جاپانی لڑکی ایکو کیلاشی لڑکے سے بیاہ کرتی ہے


میری انتڑیاں اُس وقت بھوک کی شدت سے بلبلا رہی تھیں۔ اُترائی کی دشواری بھی سامنے تھی۔

اُترتے سمے میری حالت اُس دلہن جیسی تھی جس نے بالشت بھر اونچی ایڑی کا جوتا اور زمین پر لُٹنیاں لیتا شرارہ پہنا ہو اور جو پھونک پھونک کر قدم اٹھاتی ہو اس ڈر سے کہ کہیں لڑھک لڑھکا کر تمسخر کا باعث نہ بن جائے مجھے تمسخر کا نہیں ہڈی جوڑ کے اناڑیوں کے پاس پہنچنے کا ڈر تھا۔ گورڈن کالج راولپنڈی کے چند طلبہ کی ہرنی کی طرح چوکڑیاں بھرنے کی ادائیں دیکھ کر ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا یاد آیا تھا۔

ہوٹل میں لوبیا کا بد مزہ سا سالن تھا۔ اکڑی ہوئی روٹی تھی۔ شکوہ کرنے پر سُننے کو ملا تھا۔ آرڈر دے کر جانا تھا۔ اور اگر مُفتے کی مقامی ذائقہ دار چیزیں کھانی تھیں تو اوپر ٹھہرنا تھا۔ جش ( چربی میں بنایا ہوا نمکین حلوہ) اور اُبلا ہوا گوشت ملتا۔ جش نیچے کے حلووں ولووں اور اُبلا گوشت روسٹ کے سواد کو بھُلا دیتا۔

پیاز اور ٹماٹر کے سلاد کے ساتھ جو ملا اُسے غنیمت جان کر آہستہ آہستہ چبا کر حلق سے اُتارتے ہوئے میں نے لڑکے کو سُنا۔ تین دن یہ میلہ چلے گا۔ پنیر گوشت چاول منوں کے حساب سے اُڑے گا۔ کالاش موج میلے والا مذہب ہے۔ کھاؤ پیو موج اُڑاؤ اس کا سلوگن ہے۔ لڑکا ہنستا تھا۔ اور میری معلومات میں اضافہ بھی کرتا جاتا تھا۔

” یہ امیر آدمی ہے اب اس کی اولاد اس کا چوبی مجسمہ بنا کر کسی جگہ گاڑ دے گی۔“

متاثرین میں بیوہ کی نسبت بیچارے رنڈوے کی حالت زار زیادہ قابل رحم جاننے کو ملی۔ چلو بیوہ پانچ ماہ تک اپنے برتن بھانڈے ہی الگ کرتی ہے پر مرد کو تو شوم (لکڑیاں رکھنے کی جگہ) میں رہنا پڑتا ہے۔ روٹیاں کیچ کروانے کے انداز میں پھینکی جاتی ہیں۔ غریب پانچ ماہ تک چھوتوں جیسی زندگی گزارتا ہے۔ یہ انداز سوگوار خاندان سے محبت کا اظہار ہے۔

اوپر ڈھول بجتا تھا۔ لالٹینیں جگنوؤں کی طرح ٹمٹماتی تھیں۔ اور رقص جاری تھا۔ میں نے نیند کی چادر اوڑھی اور پربتوں کی ان رنگ رنگیلی شہزادیوں کے ساتھ انجانے دیسوں کی طرف روانہ ہو گئی۔

صبح کی آنکھ میں بانکپن تھا۔ ایک جادوئی کیفیت تھی جو کشاں کشاں کھینچ کر مجھے سحر زدہ انسان کی طرح دریائے ریمبور کے پار لے گئی جہاں درختوں کے جھنڈوں میں دو منزلہ سہ منزلہ چوبی گھر تھے۔ بوڑھی عورتیں بچے کھیت کھلیان اور وادی کا اکلوتا بجلی گھر تھا۔ سورج کی چڑھائی کے ساتھ ساتھ میری چلنے کی رفتار بھی جاری تھی۔ تھوڑا سا آگے بڑھتی تو خود کو ایک نئے منظر کے حسین حصار میں پاتی۔ ایسے میں مجھے وہ لازوال شاعر یاد آیا تھا۔

”ورڈزورتھ“ جس کی حُسن فطرت پر بے مثال نظمیں اس کی میلوں لمبی پیدل سیروں کے تجربات و مشاہدات کا نتیجہ تھیں۔ دریائے ریمبور کی روانیاں شاید Derwent کی روانیوں سے لگا نہ کھاتی ہوں اور Grasmere کے پہاڑوں کی شان بان ریمبور کے پہاڑوں جیسی نہ ہو۔ پر یہ سرسبز چراگاہیں یہ پھیلے جنگل بھیڑ بکریاں چراتے چرواہے۔ آسمان کی وسعتوں میں مقید یہ دلربا منظر کاش میں شاعر ہوتی۔

اور جب میں واپس آ رہی تھی میں نے اُسے دیکھا تھا اور دیکھ کر ٹھٹھکی تھی۔ ورڈزورتھ نے یہ شعر ایسی ہی کسی نازنین کے لیے کہا ہو گا۔

She was a phantom of delight
When she gleamed upon my sight
مقامی تھی پر سر تا پا منفرد۔ اس کے انداز دید میں خود نمائی اور اپنے ہونے کا بھرپور اظہار تھا۔

یہ اقلاس تھی۔ کافرستان کی پہلی میٹرک پاس لڑکی جو بعد میں پائلٹ کے طور پر بھی مشہور ہوئی۔ اس کے لباس پر نہ بوسیدگی تھی اور نہ پرانا پن۔ سر کے بالوں کی مینڈھیاں خوبصورت اور تازہ گندھی ہوئی تھیں۔ ٹوپی میں مُرغ زریں کے نئے نکور پر چمکتے تھے۔

پھر اُس نے مجھے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے گھر لے گئی۔ اُس کا دو منزلہ گھر بولتا تھا کہ اس کا سربراہ بالائی چراگاہوں کی زمینوں جنگلوں کے قیمتی درختوں اور بے شمار بھیڑ بکریوں کا مالک ہے پربشٹارہ خان یہ سب نہیں بولتا تھا۔ یوں ڈھائی پسلی کیبشٹارہ خان کو جس کی اندر کو دھنسی آنکھیں گال اور سانولی رنگت دیکھ کر یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ مہکتے تروتازہ گلاب جیسے چہرے والی طرحدار لڑکی ایسے بے سرے آدمی کی بیٹی ہے۔ وہ اوپر سے تھوڑی دیر قبل آیا تھا۔ شہری ناشتہ۔ بسکٹ اور چائے پیش ہوئی پھر وہ مجھے ایکو سے ملانے لے گئی۔

ایکو جلانے کے لیے لکڑیاں جنگل سے کاٹ کر لاتی ہے۔ فصلوں کی بوائی اور کٹائی میں حصہ لیتی ہے۔ بھیڑ بکریاں چراتی اور کھانا پکاتی ہے۔ ایکو کو ہمارے رسم و رواج اور کلچر سے عشق ہے۔ اور وہ ان کی ادائیگی جذب سے کرتی ہے۔ وادی گروم کی سڑک پر چلتے اور اس مہ لقا کی باتیں سنتے ہوئے مجھے موپساں کی کہانیاں یاد آئی تھیں جن کے کردار متنوع بڑے منفرد اور انسانی نفسیات کے گُنجلک رویوں کے بہترین عکاس ہوتے ہیں۔

کیا ایکو بھی ایک ایسا ہی کردار ہے؟ میرا اپنے آپ سے استفسار تھا۔

نچلی منزل کے مویشی خانے اور گودام سے گزر کر دوسری منزل کی چند چوبی سیڑھیاں چڑھ کر میں صحن میں آ کھڑی ہوئی۔ کھلی انگنائی سے بڑے کمرے میں داخلہ ہوا۔ وہی مانوس سے منظر دھوئیں سے سیاہ دیواریں اور چھت چارپائیوں پر بکھرے جُلھے گھودیلے۔ گندے مندے برتن بھانڈے جلتی آگ اور راکھ کا ڈھیر۔ دُنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ملک جاپان کی ایکو کالاشی لباس کے سب لوازمات سے سجی سنوری کہیں نقطہ آغاز کی پر اسرار غاروں والے زمانے کے دہانے پر کھڑی اپنے طباق سے چہرے پر بکھری مسکراہٹ لیے بندے کو سوچوں اور حیرتوں کی گھمن گھیریوں میں ڈالتی تھی۔ دو دنیاؤں کا تضاد ذہن پر ضربیں لگاتا تھا۔ اس کا شوہر عام سا کالاشی جوان اور عمر میں اس سے چھوٹا تھا۔

ایکو میری ذہنی دیواروں پر چمٹ گئی تھی۔ ”پُکھ نہ ویکھے سالنا تے عشق نہ پُچھے ذات تے نیند نے ستھرملیا جتھے پہ گئی رات“ والی مثالیں سب ٹھیک۔ پر بھوک نیند اور عشق لوازمات کے بغیر کتنے دن چلتی ہے؟

Facebook Comments HS