ایک دن کا مجسٹریٹ


نوے کی دہائی کا زمانہ تھا وطنِ عزیز کی دو مشہور و معروف سیاسی پارٹیاں میوزیکل چیئر کی دلچسپ اور منعفت بخش گیم سے خوب لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ قانون سازی کے علاوہ ہمارے محترم پارلیمنٹیرینز کو دنیا جہان کے کام تھے کیوں کہ ترقیاتی فنڈز بھی انہی کے ذریعے خرچ ہوتے تھے اس لیے لوکل کونسلیں انہیں وارا نہیں کھاتی تھیں۔ لیکن پھر بھی دنیا دکھاوے کے لیے کبھی کبھار مقامی یونین کونسلوں کے انتخابات بھی کرا دیے جاتے تھے اور اب بھی بھاری دل کے ساتھ یہ انتخابات کروائے جا رہے تھے۔

ان انتخابات کے انعقاد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے بندہ نا چیز کو بھی دفعہ 30 کے مجسٹریٹ کے اختیارات کے ساتھ ایک نواحی گاؤں میں پریذائیڈنگ افسر تعینات کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں الیکشن سے دو تین دن پہلے تحصیل کے اُن تمام لوگوں کو مقامی کالج کے ہال میں ٹریننگ کے لیے بلوایا گیا جن کی الیکشن میں ڈیوٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ان لوگوں کو الیکشن سے متعلقہ جملہ امور کی ٹریننگ دینا تھی۔ اس نے ٹریننگ کے سلسلہ میں تو کوئی خاص ہدایات جاری نہ کیں لیکن الیکشن ڈیوٹی دینے والوں کو اس قدر ڈرایا دھمکایا کہ کم ازکم اپنی حد تک تو ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ ہماری آزادی کے یہ دو چار روز ہی باقی ہیں۔ کیونکہ الیکشن کے بعد تو ہمیں لازمی طور پر اندر ہی ہونا ہے۔ اگر ڈیوٹی نہ دیں تو بھی اور اگر ڈیوٹی دیں تو بھی نہ جائے ماندن نہ پانے رفتن والی بات تھی۔ بہرحال ہرچہ بادا باد کا نعرہ لگاتے ہوئے آنے والے کڑے وقت کا انتظار کرنے لگے۔

الیکشن سے ایک روز پہلے حسبِ ضابطہ نام نہاد مجسٹریٹ دفعہ 30 نے الیکشن آفس سے اپنی ٹیم کے ہمراہ الیکشن سے متعلقہ ساز و سامان وصول کیا۔ جو لوہے کے چار عدد بڑے بڑے بیلٹ باکسز اور کپڑے کے دو تھیلوں پر مشتمل تھا۔ الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ اس سارے ساز و سامان کو میرے حوالے کر کے اپنی الیکشن سے متعلقہ تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو چکی تھی میں نے بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایک ایک بیلٹ باکس کو سٹاف کے ایک ایک فرد کے سپرد کر کے اُن سے وصولی کی رسید لے لی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے اور انہیں تاکید کر دی کے شام پانچ بجے تک معہ اس ساز و سامان کے متعلقہ پولنگ اسٹیشن پر رپورٹ کریں۔

میں نے کپڑے کے وصول شدہ دونوں تھیلوں کو جن میں سے ایک میں درجنوں قسم کے فارم، الیکشن کے انعقاد سے متعلق ایک عدد ہدایت نامہ اور دوسرے کاغذات تھے جبکہ دوسرا تھیلا سر بمہر تھا جس میں بیلٹ پیپر اور اس سے متعلقہ دوسرا ساز و سامان تھا جس کو بقلم خود میں نے اپنی ذاتی تحویل میں لے لیا۔ گھر آ کر ہدایت نامہ بابت الیکشن پڑھنا شروع ہوا تو ایک دم سے احساس ہوا کہ حکومت وقت نے صرف دفعہ 30 کے مجسٹریٹ کے ہی اختیارات نہیں دیے بلکہ دیگر بہت سی دیدہ و نادیدہ اور غیر مرئی و مرئی قوتوں سے بھی نواز دیا ہے۔

کیوں کہ اُن تمام قوتوں کے بغیر ہدایت نامہ برائے الیکشن میں تفویض کیے گئے کاموں کی تکمیل ممکن نہ تھی۔ مثلاً صبح ساڑھے سات بجے عملہ اور امیدواران کے ایجنٹ پولنگ سنٹر پر موجود ہوں عدم موجودگی کی صورت میں مجسٹریٹ صاحب ذمہ دار ہوں گے لیکن جس طرح ذمہ دار کے ساتھ سابقے اور لاحقے لگائے گئے تھے مجھے کچھ یوں سمجھ آیا بصورت دیگر مجسٹریٹ اندر ہو گا۔

الیکشن شروع کروانے سے پہلے ایجنٹ حضرات کے الیکشن کے آغاز سے متعلقہ پروفارما پر دستخط نہ ہوئے تو مجسٹریٹ اندر۔ الیکشن مقررہ وقت کے بعد شروع ہوئے تو صاحب بہادر اندر۔ پہلے شروع ہوئے تو اندر۔ پولنگ سٹیشن پر ہنگامہ آرائی ہوئی تو اندر۔ پولنگ رُک گئی تو اندر۔ مقررہ وقت سے پہلے کام ختم کر لیا تو اندر۔ اور اگر نہ ہوا تو اندر۔ غرض کہ اس سارے ہدایت نامے سے مجھے ایک بات کا یقین تو ہو گیا تھا کہ آج کا دن میری آزادی کا آخری دن ہے کل تو بچاؤ کی کوئی صورت نہیں ہے۔

بہرحال اس کتابچے کے بقیہ حصے کے مطالعے کو لاحاصل سمجھتے ہوئے میں نے تھوڑے علم پر ہی اکتفا کرنے کو کافی خیال کرتے ہوئے اسے ترک کیا۔ حسبِ ہدایت ٹھیک پانچ بجے شام میں اپنے پولنگ سٹیشن پر موجود تھا۔ عملہ بھی پہنچا ہوا تھا پولیس کے دو سپاہی دو رضا کار اور ایک نوجوان اور مستعد اے ایس آئی بھی وہاں ڈیوٹی پر موجود تھے۔ میں نے سب سے پہلے ان کے ساتھ میٹنگ کی اور اپنے اوپر آنے والے دباؤ کو بڑی سہولت کے ساتھ اُن لوگوں پر منتقل کر دیا۔

کچھ حالتوں میں سٹاف کو اور دیگر کچھ حالتوں میں پولیس ملازمین کو اندر ہونے کی خبر سے واشگاف الفاظ میں مطلع کر دیا گیا اور ساتھ ہی واضح کر دیا کہ اس کام کے لیے مجھے صرف دو لائنیں لکھ کر دستخط کرنا ہوں گے سزا ہو جائے گی۔ میری ایسی باتوں سے لوگ گھبرائے ہوئے بھی تھے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ کافی مستعدی بھی دکھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے بعد میں نے اے ایس آئی کو بلایا او ر اس سے پوچھا کہ نمبردار، چوکیدار اور ونگاری یہاں موجود کیوں نہیں ہیں انہیں پتہ نہیں ہے کہ کل الیکشن ہو رہے ہیں اور وہ گھروں میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں۔

اُن تینوں کو فوراً یہاں پر پیش کرو گاؤں میں یہ تینوں افراد بھی حکومتی مشینری کا باقاعدہ حصہ ہوتے ہیں۔ نمبردار کو ایسے مواقع پر حکومتی سہولت کاری کے عوض آدھا مربع زرعی زمین دی جاتی ہے اسی طرح چوکیدار اور ونگاری نمبردار کا ماتحت عملہ ہوتا ہے اور انہیں سرکار کی طرف سے دو دو ایکٹر زمین دی جاتی ہے کیوں کہ میں خود بھی گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں اس لیے اس دیہی سیٹ اپ سے بخوبی واقف تھا۔

نمبردار کے آتے ہی میں نے اس کی ڈیوٹیاں لگانا شروع کر دیں۔ سارے عملے کے لئے چارپائیوں، بستروں اور رات کے کھانے کا انتظام کرو۔ یہ فرنیچر کی لسٹ لے لو اور فوراً منگوا کر دو ہم ان لوگوں کی آمد سے پہلے الیکشن کے سلسلہ میں پوری منصوبہ سازی کر چکے تھے۔ الیکشن بوتھ کہاں کہاں بنائے جائیں گے۔ بیلٹ پیپرز پر مہریں لگانے کے انتظامات کیا ہوں گے۔ پولیس کا عملہ کہاں کہاں ڈیوٹی دے گا۔ پریذائیڈنگ افسر اپنی کچہری کہاں لگائے گا۔ دفتر کی جگہ کچہری کی اصطلاح کا استعمال جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ اے ایس آئی کی ڈیوٹی میں نے اپنے ساتھ ہی لگا دی۔ اس نے ہمہ وقت میرے ساتھ ہی رہنا تھا اور احکامات پر عمل درآمد کرانا تھا۔

نمبر دار کو پابند کر دیا تھا کہ بغیر اطلاع کے کہیں نہیں جائے گا اور آنے والے دن کی صبح، دوپہر اور رات کو تمام عملے کے لیے کھانے کے انتظامات بھی کرے گا۔ چوکیدار اور ونگاری کو الیکشن کے خاتمے تک پولنگ اسٹیشن پر ڈیوٹی دینے کے لیے پابند کر دیا گیا۔ ان سارے کاموں میں تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے صرف ہو چکے تھے۔ میرے ساتھ چار اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسر اور آٹھ پولنگ افسران کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ میں نے نسبتاً ادھیڑ عمر کے ایک اسسٹنٹ کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ میں اب بورے والا واپس جا رہا ہوں میری جگہ ٹیم انچارج آپ ہوں گے نمبردار کو صبح کا ناشتا بنا کر لانے کا وقت دے دینا ناشتہ وغیرہ کر کے اور دیگر کام نمٹا کر تم لوگوں کو ساڑھے سات بجے تک پولنگ کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے اس وقت تک میں پہنچ جاؤں گا۔

اگلے روز معمول کی کارروائی مکمل کر نے کے بعد تقریباً وقت پر ہی پولنگ شروع کروا دی گئی۔ یہ زنانہ پولنگ اسٹیشن تھا خواتین کے ووٹ ڈالے جا رہے تھے میں نے آغاز سے ہی اپنے عملے کو سختی سے ہدایات جاری کر دی تھیں کہ خواتین کے ساتھ بڑے ادب اور احترام کے ساتھ پیش آنا ہے۔ پولیس فورس کو خصوصی طور پر تنبیہ کی گئی کہ آپ نے کسی بھی خاتون کو ہاتھ نہیں لگانا۔ اگر ایسی ضرورت محسوس ہو تو آپ نے مجھے اطلاع دینی ہے خود کوئی ایکشن نہیں لینا۔

پولنگ سکون سے جاری تھی۔ کبھی کبھار کسی پولنگ بوتھ پر کوئی نہ کوئی خاتون ایجنٹ چھوٹی موٹی بات پر جھگڑا کرنے کی کوشش کرتی تو وہاں پر موجود اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسر اسے اپنی سطح پر خود ہی حل کر لیتا میں نے بلاوجہ ایسے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے گریز کیا اور ایک روایتی پاکستانی افسر کی طرح منہ پھلا کر خاموشی سے بیٹھنے کو ہی غنیمت جانا۔ اب میں نے ہمیں دیے گئے درجنوں قسم کے پر فارموں اور لفافوں کو پڑھنا شروع کر دیا اُن میں سے صرف دو فارم ہی سمجھ میں آئے ایک پر حاصل شدہ ووٹوں کا اندارج کرنا تھا اور دوسرے پر بیلٹ پیپرز کا حساب کتاب درج کرنا تھا۔

کاغذات میں موجود بیشتر فارموں کی نوعیت میری سمجھ بوجھ سے خاصی اوپر تھی اس لیے میں نے انہیں سمجھنے کی کوشش ترک کر دی۔ میری میز کے اوپر نیچے اور اردگرد فارموں اور لفافوں کے ڈھیر کچھ اس بے ترتیبی سے موجود تھے کہ وہاں سے کسی خاص کاغذ کو تلاش کر لینا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ کلیریکل کام سے مجھے شروع سے ہی چڑ رہی ہے۔

کسی زمانے میں ہم اپنی تنخواہ کے بل خود ہی بنا کر اکاؤنٹ آفس بھجوایا کرتے تھے۔ مجھے پوری عمر اپنی تنخواہ کے بل بنانا نہیں آیا۔ ہر ماہ بڑی باقاعدگی سے بشیر صاحب کی منت سماجت کرتا اُن سے جھڑکیاں کھاتا اور پھر وہ بل بنا کر دیتے۔ بشیر صاحب میرے گاؤں کے رہنے والے تھے وہ میرے دوست اور کولیگ تھے وہ بُڑ بُڑ بھی کرتے جاتے اور میرے ایسے کام بھی کرتے جاتے۔ بہرحال آج پر کرنے والے لفافوں اور فارموں کی تعداد اور نوعیت دیکھ کر مجھے یقین ہو چکا تھا کہ یہ میرے بس کا روگ نہیں ہے۔ پولنگ کا عمل نسبتاً سکون سے جاری و ساری تھا اور مجھے بھی اس بات کا احساس تھا کہ اصل کام تو پولنگ کروانا، ووٹوں کی گنتی کرنا اور اس کا درست اندراج کرنا ہے۔

باقی تمام فارم اور لفافے سب کے سب ضمنی حیثیت کے حامل ہیں۔ اس لیے میں کسی حد تک مطمئن بھی تھا میں نے ایک اچھے اور ذمہ دار ایڈمنسٹریٹر کی طرح دوپہر کا کھانا الیکشن کے انعقاد کے بعد کھانے کا فیصلہ کیا اور نمبردار کو اطلاع بھجوا دی گئی کہ کھانا الیکشن کا وقت ختم ہونے کے بعد لایا جائے۔ تقریباً ڈیڑھ دو بجے کا وقت تھا کہ چوکیدار بھاگا بھاگا میرے پاس آیا اور بولا کہ گاؤں کے چار پانچ بزرگ آپ سے ملنا چاہتے ہیں اب میں سوچ میں پڑھ گیا کہ کیا کروں۔

خواتین کے پولنگ سٹیشن پر ان مردوں کو آنے کی اجازت دوں یا روک دوں کیونکہ سارا کام بڑے امن چین سے چل رہا تھا اس لیے میں نے چوکیدار سے کہا کہ ان بزرگوں کو بلا کر میری کچہری سے تھوڑی دور ایک طرف پڑی ہوئی چارپائیوں پر بٹھائے میں فارغ ہو کر اُن سے ملاقات کرتا ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد پگڑیاں باندھے اور ہاتھوں میں لاٹھیاں پکڑے ہوئے پانچ بزرگ افراد آ کر چارپائیوں پر بیٹھ گئے میں تھوڑی دیر کے بعد اُن کے پاس گیا اور اُن سے دریافت کہ کیا بات ہے ایک بابا بولا صاحب ہم آپ سے ناراض ہیں آپ نے ہمارے ساتھ اچھی نہیں کی میں نے کیا کیا ہے وہ بولا کہ ہماری چھوہری گام کی سب سے بڑی ایجنٹ ہے تم نے چھوٹی ایجنٹوں کے انگوٹھے تو لگوا لیے لیکن اس بڑی والی کے انگوٹھے کیوں نہیں لگوائے میں نے پوچھا اس کے علاوہ کوئی اور شکایت تو نہیں ہے وہ بولے ناں سرکار باقی سب ٹھیک ہے۔ میں نے کہا کہ اپنی چھوہری نے بلواؤ اُن میں سے ایک نے آواز دی اری چھیداں اورے آئیو ایک بوتھ سے ایجنٹوں کی سیٹوں میں سے ایک لڑکی اٹھ کر ہمارے پاس آ گئی میں نے اپنے میز کے اوپر سے ایک فارم اٹھا کر اس پر اس لڑکی کا انگوٹھا لگوا لیا اور اُن لوگوں سے پوچھا اب آپ خوش ہیں وہ بولے ہم خوش ہمارا خدا خوش۔

اب میں بھی تھوڑا سا فری ہو گیا تھا میں نے کہا کہ آپ بھی کیا یاد کریں گے اری چھوہری ادھر آئیو اور دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا بھی لگائیو اور ساتھ ہی اسی فارم پر اس کا دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا بھی لگوا لیا اور اُن سے کہا کہ اب خوش خوش گھر جائیو کہ تمہاری چھوہری کے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے لگے ہیں اور وہ بابے واقعی اسی بات پر خوش خوش واپس گھر کو لوٹ گئے۔ بقیہ وقت بھی بخیر و خوبی پر امن طریقے سے گزر گیا۔ پولنگ کے وقت کے اختتام پر سارے سٹاف نے کھانا کھایا اس کے بعد امیدواروں کے ایجنٹوں کو ساتھ بٹھا کر ووٹوں کی گنتی کی گئی اور اس کے بارے میں ایجنٹ حضرات کی بھی اچھی طرح سے تسلی کروانے کے بعد نتیجے کے فارم پر ان کا اندراج کر کے اس پر ایجنٹوں کے دستخط لے کر انہیں فارغ کر دیا گیا۔

اصل کام تو ہو چکا تھا لیکن اس کے ضمنی لوازمات فارموں اور لفافوں کے ایک بڑے سے ڈھیر کی صورت میں میرے سامنے پڑے میرا منہ چڑا رہے تھے اب اندھیرا ہو چکا تھا اور سکول میں بجلی بھی نہیں تھی ایک تو لالٹینوں کی مدھم روشنی میری کمزور نظر، کلرکانہ نا اہلیت اور فارم پُر کرنے کے سلسلے میں عدم واقفیت ان سب عوامل نے مل جل کر مجھے مضمحل سا کر رکھا تھا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر میرا ایک اسسٹنٹ آگے بڑھا اور اس نے بغیر کسی تردد کے ازخود تمام معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اس نے ڈھیر میں سے ایک لفافہ اٹھایا اس پر لکھا نور محمد اور بولا نور محمد کے حاصل کردہ ووٹ ادھر ڈالو اس نے ایک ایک کر کے امیدواران کے ووٹ اُن کے علیحدہ علیحدہ لفافوں میں ڈال دیے۔ ووٹوں کی گنتی ہم نے نہایت ہی سادہ اور دیسی انداز میں کی تھی ایک ایک کینڈیڈیٹ کے ووٹ ایک ایک ڈیوٹی افسر کی جیب میں ڈالتے چلے گئے اور اب یہی ووٹ جیبوں سے متعلقہ لفافوں میں منتقل ہو رہے تھے۔

جب کینسل شدہ ووٹوں کی باری آئی تو جس آدمی کو یہ ووٹ تھمائے گئے تھے وہ گھبرائے ہوئے انداز میں اپنی تمام جیبوں میں باری باری ہاتھ مار رہا تھا لیکن ووٹ ندارد میں نے اس سے پوچھا تم یہاں سے اٹھ کر کہیں اور گئے تھے وہ بولا کہ اس دیوار کے پاس پیشاب کرنے کے لیے گیا تھا میں نے کہا کہ آؤ وہاں دیکھتے ہیں۔ اب سارا عملہ تین چار لالیٹنیں ہاتھ میں لیے اسی راستے پر جھک جھک کر زمین پر مسترد شدہ ووٹوں کو تلاش کرتا ہوا جا رہا ہے۔

تھوڑی ہی دیر کے بعد اسی متعلقہ شخص نے زمین سے ایک پڑیا سی اٹھائی اور اس کو کھول کر گننے لگا ایک، دو ، تین، چار سر پورے اٹھارہ کے اٹھارہ کینسل ووٹ مل گئے ہیں۔ خدا کا شکر ادا کیا اور اُن کو متعلقہ لفافے میں بند کر دیا۔ ابھی ہم کلوزنگ کے قریب ہی پہنچے تھے کہ ہم نے دیکھا کہ بارہ چودہ آدمیوں کا ایک گروپ ہاتھوں میں لالٹینیں اور دوسرا ساز و سامان اٹھائے سکول میں داخل ہوئے قریب آنے پر معلوم ہوا کہ وہ مردانہ پولنگ اسٹیشن کا عملہ ہے اور ہم سے کاغذات کی تیاری کے سلسلے میں مدد کا خواہاں ہے۔

کہاں ہم کہاں یہ مقام اللہ اللہ بہرحال اب ہم خاصے تجربہ کار ہو چکے تھے۔ لیکن پھر بھی کام نمٹاتے نمٹاتے صبح کی اذانیں ہو گئیں۔ میں نے اے ایس آئی سے کہا کہ فوراً بورے والا جانے کے لئے کنوینس کا بندوبست کرو۔ اُس نے بتایا کہ اُس نے رات سے ہی ایک ویگن روک رکھی ہے۔ ابھی ہم یہی باتیں کر رہے تھے کہ ایک بابا جی ڈانگ سمت وہاں آ دھمکے۔ اس نے آتے ہی دریافت کیا صاحب کون ہے۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا تو وہ مجھ سے یوں مخاطب ہوا صاحب کل تم نے ہماری چھوہری سے پن لیا تھا وہ اُسے واپس نہیں کیا میں نے سوچا کہ اتنے رش میں اگر پن لیا بھی تھا تو وہ اب کہاں سے ملے گا میں نے خاموشی سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پچاس روپے نکال کر بابے کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہ چھوہری کے پن کا تو مجھے اب علم نہیں ہے آپ اُسے ان پیسوں سے نیا پن خرید دیجئے گا۔

اس بات پر بابا بگڑ گیا صاحب کیا کرتے ہو پن ہماری چھوہری کا ہے وہ گام سے باہر نہیں جانا چاہیے اور اگر چھوہری کا پن کسی چھوہرے کے ہاتھ لگ گیا تو کیا ہو گا۔ اب یہ نیا رپھٹر تھا بہر حال میں نے بابے سے کہا کہ آپ آرام سے گھر جائیں کام کرنے والا عملہ اکٹھا ہو تا ہے تو اس سے پتہ کرتے ہیں۔ بابے کے جانے کے بعد میں نے اے ایس آئی سے فوراً ہی ویگن لے کر آنے کو کہا ہم نے الیکشن سے متعلقہ سارا سامان ایک بڑے سے تھیلے میں بند کر کے اُسے سیل کر دیا تھا۔

ویگن آنے پر سب لوگ جلدی جلدی اس میں سوار ہو گئے۔ جب سٹاف پورا ہو گیا تو ویگن بورے والا کی طرف روانہ ہوئی۔ ابھی ہم سکول کا گیٹ کراس کر ہی رہے تھے کہ اچانک میرے ذہن میں الیکشن سے متعلقہ تھیلے کا خیال آیا۔ میں ڈرائیور کے ساتھ والی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے پیچھے کی طرف منہ موڑ کر پوچھا تھیلا رکھ لیا تھا۔ پچھلی سیٹ والے نے بھی اسی طرح اپنے پیچھے بیٹھے ہوئے آدمی سے دریافت کیا کہ تھیلا رکھ لیا تھیلے کی یہ کھوج آخری سیٹ پر بیٹھے ہوئے فرد تک جا پہنچی۔

لیکن تھیلا کہیں بھی موجود نہیں تھا۔ فوراً ویگن کو واپس موڑا گیا تو تھیلے کو الیکشن کمیشن کی سیل کا طرہ باندھے بڑی ٹوہر کے ساتھ ایک چارپائی کے درمیان میں تشریف فرما پایا۔ اُسے اٹھا کر ویگن میں رکھا اور ہم بورے والا پہنچ گئے۔ تحصیل کمپلکس میں پراجیکٹ منیجر اصغر صاحب بیٹھے ہوئے الیکشن کا سامان وصول کر رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بولے آپ کہاں گم ہو گئے تھے تمام پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج آچکے ہیں ابھی ہم آپ کو ڈھونڈنے کے لیے نکلنے ہی والے تھے میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا کہ تمہیں باتیں آتی ہیں آرام سے دفتر میں بیٹھے ہوئے ہو تمہیں کیا پتہ کہ ہم کتنی مشکلوں سے گزر کر آرہے ہیں۔

وہ بولا چلیں جی سامان جمع کروائیں۔ لائیں یونین کونسل کا تھیلا میرے پاس جو تھیلا تھا میں نے اُسے دے دیا۔ اب لائیں ضلع کونسل کا تھیلا میں نے کہا کہ میرے پاس بس یہی ایک تھیلا ہے اسی میں یونین کونسل اور اسی میں ضلع کونسل کے کاغذات ہیں۔ وہ بولا کہ یہ ایسے نہیں چلے گا آپ انہیں الگ الگ دو تھیلوں میں بند کریں۔ سٹاف کے دو آدمی ابھی میرے ساتھ تھے میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں اُن سے کہا کہ اسے کسی کمرے میں لے جاؤ اور دو حصوں میں تقسیم کر کے ان کے سر پر دے مارو اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ ایک دن کا مجسٹریٹ چوبیس گھنٹے لگاتار ذہنی اور جسمانی مشقت کے بعد اپنی مجسٹریٹی کو الیکشن کمیشن کے دفتر میں جمع کروانے کے بعد بخیر و عافیت اپنے گھر میں پہنچا تو اس کا دل بے ساختہ یہ نعرہ لگانے کو کر رہا تھا کہ جان چھوٹی سو لاکھوں بائے۔ لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ایک دن کا مجسٹریٹ

  • 01/08/2024 at 10:51 شام
    Permalink

    ہم قرون وسطی کے دور میں رہ رہے ہیں۔ جان بوجھ کر الیکشن کا سسٹم سیاستدانوں نے اتنا کمزور اور لوپ ہول سے مزین رکھا ہے کہ وہ جب جب چاہیں موم کی ناک کی طرح مطلوبہ نتائج حاصل کرلیں۔ یہ اور بات ہے الزام وہ آب پارہ پر دھرتے ہیں جب کہ ان کا چاہے دور دور تک الیکشن ڈیوٹی اور نتائج مرتب کرنے میں کوئی کردار نہ ہو۔

Comments are closed.