کھڑکی بھر چاند


دور جدید میں انسانی زندگی پر سوشل میڈیا کے یلغار نے دیگر معمولات کی طرح کتب بینی کو بھی شدید متاثر کیے رکھا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اب بُک کی جگہ فیس بُک اور ریڈر یا رائٹر کی بجائے ٹویٹر کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا رجحان جہاں انسان کے لئے آسانیوں کا باعث ہے، وہی پر یہ انسان کے اندر سے تخلیقی صلاحیتیں کھو دینے کا بھی سبب بن رہا ہے۔ کسی زمانے میں اخبار و رسائل اور کتب بینی مشغلہِ عام تھا جو اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ مایوسی مگر پھر بھی نہیں۔ سماجی نفسانفسی کے اس عالم میں ادبی دنیا کے ایسے انمول ہیرے موجود ہیں جو اپنے فنون و علوم کے ذریعے دشتِ صحرا کو گل و گلزار بنا دیتے ہیں۔

پروفیسر احمد سلیم سلیمی کا شمار گلگت بلتستان کے علم و ادب کے ان روشن ستاروں میں ہوتا ہے جو اپنی شاعری اور نثری فنون سے اس تعفن زدہ سماج میں علم و حکمت کی خوشبو کی خوشبو پھیلاتے ہیں۔ برسوں قبل شکست آرزو اور دہشت آرزو کے مطالعے سے گمان نہیں ہو رہا تھا کہ گلگت کی سرزمین نے بھی اُردو ادب کے ایسے ہیرے جنم دیے ہوں جن کی تخلیقی و ادبی صلاحیتوں پر دنیا رشک کرتی ہو۔ مگر رفتہ رفتہ جب ان کی شخصیت سے متعلق جانکاری ہوئی تو دل میں ابھرا ہوا گمان اس یقین میں بدل گیا کہ ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی“ ۔ لیکن بدقسمتی دیکھیں کہ عرصہ دراز سے ایک ہی شہر میں بسنے کے باوجود سلیمی صاحب سے اب تک کوئی بالمشافہ ملاقات کا شرف تو حاصل نہ ہوسکا، مگر ان کی تحریر و تقریر کی جادوئی نے مجھے جیسے ہزاروں طالب علموں کو ان کا گرویدہ بنا دیا۔

مجھے وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہیں جب کالجوں اور یونیورسٹی کی فری کلاسوں میں سلیمی صاحب کے افسانوں کا چرچا اور لائبریریوں میں ان کی تصانیف کے حصول کے لئے قطاریں لگ جاتی تھیں۔ ایک عرصے بعد قارئین کی ادبی چاشنی کے لئے حدیث دل کی صورت میں ایک نئی کتاب، پھر ایک طویل انتظار کے بعد ”کھڑکی بھر چاند“ جیسا عظیم شاہکار سلیمی صاحب کی علمی دولت میں ایک نئے خزانے کا اضافہ ہے۔

”کھڑکی بھر چاند“ جس قدر نام سے متجسس ہے، اسی طرح مطالعے میں بھی انتہائی دلچسپ اور پُر تجسس ہے۔

اس کتاب کے ٹائٹل پر ایک قبائلی نوجوان ہاتھ میں بندوق لئے چوکس ہے۔ ساتھ میں ایک مضطرب دوشیزہ پریشانی اور سوچ میں گم دکھائی دے رہی ہے۔ عقب میں ایک کھڑکی سے دور پہاڑی پر آدھا چاند چمکتا نظر آ رہا ہے۔ یہاں پر مصنف کا اشارہ اس چاند کی طرف نہیں جو تصویر میں دکھتا ہے بلکہ اس چاند کی طرف ہے جو حنا کے روپ میں سلمان کے دل کی کھڑکی پہ روشن تو ہوئی مگر جلد ہی یہ کھڑی بھر چاند فنا کے بے کنار سمندر میں ہمیشہ کے لئے اتر گیا۔

کتاب کے اسلوبِ بیاں میں ادبی چاشنی، الفاظ کے چناؤ میں شگفتگی، جملوں میں روانی، علاقوں کی منظرکشی اور مکالمہ نگاری ناول کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ سب سے خوبصورت پہلو تو اس کا انتساب ہے۔ یہ حصہ ہمارے ہاں عموماً اپنے والدین، اساتذہ، بہن بھائی یا خاوند بیوی کے نام سے منسوب کرنے کی روایت ہے، مگر سلیمی صاحب نے اس روایت کو توڑتے ہوئے اپنی نئی تصنیف کو گلگت بلتستان کے عظیم شاعر جمشید خان دکھی (مرحوم) سے منسوب کر کے اپنی علمی پختگی و فراغ دلی کا عملی ثبوت دیا ہے۔

”کھڑی بھر چاند“ دراصل سلیمی صاحب کی تخلیقی و تخیلاتی کاوشوں کا مجموعہ ہے جسے مختلف کرداروں کی لڑی میں پیرو کر ناول کی صورت میں شائع کیا ہے۔ ناول کا مختصر تعارف یہ کہ یہ ”گلگت بلتستان کی پراسرار وادیوں، جنگلوں میں گھومتی پھرتی محبت، نفرت اور انتقام کی ایک آتش ناک داستان ہے“ ۔ سلمان احمد اور حنا اس ناول کے مرکزی جبکہ جمشید، نمبردار عنایت، جمدر، فقیر اللہ، شکرال، سردارنی سمورا، تکاشہ اور شمیمہ خاتون وغیرہ ضمنی کردار ہیں۔

یہ ناول گلگت بلتستان میں معاشرتی برائیوں، سماجی رویوں، قبائلی رسوم و رواج، رجعت پسندی، نفرت، حرص، لالچ، ضِد، ذاتی خواہشات کی تکمیل، انتقام اور قدرتی ماحول میں دخل اندازی جیسے عوامل سے پردہ اٹھاتا ہے۔ دوسری جانب اس میں بہت ساری اچھائیوں مثلاً قبائلی طرز کی سادہ زندگی، مہمان نواز، رشتوں میں وفاداری، فرائض منصبی کی انجام دہی میں فرض شناسی، قدرتی ماحول اور جنگلات کے تحفظ میں احساس ذمہ داری اور علاقائی خوبصورتی کو شاندار انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

ناول میں ایک طرف قبائلی طرز کے معاشروں میں تعلیمِ نسواں پر بے جا پابندی، پیدائشی طور پر شادی کے رشتوں سے منسوبی، کم عمری اور جبری شادیوں اور غیرت کے نام پر قتل جیسے رجحانات کو عیاں کیا گیا ہے، تو دوسری جانب اولاد کی تعلیم و تربیت کی خاطر معاشرتی قدغنوں سے بغاوت اور والدین اور بچوں کی باہمی رضامندی سے طے پانے والے رشتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

ناول کے کرداروں میں سلمان احمد کو ایک مہربان اور پیشہ ور فاریسٹ افسر جبکہ جمشید کو انتہائی سنگدل، ضدی، لالچی اور جرائم پیشہ شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح حنا کا کردار قبائلی روایات کے برعکس ایک پڑھی لکھی دوشیزہ کا ہے، جسے علاقائی رسم و رواج کے برعکس پسند کی شادی زندگی بھر کا عذاب اور انجام قتل کی صورت میں ملتا ہے۔ نمبردار عنایت کا کردار قبائلی روایات کے تحت ایک علاقائی معتبر، مہمان نواز، روشن خیال اور تعلیم دوست شخصیت، فقیر اللہ کا کردار قبائلی روایت میں اردلی اور جمدر کو ایک مکار، منافق اور لالچی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح سردارنی سمورا اور تکاشہ کو بھی تخت و تاج کی حرص میں اپنوں سے دھوکہ دہی، غلط چالاکی، فریبی، سازشی اور مکار جبکہ شمیمہ خاتون کو ایک معزز اور نیک دل قبائلی خاتون کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

ناول کا ایک پلاٹ عشق و محبت اور پسند کی شادی کے کرداروں پر مشتمل ہے، جس میں خوشی، سکون، اطمینان اور رنج و غم کے ملے جلے لمحات کو انسانی جذبات و احساسات سے اس قدر جوڑا گیا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسا کہ یہ واقعات آپ کی آنکھوں کے سامنے یا کسی ٹی وی اسکرین پر رونما ہو رہے ہوں۔ ناول ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ مکالموں، طنز و مزاح اور جبر و قہر کے ڈائیلاگز سے بھرپور ہے جو قارئین کی دلچسپی میں ایندھن کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ بھی سلیمی صاحب کی اس نئی تصنیف کا مطالعہ کرنے کی سعادت حاصل کریں تو مجھے یقین ہے کہ آپ اس ناول میں بہت کچھ منفرد پائیں گے۔

ادب کی چاشنی اور پرائے قارئین کو اپنی گرفت میں رکھنے کے تمام تر اوصاف سے مزین ناول ”کھڑکی بھر چاند“ مصنف احمد سلیم سلیمی صاحب کی فنی ذکاوت اور تخلیقی ریاضت کو اس قدر دوام بخشے گی جس کا انہیں خود بھی کبھی اندازہ نہ ہو گا۔ آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سلیمی صاحب کے زورِ قلم میں مزید طاقت عنایت فرمائے اور ادبی دنیا میں دن دگنی رات چگنی ترقی عطا کرے۔ آمین!

Facebook Comments HS