جو امریکہ ان ممالک کے ساتھ شیئر کرنا نہیں چاہتا۔
امریکہ اقتصادی معلومات کے بارے میں بہت فکر مند رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ گزشتہ چند دہائیوں سے چین کا اقتصادی طور پر مضبوط تر ہونا ہے، چین اگرچہ ابھی تک ڈالر پر ہی انحصار کر رہا ہے اور چینی سرمایہ کار امریکی کمپنیوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہے ہیں مگر وہ شروع ہی سے ایک متبادل ماڈل کی تلاش میں بھی ہے، یہ ماڈل چین اس لیے اختیار نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کہ پاس ٹیکنالوجی اور انتہائی صلاحیتوں کے حامل افرادی قوت کی بہت زیادہ کمی تھی جسے چین نے گزشتہ دہائیوں میں اپنے نو ملین سے زیادہ افراد کو ان ترقی یافتہ ممالک کی بہترین یونیورسٹیوں میں بھجوا کر پورا کر لیا ہے۔
اور ان اپنے ملک میں آسان پیداواری سہولت اور دیگر دنیا کی تقریباً تمام بڑی کمپنیوں کو پیداواری یونٹس بنانے میں مدد دی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ چین خود سے ہی دنیا بھر کی تجارتی مانگیں پوری کرنے کی صلاحیت حاصل کر بیٹھا ہے اور اس صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کا احساس امریکہ کو ہے اس لیے وہ چین کی اقتصادی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ سرد جنگ جو کبھی روس اور امریکہ کے مابین تھی وہ ختم نہیں ہوئی مگر چین کے ساتھ امریکہ کو اب اقتصادی جنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس وقت امریکہ کو آئی ٹی سیکٹر اور اس کی مصنوعات میں سبقت حاصل ہے جسے چین کم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ سماجی رابطوں کی یہ مختلف ویب سائٹ اور ایپس جن کی آمدنی کھربوں ڈالرز سالانہ کی ہے اب امریکہ معیشت کو سہارا دے رہے ہیں، ایسے میں چینی ایپ ٹک ٹاک جو امریکہ میں بے حد مقبول ہے اس امریکی بالادستی کو مسلسل چیلنج کر رہا ہے۔ اس لیے کہ صرف امریکہ میں اس ایپ کی مالیت دو سو ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ امریکہ کی یہ مکمل کوشش ہے کہ اس کو بھی کوئی امریکی کمپنی خرید لے جس کے لیے امریکہ مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے مگر وہ تاحال ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
اس لیے امریکہ اس پر پابندیاں لگا کر اس کو مجبور کر رہا ہے کہ اس کی ملکیت اور اختیار کسی امریکی ٹیک کمپنی کے ہاتھ میں آ جائے۔ یہ صرف اقتصادی جھگڑا نہیں ہے۔ اس کے کئی دیگر وجوہات بھی ہیں۔ امریکہ میں رائے عامہ ہموار کرنے میں گزشتہ کئی انتخابات میں ان پلیٹ فارمز نے بہت ہی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ فیس بک، انسٹا گرام، ٹیوٹر یعنی ایکس اور یوٹیوب کے مقابلے میں ٹک ٹاک ہزار گنا زیادہ موثر ہے اس کی وجہ اس کی پیش کش اور عوام میں مقبولیت کی شرح ہے، اور اب اے آئی کی وجہ سے اس پلیٹ فارم پر من چاہا پروپیگنڈا نہایت ہی سہولت کے ساتھ کیا جاسکتا ہے اور اس پر کسی بھی واقعہ یا خبر کو وائرل کرنے میں بہت ہی کم وقت اور توانائی صرف ہوتی ہے۔
اب چونکہ دنیا میں مصنوعات کی تشہیر کے لیے بھی اس پلیٹ فارم کا استعمال ہو رہا ہے اس لیے اس کی عملی اہمیت دوسرے پلیٹ فارمز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ امریکہ کے انتخابات میں اس کا استعمال اس وقت کی امریکی حکومت اور ان کی جماعت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے جبکہ ٹرمپ جس کا بنیادی تعلق ہی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے ہے وہ اس کا استعمال کر کے اپنے حامیوں میں اضافہ کر سکتا ہے اور اس کا استعمال مخالفین کے خلاف آسانی کے ساتھ کر سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو صرف اس ایک پلیٹ فارم سے بہت زیادہ پھیلایا گیا جبکہ دیگر پلیٹ فارمز کو کسی نہ کسی حد کنٹرول کرنے کا انتظام کر لیا گیا تھا، خصوصاً امریکی حکومتی عہدہ داروں کی پریس کانفرنسوں اور تقریبات میں شرکت کے مواقع پر لوگوں کی شخصی احتجاج اور بائیکاٹ اور یونیورسٹیوں میں دھرنوں کی جس طرح ان اس پلیٹ فارم پر تشہیر کی گئی اس نے امریکی حکومت اور اس کے پالیسی سازوں کو اس کے خلاف کارروائی پر آمادہ کیا ہے۔
امریکہ اقتصادی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین اس پلیٹ فارم کے ذریعے امریکہ کی مارکیٹ کی ضرورتوں اور اپنے مصنوعات کی فروخت کے اندازوں کا تعین بھی کرتا ہے جس کی وجہ سے امریکہ میں چین کی مصنوعات کی مانگ بڑھ رہی ہے اور چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کی وجہ سے امریکہ کی اپنی پیداواری انڈسٹری پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں جس سے امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ اب پورے چائنا کی تجارت اس پلیٹ فارم کی وجہ سے ہر امریکی کی پہنچ میں ہے جس کی وجہ سے عام امریکی صارف امریکی مصنوعات میں دلچسپی کھو رہا ہے اور وہ چین کی کمپنیوں کے ساتھ تجارت کو ترجیح دیتا ہے۔
اس سے پہلے امریکہ اور یورپ میں محدود پیمانے پر چائنا مارکیٹس کا وجود تھا جن تک رسائی بہت کم لوگوں کو تھی اور ان مارکیٹس میں بہت ہی کم اشیا دستیاب ہوتی تھیں اور ان مارکیٹس کا کنٹرول بھی امریکی شہریوں کے پاس ہوا کرتا تھا مگر اب آن لائن براہ راست خریداری سے یہ تجارتی حجم کئی ہزار گنا بڑھ گیا ہے۔ اس کا براہ راست فائدہ چینی حکومت اور چینی سرمایہ کاروں کو ہو رہا ہے۔ اگر آنے والے ایک دو برسوں میں چین نے ڈی ڈالرائزیشن میں پیش رفت کی اور تجارت کے لیے کوئی دوسری متبادل کرنسی کا انتخاب و انتظام کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اس کا امریکہ معیشت پر بہت ہی منفی اثر پڑے گا۔
یہ دور معلومات کا ہے اور اس دور میں سب سے بڑی طاقت جامع اور بروقت معلومات کا حصول ہی ہے۔ اس میں اس وقت امریکہ کو دنیا پر برتری حاصل ہے۔ امریکہ روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ ان سماجی رابطوں کے ایپس اور ویب سائٹس سے اس کو ممکن بنا رہا ہے۔ جبکہ اس سلسلے میں چین اب امریکہ کی اس حیثیت کو چیلنج کر رہا ہے اور وہ بھی ایسا ہی کر رہا ہے۔ امریکہ کو اس کا نقصان اس لیے زیادہ ہو رہا ہے کہ اس کے شہری چین سے خریداری کر رہے ہیں جس سے چینی معیشت مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔
اس خدشے کے پیش نظر کہ چین مستقبل میں امریکہ کی معیشت کو اپنی گرفت میں لے لے گا، 2018 میں ٹرمپ کی حکومت نے اس تجارت کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی تھی اور چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کو روکنے کے لیے مختلف پالیسیاں بنائی تھیں مگر وہ اس میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکے، امریکہ چونکہ دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے جہاں صارفین کی ضروریات کو پورا کرنا اب امریکہ کے بس میں نہیں ہے اس لیے دیگر ممالک سے تجارت کا عمل مسلسل بڑ ہا رہا ہے، ٹرمپ کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے جو اثر پڑا تھا اس کو پورا کرنے کے لیے ویت نام، جنوبی کوریا، برازیل اور دیگر کئی ممالک کے ساتھ امریکی تجارت بڑھی تھی۔
مگر حالیہ چند برسوں میں ٹک ٹاک کی تشہیری سہولت نے ان امریکی اقدامات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور چین سے درآمد میں کئی سو گنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ امریکہ کی ترقی کا راز اس کی تجارتی پالیسیوں اور اقدامات میں مضمر ہے جسے اب چینیوں نے کسی حد تک سمجھ لیا ہے۔ امریکہ میں پیداواری صنعت میں ترقی کا رجحان دیکھنے میں نہیں آ رہا جبکہ اس کی درآمدی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے امریکی حکومت کو بینکوں سے زیادہ قرضے لے کر اس گیپ کو پاٹنا پڑ رہا ہے۔
جس سے امریکی معیشت قرضوں کی جال میں پھنستی جا رہی ہے اور ہر برس کے ساتھ اس ڈیٹ ٹریپ میں مسلسل اور بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں چین کی معیشت اس لیے بہتر ہو رہی ہے کہ وہ اپنا سرمایہ کو گردش میں رکھنے میں کامیاب ہیں۔ وہ بیرون ملک سرمایہ کاری کو بھی بڑھا رہے ہیں اور نئے صنعتی شہروں میں بھی مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، چین نے اپنے آپ کو مسلسل جنگوں سے دور رکھا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل فلسطین جنگ کی وجہ سے بھی امریکہ کو شدید تجارتی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکہ میں توانائی کی مسلسل بڑھتی قیمتیں بھی امریکی معیشت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ ایسے میں امریکہ کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ چین مصنوعات اور اثر رسوخ کو امریکہ میں کم کرے اس مقصد کے لیے وہ چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ اگر امریکہ اس ایپ کو امریکہ میں مکمل بند کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے چین کو معاشی اور تجارتی نقصان ہو گا اور وہ امریکی معیشت اور امریکہ میں موجود صارفین کے متعلق بروقت اور درست معلومات جمع کرنے میں کامیاب نہیں ہو گا جس سے اس کی تجارتی اور معاشی پیش رفت کی رفتار سست پڑ جائے گی اور امریکی منڈی تک دیگر ممالک کی کمپنیوں کو رسائی میں سہولت ہوگی۔
امریکہ اس وقت دنیا پر اجارہ داری کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس صدی میں اجارہ داری تجارتی، معاشی، حربی، اقتصادی، سفارتی کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی لوگوں تک رسائی کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع پر زیادہ سے زیادہ قدرت میں پوشیدہ ہے۔ امریکہ کے سارے تھنک ٹینک اس پر متفق ہیں کہ اب لوگوں تک رسائی کے ذرائع پر قدرت ہی اس اجارہ داری کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ اور اس کی راہ میں چینی عوامی رابطوں کے ایپس سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
یوں بڑی طاقتیں اب تجارتی، معاشی اور جنگی میدانوں کے ساتھ ساتھ اس میدان میں بھی ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوششیں کریں گی۔ پاکستان بھی اس وقت ایسی ہی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے مگر یہاں کوئی تھنک ٹینک نہیں ہے جو یہاں کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مشورہ دے سکے کہ بروقت ان طاقتوں کو کنٹرول کرنے کا انتظام کرے ورنہ ایک وقت آئے کہ اس طاقت کو شدت کے ساتھ اس ملک کے مفادات کے خلاف استعمال کیا جائے گا اور ہم اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکیں گے۔ یہ صدی معلومات اور معلوماتی ٹیکنالوجی میں مقابلے کی ہے۔ جو اس حوالے سے سبقت لے جائے گا وہ ہی اصل سپر پاور ہو گا۔



محترم یہ واقعہ کب ہوا ؟
” یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب پہلی بار امریکی انتخابات میں جب ٹرمپ اور بش جونیئر کا مقابلہ تھا ان میڈیا کے ذریعہ مداخلت کی گئی اور ایسی معلومات یا خبریں پھیلائی گئیں جس سے کسی ایک سیاسی فریق کو فائدہ ہوا۔ جسے امریکہ میں ان انتخابات میں مداخلت قرار دیا گیا۔”
غالباً آپ کا اشارہ 2016 کا الیکشن ہے جب ٹرمپ کا مقابلہ بیگم کلنٹن سے تھا۔ ہیلری نے ٹرمپ کے مقابلہ میں کئی فی صد زیادہ پاپولر ووٹ حاصؒ کئے لیکن ریاستی سیتیں کم حاصل کرنے کی وجہ سے صدر نہ منتخب ہوسکیں۔
ایپ کا مسئلہ سب سے بڑا لوگوں کے رجحان پسند ناپسند ان کے نام پتہ ای میل فون نمبر اور متعدد ذاتی معلومات تک رسائی بھی ہے جو گوگل اور فیس بک کا پاس بلین میں ہے اور ایک بڑی تعداد ٹک ٹاک نے بھی پیدا کرلی تھی۔ یوٹیوب اور گوگل تو ہمارے بارے میں اتنا کچھ جانتے ہیں جو ہماری فیملی تو ایک طرف ہم خود بھی نہیں جانتے ہونگے