میرے بچپن کے دن
بچپن میں ہم گھر والوں سے پشتو، اردو، سرائیکی سن کر کچھ ایسے الجھے کہ اپنی ہی ایک نئی زبان ایجاد کر لی۔ اس کے کچھ منفرد الفاظ بھی تھے۔
مثال کے طور پر ”تھلی؟“
اس کا مطلب یہ پوچھنا ہوتا تھا کہ کوئی چیز کہاں ہے
”تھلی آکھے؟“
یہ احتجاجی یا بڑبڑاہٹ یا خود سے پوچھنے کے مطلب میں ہوتی تھی کہ آخر فلاں چیز کہاں چلی گئی۔
ہم خو کو ”تو“ کہتے تھے اور دوسروں کو ”میں“ کہتے۔
مثلاً تو دودو والی بات ”کا مطلب ہوتا تھا کہ ہمیں دودھ چاہیے۔
”میں“
میں ریڈیو لا دو مطلب کہ آپ مجھے ریڈیو لا دیں۔
کوئی کام ختم ہوتا تو ہم کہتے کہ یہ ابتم (ختم ) ہو گیا ہے۔
گھر کی صفائی کے لیے ایک بڑی عمر کی خاتون آیا کرتی تھیں، ایک دن ہم نے امی سے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو امی نے جواب دیا کہ ”یہ دوسری اماں ہیں۔“ کیونکہ ہماری نانی کو بھی ہم اماں کہتے تھے۔ اب جب بھی وہ گھر آتیں تو ہم چہک کر کہتے کہ ”دوسری اماں آئی ہیں۔“ تو وہ خوش ہو کر ہمیں دعائیں دیتیں۔
دوسرے تو چپلی کباب کھاتے ہیں، ہم نے ایک دن گھر والوں کو ”چپلی پلاؤ“ کھلانے کی کوشش کی تھی۔ ہوا یوں کہ ایک دن گھر میں پلاؤ پکانے کے دوران چاولوں والا برتن آخر میں دم پر رکھا تھا اور نانی اماں یہ دیکھنے کے لیے کہ چاول پک گئے ہیں کہ نہیں، تھالی ہٹا رہی تھیں کہ ہم کھیلتے کھیلتے بھاگتے ہوئے آئے اور اپنا بوٹ۔ اس کے اندر ڈال دیا، نانی اماں نے فوراّ ہی بوٹ کو نکال دیا اور اس کے نیچے موجود اُن چاولوں کو بھی نکال کر پھینک دیا کہ جو بوٹ سے ملیے ہوئے تھے۔
سب گھر والے دوپہر کو سو جاتے لیکن ہم گھر میں کمروں کے دروازوں کے کنڈوں وغیرہ سے کھیلتے رہتے، جماہیاں آتیں، آنکھیں نیند سے بھری رہتی لیکن ہم سوتے نہیں تھے، امی پوچھتیں کہ کیوں نہیں سوتے تو ہم جواب دیتے کہ امی نیند کے لیے آنکھیں بند کرتے ہیں تو آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے۔
ایک دن ہم نے امی سے کہا کہ ہمیں صندوق پر کھڑا کر دیں، جب انہوں نے ایسا کیا تو ہم نے ہاتھ ہلا ہلا کر گھر کی ابتر حالت کے بارے میں ایک تقریر کرنا شروع کی جیسے مقرر ڈائس کے آگے کھڑے ہو کر کرتے ہیں۔ امی حیران ہوئیں کہ بظاہر تو یہ اپنے کھیلنے میں مگن رہتا ہے مگر اپنے ارد گرد کی باتوں کو سمجھتا ہے۔ گو کہ یہ تقریر بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف رہی۔
ایک آدمی جس سے تھوڑا جھگڑا بھی تھا، سے امی ماموں کے ہمراہ بات کرنے اُس کے دفتر گئیں تو وہ اچھا خاصا اکھڑ بول رہا تھا، ہم ساری باتیں سن رہے تھے، نہ جانے ہمیں کیا سوجھی کہ اُس کے دفتر کے باغیچے سے پھول اکٹھے کر کے اُن کا ایک گل دستہ بنا کر اُس کو پیش کیا تو وہ بہت خوش ہوا، اُس کی آنکھیں نم ہو گئیں اور اُس کا رویہ بھی ٹھیک ہو گیا۔
ہم کبھی پیالی میں چائے پیتے تو کبھی گلاس میں۔ جب کبھی پیالی میں چائے پینا چاہتے تو کہتے کہ امیاں آج ”پالی تاء“ دیں۔ یعنی پیالی میں چائے دیں۔ جب گلاس میں چائے پیا چاہتے تو کہتے کہ آج ”گا تاء دیں“ یعنی گلاس میں چائے دیں۔
گھر میں بطخیں پالی ہوئی تھیں تو اُن کو ”بطا“ کہتا، گھر میں مرغیاں بھی تھیں تو اُنہیں ”گگی“ کہتا اور سیسمی سٹریٹ کے ”بگ برڈ“ کو ”گجی“ کہتا۔ جب کبھی موقع ملتا تو بطخوں اور مرغیوں کو گھر کے صحن میں دوڑانا شروع کر دیتا اور ساتھ ہی کہتا بھی جاتا کہ ”بطا گاگا، گگی گاگا“ مطلب بطخو چلو، مرغیو چلو
کسی خراب چیز کو خراب کہنے کی بجائے ”کُلی“ کہتا۔
جب گھر والوں کو ہنسا نا چاہتا تو کہہ دیتا ”گلیظ“ یعنی غلیظ۔ گھر والے ہنس کر کہتے کہ اچھا ہم غلیظ ہیں تو تم کیا ہو۔ اس پر ہم ہنس کر کہتے کہ ”گلی جان“ یعنی غلیظ کی جمع۔
چھوٹا بھائی بھی اچھا ذہین تھا۔ ہمارے ساتھ کھیلتا اور اس نے بھی اپنی زبان ایجاد کی۔ ہمیں ”اداء“ کہتا جو سندھی میں بھائی کو کہتے ہیں لیکن ہم سندھ سے بہت دور رہتے تھے اور ہمارے جاننے والوں میں بھی کوئی سندھی نہیں تھا، خدا جانے اُس نے کہاں سے یہ لفظ سیکھ لیا تھا۔
گھر والے کوئی چیز ڈھونڈ رہے ہوتے تو وہ اُس چیز کو ڈھونڈ کر اُس کے پاس کھڑا ہو جاتا اور کہتا کہ یہ چیز میرے پھامنے (سامنے ) ہی پڑی ہے۔
امی مجھے نرسری کی نظمیں وغیرہ پڑھانے کی کوشش کرتیں، ان میں ایک ”منی کا گھوڑا“ نام کی نظم بھی تھی۔ چھوٹا بھائی ابھی دودھ ہی پی رہا تھا کہ وہ بھی توتلی آواز میں خود ہی یہ نظم دوہرانا شروع ہو گیا۔ اسی طرح ایک سے سو تک گنتی بھی خود ہی سیکھ گیا۔
آج کل وہ نائنٹی ٹو نیوز میں کرکٹ پر مضامین لکھتا ہے۔ ہم ماہنامہ گلوبل سائنس اور سرگزشت میں لکھتے لکھتے یہاں آئے ہیں۔


