ایک لنگڑے سپاہی کی کہانی


ہمارے پاس ایک ہٹاچی لومینر بلیک اینڈ وائٹ ٹی۔ وی ہوا کرتا تھا، جس کا سلائیڈنگ فریم اور چوبی ٹانگیں اِسے ایک خاص طرح کی انفرادیت اور شان عطاء کرتی تھیں۔ بارسلونا اولمپکس اور بانوے کا کرکٹ ورلڈ کپ ہم نے اِسی ٹی۔ وی پر دیکھا اور مکی ماؤس، پنک پینتھر اور وڈی وڈ پیکر جیسے کارٹونز بھی۔ پھر یہ ٹی۔ وی پرانا ہو گیا۔ کبھی اِس کی سکرین پر کیڑے مکوڑے ناچنے لگتے تو کبھی یہ ششکاریاں مار کر بند ہو جاتا، دوبارہ آن کرنے کے لیے اِسے زور زور سے تھپتھپانا پڑتا۔ پھر آہستہ آہستہ معاملات تھپتھپاہٹ سے نکل کر تشدد کی حدود میں داخل ہو گئے۔ ہم پانچوں بہن بھائیوں نے اِسے مار مار کر اِس کی ٹانگیں اور فریم توڑ دیے مگر یہ جاپانی سورما بدستور ہمیں پی۔ ٹی۔ وی اور ایس۔ ٹی۔ این دکھاتا رہا۔

اِس لنگڑے سپاہی نے سالہا سال تک ہمارے خاندان سے وفاداری نبھائی۔ نئے گانے اور پرانی فلمیں ہی نہیں، اٹلانٹا اولمپکس، چھیانوے کا ورلڈ کپ اور ”الفا براوو چارلی“ بھی ہم نے اِسی کی سال خوردہ سکرین پر دیکھے۔ پھر ایک روز اِس کی سکرین تڑخ گئی اور اِس کا جسم چکنا چور ہو گیا تو اِسے گدھا ریڑھی پر بٹھا کر کسی ایسے مقام کی جانب روانہ کر دیا گیا، جہاں سے یہ کبھی واپس نہیں آیا۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب اِسے لے جایا جا رہا تھا تو میں بہت خوش تھا۔ کیوں نہ خوش ہوتا؟ باقی لوگوں کی طرح ہمارے گھر بھی ایک کلر ٹی وی آنے والا تھا، جسے چلانے کے لیے اُسے مارنے کی ضرورت نہیں تھی، جس پر وڈیو گیمز کھیلی جا سکتی تھیں، اور جو بہار اور دھنک کے رنگ دکھا سکتا تھا۔

کئی برسوں تک مجھے اِس کا خیال بھی نہیں آیا۔ پھر ایک روز میں نے ایک بلیک اینڈ وائٹ خواب دیکھا، جس میں ایک چار سالہ بچہ چوبی ٹانگوں اور سلائیڈنگ فریم والے ایک ٹی وی کے سامنے بیٹھا کارٹون دیکھ رہا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھ ماری اور کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

جب میں جاگا تو میرا جسم پسینے سے شرابور تھا اور میری آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ ٹی۔ وی نہیں بلکہ میرا مرا ہوا دوست ہے، جس کا تحفظ اور سلامتی میری ذمے داری تھی؛ مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میں بھی اُس لنگڑے سپاہی کی مانند ٹوٹ کر چکنا چور ہو جاؤں گا تو میری مرمت کروانے کے بجائے مجھے کسی کباڑی کے حوالے کر دیا جائے گا۔

Facebook Comments HS